تبصرہ بر کتاب " حرف سے آگہی تک "
صفحات : 240
مؤلف :حضرت مولانا سراج الھدیٰ ندوی ازہری 
استاذ حدیث وفقہ دارالعلوم سبیل السلام حیدر آباد 

 ✍🏻*گل رضا راھی ارریاوی* 

       کتاب کیا ہے ؟ کتاب کسے کہتے ہیں ،اس کا اطلاق کس پر ہوتاہے ،پہلے کس پر ہوا؟ ارباب علم ودانش ،احباب فکر ونظر اسے بخوبی جانتے ہیں ،کتابیں پہلے بھی تھیں ؛لیکن وہ اس نام سے معروف نہیں تھی ،قرآن نے اس کو صحیفے سے تعبیر کیاہے جیسا کہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے "صحف اِبراھیم و موسی "
 کتاب کا اطلاق قرآن مجید پر پہلے ہوا جیساکہ فرمان باری تعالیٰ ہے! 'ذالک الکتاب لاریب فیه"
بعد میں اس کا اطلاق جمع شدہ مرتب تحریرات میں ہونے لگا - وہیں سے اس کا عرف چل پڑا کہ تحریرات کے مجموعہ کو کتاب کہا جانے لگا -

کتابیں انسان کا بہترین سرمایہ ہوتی ہے ،کتاب انسان کا حسن ہے جو انسان کو قدر ومنزلت ،عظمت و رفعت عطا کرتاہے، شعور وآگہی سکھاتا ہے ،کتاب گفتگو کے اصول وآداب بتاتا ہے،کتابوں کی ایک الگ دنیا ہے اس کو وہی جانتا ہے جسے علمی ذوق ، شوق مطالعہ کی توفیق حاصل ہو - 

   کتابیں بہترین رفیق ہوتی ہیں ،زندگی کے آداب ،تلخ تجربہ ماضی ،حال اور مستقبل کا آئینہ دار بھی -
ایک آدمی جو حال میں ہو کتابوں کے ذریعے ماضی حال مستقبل تینوں کا کتاب کی روشنی میں ادراک کرسکتا ہے،اس کا عکس و نقش بالکل ہو بہو قاری کے سامنے آجاتاہے ایسا لگتا ہےکہ وہ اس زمانے کا شاہد ہے -

اب جب کہ علم شریعت کا پورا ذخیرہ میں اسی میں پنہاں ہے اور اسی سے علم شریعت کو جانا جاسکتا ہے تو اس کی اہمیت و افادیت مزید دوبالا ہوجاتی ہے -
علم شریعت کے علاوہ دیگر علوم بھی کتابوں میں ہی پاۓ جاتے ہیں ،تاریخ وسیر سوانح و ملفوظات، ناول و افسانہ وغیرہ سب کتابوں کا حصہ ہے حتی کہ اشعار کا ذخیرہ بھی کلیات اور دیگر ناموں سے کتابوں میں موجود ہے
اب انسان مخلتف المزاج ہونے کے باوجود کتابوں سے فرار حاصل نہیں کرسکتا کیوں کہ وہ اس کی سامان تسکین کتابوں میں ہی ہے ،
جو ناول و افسانہ اور تاریخ پڑھنے کا مشتاق ہو اسے بھی کتابوں کی طرف رجوع کرنا پڑے گا اور مذہبی آدمی ہو اس کےلیے کتابوں کے علاوہ چارۂ کار ممکن نہیں ،پھر ذوق انسان کو مطلوبہ کتابوں تک کھینچ لاتی ہے 
انساں پڑھتا ہے تو علم کے نئے دریچے وا ہوتے ،علم میں وسعت و گہرائی پیدا ہوتی ہے،فکر میں کشادگی آتی ہے ،فکری کجی دور ہوتی ہے، انسانی صلاحیتوں میں درک و کمال پیدا ہوتا ہے ،راہ مستقیم آسان ہوتاہے -

صاحب ذوق ،نفیس المزاج انسان کےلیے کتابوں کے بغیر رہنا ذہنی اذیت سے کم نہیں کیوں کہ کتابوں سے انہیں سکون ملتا ہے ،زندگی کی نئی دریافتگی حاصل ہوتی
 ہے ،بس کتاب کتاب ہو جس کو پڑھنے میں مزہ آۓ ،ذہن قبول کرے ،دل سرور حاصل کرے ،ایسی کتابیں مصنف کی قبولیت کی علامت ہوتی ہے اور اس کی علمی و عملی صلاحیت کا مظہر ہوتی ہے ،انہیں مصنفین میں ایک نمایاں نام معروف عالم دین مفسر قرآن حضرت مولانا ومفتی سراج الہدی ندوی ازھری دامت برکاتہم ہیں ،حضرت کے گوہر بار قلم سے کئی یک کتابیں منظر پر آکر قبولیت عامہ حاصل کر چکی ہے، ان میں آسان ترجمہ و تفسیر ،کلام شمس ،تاب سخن ،صداۓ دل وغیرہ قابل ذکرہے - 
انہیں کتابوں میں ایک نئی کتاب " *حرف سے آگہی تک*" سال گزشتہ منظر عام پہ آئی ،کئی مرتبہ یہ کتاب میری نظر نواز تو ہوئی مگر الأمور مرھونۃ بأوقاتھا کی وجہ سے باضابطہ مطالعہ نہیں ہوسکا ،کچھ دن پہلے برادرم مولوی عادل سلمہ کی وساطت سے یہ میرے پاس آئی ،جو احقر کو امروہہ لےجانا تھا امروہہ کا سفر شروع کیا تو میرے پاس کئی یک کتابیں تھیں؛ مگر دل اسی کی طرف مائل ہوا اور پڑھنا شروع کیا، امروہہ پہونچتے پہونچتے آدھی سے زائد حصہ کا مطالعہ ہوگیا ،پھر امروہہ میں اس کو پورا کرلیا ،یہ کتاب اس قدر دلنشیں تھیں کہ مکمل پڑھے بغیر سکون کا سانس نہیں لے سکا حتی جمعہ کے بعد کچھ دیر میں کتاب مکمل کرکے سویا -
 کتاب بہت قیمتی مضامین پر مشتمل ہے جس کی مصنف دامت برکاتہم نے شروع میں وضاحت کردی ہے، کتابوں کا تعارف ان کے عم محترم حضرت مولانا ومفتی قاضی ثناء الہدی قاسمی قاضی امارت شرعیہ پٹنہ نے کرادیاہے -
کتاب تین حصوں میں تقسیم ہے ،پہلا حصہ اسلامیات، دوسرا ادبیات اور تیسرا فکریات ،
تینوں حصوں میں جاندار و شاندار مضامین جمع ہیں جس میں زمانے تقاضے کو ملحوظ رکھا گیاہے 
پہلے حصہ میں اخلاص نیت عمل کی روح ،صحابۂ کرام قرآن کی نظر میں ،صحابۂ کا قرآن سے شغف ، قرآن اور انسانی اخوت و بھائی چارگی، عصرحاضر میں سیرت ابراھیمی کی معنویت ،قادیانیت ،ہجری تقویم کی ابتدا کب ،کیسے ہوا اور اس طرح کی تاریخی چیز ذکر کی گئی ہیں ،ادبیات کے تحت اردو صحافت اور شعرا کا تعارف کرایا گیا؛ جن میں ولی دکنی ،الطاف حسین اور مولانا آزاد رحمھم اللہ کا تذکرہ ہے،فکریات کے تحت انسان شناسی ، نہ کر تقدیر کا شکوہ ،فلسطین لہو لہو وغیرہ جیسے حساس مضامین شامل کرکے انسانی روح کو بیدار اور قلب کو جھنجھوڑا گیا ہے
ہر مضمون کی الگ خوبی وکشش ہے جو دوسرے سے مختلف وممتاز ہے ،32 عنوانات پر مشتمل یہ کتاب اپنا الگ رنگ و اسلوب کی وجہ سے ایک حسین مجموعہ ہے،منصف کے عم محترم نے کتاب کی وجہ تسمیہ جو ایک استعاراتی نام ہے اس کو حل کرتے ہوۓ بتایا کہ ابتداۓ زمانے کے مضامین کو حرف سے تعبیر کیا گیا اور موجودہ مضامین کو آگہی سے تعبیر کیا
ظاہر ہے ابتداۓ زمانے کی بات اور ہے علمی پختگی کے بعد جو قلم اٹھے اس کی بات اور ہوتی ہے 
بہرحال کتاب بہت دلچسپ جاذب نظر ہے؛ جسے پڑھ کر راقم کو قلبی سکون حاصل ہوا 
کتاب کی لطافت اور ظاہری وباطنی کشش ایسی ہے کہ قاری اس کو مکمل پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا 
جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء آمین 
میری دعا ہے یہ کتاب مصنف کے لیے ذخیرۂ آخرت بنے اور اس سے لوگوں کو مزید استفادے کی توفیق عطا فرماۓ آمین 

اخیر میں علامہ اقبال کا یہ شعر ذکر کرکے اپنے قلم کی حرکت روکتاہوں 
 
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو 
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں