کسی تہذیب کی عظمت اس کی عمارتوں، ہتھیاروں اور معیشت سے پوری طرح نہیں ناپی جا سکتی۔ ایک زیادہ سخت پیمانہ یہ ہے کہ وہ اپنے سے کمزور اور بے زبان مخلوق کے ساتھ کیا برتاؤ کرتی ہے۔ جانور نہ شکایت لکھ سکتے ہیں، نہ عدالت جا سکتے ہیں، نہ احتجاج کر سکتے ہیں۔ بھوک، پیاس، بوجھ اور مار کا جواب ان کے پاس خاموشی ہے۔ اسی خاموشی کے سامنے انسان کا اخلاقی شعور آزمایا جاتا ہے۔
ہر سال 4 اکتوبر کو دنیا کے بہت سے ملکوں میں "ورلڈ اینیمل ڈے" منایا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک عالمی دن ہے جس پر چند تقریبات ہوتی ہیں، پوسٹر لگتے ہیں اور سماجی رابطوں پر پیغامات گردش کرتے ہیں۔ مگر اس موقع کو صرف رسمی دن سمجھ کر گزار دینا بات کو سطحی کر دینا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ انسان کا جانور سے رشتہ کیا ہے۔ کیا جانور محض وسیلہ ہے، یا اللہ کی ایسی مخلوق جس کے ساتھ برتاؤ کا حساب بھی ہوگا؟
اسلام اس سوال کا جواب کسی دن یا مہم کا انتظار کیے بغیر دیتا ہے۔ قرآن جانوروں کو آیاتِ الٰہی میں شمار کرتا ہے اور حدیث میں ایک بلی کی وجہ سے عذاب اور ایک کتے کو پانی پلانے پر مغفرت کا ذکر ملتا ہے۔ اس مضمون میں اس دن کی تاریخ کو اس کی درست حدود میں دیکھا جائے گا، پھر قرآن، حدیث اور فقہ کی روشنی میں جانوروں کے بارے میں اسلامی تصور کو سمجھنے اور موجودہ دور کے مسائل پر اس کے اطلاق کی کوشش کی جائے گی۔
World Animal Day کا تعارف اور تاریخی پس منظر
اس دن کی تاریخ میں کئی باتیں بغیر تحقیق دہرائی جاتی ہیں، اس لیے ثابت شدہ حقائق کو عام روایتوں سے الگ کر کے دیکھنا ضروری ہے۔
معتبر مآخذ کے مطابق اس تحریک کا آغاز جرمنی کے ہائنرِش سمرمین (Heinrich Zimmermann) نے کیا۔ وہ جانوروں کے تحفظ کے حامی مصنف اور صحافی تھے۔ پہلی باقاعدہ تقریب 1925 میں برلن میں ہوئی، اور عام بیان کے مطابق وہ مارچ کی تاریخ میں منعقد ہوئی۔ اس وقت 4 اکتوبر طے نہیں تھا۔ بعض مآخذ کے مطابق جرمنی میں تاریخ کو 4 اکتوبر کی طرف منتقل کرنے کا عمل کچھ برس بعد ہوا۔ 1931 میں اٹلی کے شہر فلورنس میں جانوروں کے تحفظ کی تنظیموں کی بین الاقوامی کانگریس میں اسے عالمی سطح پر 4 اکتوبر کو منانے کی قرارداد منظور ہوئی۔ اس طرح 1931 کو عالمی تاریخ کے تعین کا سال سمجھا جاتا ہے۔
4 اکتوبر کا انتخاب اطالوی راہب فرانسس آف اسیسی (Francis of Assisi، وفات 1226ء) سے جڑا ہے، جنہیں مسیحی روایت میں جانوروں اور فطرت کا سرپرست سمجھا جاتا ہے۔ یہاں دو غلط فہمیاں دور کرنا ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ 4 اکتوبر ان کی وفات کی تاریخ نہیں، ان کے نام سے منسوب تہوار کا دن ہے۔ مسیحی روایت میں ان کی وفات 3 اکتوبر کی شام کو بتائی جاتی ہے۔ دوسری یہ کہ ان کی جانوروں سے محبت کے بہت سے مشہور قصے، جیسے پرندوں کو وعظ سنانا، ان کی وفات کے بعد کی سوانحی اور نیم روایتی کتابوں میں ملتے ہیں۔ ان کی نظم "Canticle of the Creatures" میں تخلیق کے لیے شکر گزاری ضرور ملتی ہے، مگر انہیں جدید معنوں میں "حقوقِ حیوانات" کا علمبردار کہنا تاریخی اعتبار سے کھینچ تان ہوگی۔ 1979 میں پوپ جان پال دوم نے انہیں ماحولیات کا سرپرست قرار دیا۔
ایک اور عام غلط فہمی یہ ہے کہ یہ دن اقوامِ متحدہ کا مقرر کردہ ہے۔ ایسا نہیں۔ اسے مختلف تنظیمیں اور حکومتیں اپنے طور پر مناتی ہیں۔ بیسویں صدی کے اواخر سے برطانیہ کی تنظیم نیچرواچ فاؤنڈیشن (Naturewatch Foundation) اس کے فروغ میں نمایاں رہی ہے۔ آج یہ دن آوارہ جانوروں کی دیکھ بھال، جنگلی حیات کے تحفظ، پالتو جانوروں کی ذمہ دارانہ پرورش اور ظلم کے خلاف شعور بیدار کرنے کا موقع سمجھا جاتا ہے۔ تحقیق کی نظر میں یہ دن ایک انسانی ضمیر کی بیداری کی علامت ہے، مگر اس کی کوئی دینی حیثیت نہیں۔ مسلمان کے لیے سوال یہ نہیں کہ اس دن کو منایا جائے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اس موقع پر اپنی تعلیمات کو کیسے سمجھا اور برتا جائے۔
جانور: انسان کی ملکیت نہیں، اللہ کی مخلوق
اسلامی تصور کی بنیاد یہ ہے کہ جانور خود اللہ کی مخلوق ہیں۔ انسان نے انہیں پیدا نہیں کیا، اس لیے ان کی حیثیت کا فیصلہ اس کی مرضی پر نہیں۔ فقہی اعتبار سے جانور مملوک ہو سکتے ہیں، یعنی کوئی شخص ان کا مالک بن سکتا ہے۔ قرآن اس ملکیت کی حقیقت یوں بیان کرتا ہے:
أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا أَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مَالِكُونَ وَذَلَّلْنَاهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ
"کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے چوپائے پیدا کیے، پھر یہ ان کے مالک ہیں؟ اور ہم نے انہیں ان کے تابع کر دیا، تو ان میں سے بعض ان کی سواری ہیں اور بعض کو وہ کھاتے ہیں۔"
(سورۃ یٰس 36:71–72)
آیت میں انسان کی ملکیت تسلیم کی گئی ہے، مگر اس کی بنیاد اللہ کی عطا اور تسخیر پر رکھی گئی ہے۔ "ذلّلناها لهم" کا مطلب ہے کہ ہم نے انہیں ان کے تابع کیا۔ مالک کا اپنا زور اس کی بنیاد نہیں۔ جو چیز عطا ہو، اس کے ساتھ شکر اور حدود کی پابندی لازم آتی ہے۔
اسی سے انسانی اختیار اور جواب دہی کا تعلق نکلتا ہے۔ قرآن انسان کو زمین میں خلیفہ بنائے جانے کا ذکر کرتا ہے (البقرۃ 2:30)۔ خلافت کا مفہوم مطلق حاکمیت نہیں، بلکہ دوسرے کی دی ہوئی ذمہ داری کے ساتھ تصرف ہے۔ جس کو اختیار ملا اس سے پوچھا بھی جائے گا۔ اس لیے اسلامی فکر میں جانور کا مالک ہونا امانت داری کا ایک درجہ ہے، اس کے ساتھ جو چاہے کر گزرنے کا لائسنس نہیں۔
قرآن مجید میں حیوانات کا تصور
قرآن میں جانوروں کا ذکر ایک ہی زاویے سے نہیں آتا۔ کہیں وہ انسان کے لیے نعمت ہیں، کہیں اللہ کی نشانی، اور کہیں ایسی مخلوق جس کا اللہ کے ساتھ اپنا رشتہ ہے۔
سورۃ الانعام کی یہ آیت اس سلسلے میں بہت اہم ہے:
وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم ۚ مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ
"اور زمین پر چلنے والا کوئی جانور اور اپنے دونوں پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں جو تم جیسی جماعتیں نہ ہوں۔ ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر سب اپنے رب کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے۔"
(سورۃ الانعام 6:38)
"امم امثالکم" کی تشریح میں مفسرین کے اقوال یکساں نہیں۔ ابن کثیر اور طبری جیسے مفسرین کے ہاں اس کا مفہوم یہ لیا گیا ہے کہ جانوروں کی بھی اپنی الگ جماعتیں اور اصناف ہیں، وہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں، اسی کے رزق پر پلتے ہیں اور اسی کے علم میں ہیں۔ اس آیت سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ جانور انسان کے برابر ہیں یا انہیں انسانوں جیسے حقوق حاصل ہیں۔ آیت کا درست پیغام یہ ہے کہ ہر جاندار کا اپنا وجود اور اپنا مقام ہے، اور اس کا معاملہ بھی بالآخر اللہ کے پاس ہے۔
دوسرے مقام پر جانوروں کو نعمت اور ذمہ داری کے ساتھ بیان کیا گیا:
وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا ۗ لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَىٰ بَلَدٍ لَّمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنفُسِ ۚ إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
"اور چوپایوں کو اسی نے پیدا کیا، ان میں تمہارے لیے گرمی کا سامان اور دوسرے فائدے ہیں، اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو۔ اور ان میں تمہارے لیے رونق بھی ہے جب تم شام کو انہیں واپس لاتے ہو اور جب صبح چرنے کے لیے چھوڑتے ہو۔ اور وہ تمہارے بوجھ ایسے شہر تک اٹھا لے جاتے ہیں جہاں تم جان کی مشقت کے بغیر نہ پہنچ سکتے۔ بے شک تمہارا رب نہایت شفیق، رحم کرنے والا ہے۔"
(سورۃ النحل 16:5–7)
اس کے بعد آیت 8 میں گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کا ذکر ہے کہ وہ سواری اور زینت کے لیے ہیں۔ یہاں نعمت کا بیان خود انسان سے ایک سوال کرتا ہے۔ جو جانور بوجھ اٹھاتا ہے، دودھ دیتا ہے اور سفر ممکن بناتا ہے، کیا اسے بھوکا، زخمی اور تھکا ہوا چھوڑ دینا شکر گزاری کہلا سکتا ہے؟ آیت میں ان نعمتوں کے آخر میں "رؤوف رحیم" کی صفت آنا بھی توجہ طلب ہے۔
شہد کی مکھی کا ذکر یوں آیا:
وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ
"اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور ان (چھتوں) میں جو لوگ بناتے ہیں، گھر بنا۔"
(سورۃ النحل 16:68)
یہاں "وحی" سے مراد مفسرین کے نزدیک فطری الہام ہے، نبوی وحی نہیں۔ اس مخلوق کے نظم اور عمل کو اللہ کی ہدایت کے تحت دکھایا گیا ہے، اور آیت 69 میں اسے غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانی کہا گیا۔
جانوروں کی عبادت اور تسبیح کا ذکر بھی قرآن میں ملتا ہے:
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ ۖ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ
"کیا تم نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اور پر پھیلا کر اڑنے والے پرندے بھی، اللہ کی تسبیح کرتے ہیں؟ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کو جانتا ہے۔"
(سورۃ النور 24:41)
اسی طرح سورۃ الحج (22:18) میں زمین و آسمان کی مخلوقات کے اللہ کے سامنے سجدہ کرنے کا ذکر ہے، جن میں "الدواب" یعنی جانور بھی شامل ہیں۔ ان آیات کی کیفیت کی تفصیل میں مفسرین کی آرا مختلف ہیں کہ یہ تسبیح اور سجدہ حقیقی ہیں یا تکوینی۔ مگر مشترکہ پیغام واضح ہے کہ جانور اللہ کے نظامِ تخلیق میں خاموش تماشائی نہیں۔ ان کا اپنا رشتہ خالق کے ساتھ ہے۔
اور سورۃ الغاشیہ میں انسان کو دعوتِ فکر دی گئی:
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ
"تو کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیا گیا؟"
(سورۃ الغاشیہ 88:17)
یہ آیت اس عرب ماحول میں آئی جہاں اونٹ روزمرہ زندگی کا مرکز تھا۔ اس میں جانور کو دیکھنے کا مقصد خالق کی حکمت تک پہنچنا ہے۔ جو مخلوق نشانی ہو، اسے محض مادی سامان سمجھنا قرآن کی نظر سے ہم آہنگ نہیں۔
سیرتِ نبوی ﷺ اور جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک
قرآن کے اصول نبی کریم ﷺ کی سنت میں عملی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ بنیادی کلیہ وہ حدیث ہے جس میں فرمایا گیا کہ رحم کرنے والوں پر رحمٰن رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا (سنن ابی داؤد 4941، جامع ترمذی 1924)۔ "من في الأرض" کے الفاظ جانوروں کو بھی شامل کر سکتے ہیں، اور شارحین نے ان کی عمومیت کا ذکر کیا ہے۔ صحیح مسلم (2593) کی روایت میں فرمایا گیا کہ اللہ نرمی والا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے۔
جانوروں کے معاملے میں احادیث ایک ایسا اخلاقی منظر بناتی ہیں جو دو طرف سے مکمل ہے۔ ایک طرف ظلم کی وعید ہے، دوسری طرف احسان کا اجر۔ مفہوم کے لحاظ سے صحیح بخاری (3318، 2365) اور صحیح مسلم (2242) کی روایت میں ہے کہ ایک عورت ایک بلی کی وجہ سے جہنم میں گئی۔ اس نے اسے باندھ رکھا، نہ خود کھلایا پلایا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی، یہاں تک کہ وہ مر گئی۔ اس روایت میں جرم کی نوعیت قابلِ غور ہے۔ عورت نے بلی کو مارا نہیں، اسے بے بسی میں چھوڑ دیا۔ یعنی جس جاندار کی زندگی انسان کے قبضے میں آ جائے، اس کی بنیادی ضروریات پوری کرنا اس کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
دوسری طرف صحیح بخاری (2363) اور صحیح مسلم (2244) میں مفہوماً ہے کہ ایک شخص نے سخت پیاس میں کتے کو کیچڑ چاٹتے دیکھا۔ اس نے اپنے چمڑے کے موزے میں پانی بھر کر اسے پلایا تو اللہ نے اس کے عمل کی قدر کی اور اسے بخش دیا۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا جانوروں میں بھی ہمارے لیے اجر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر تر جگر والے (جاندار) میں اجر ہے۔ ایک ایسا جانور جسے عام طور پر ناپاک یا حقیر سمجھا جاتا ہے، اس کے ساتھ احسان کو مغفرت کا ذریعہ بنا دیا گیا۔
ذبح کے بارے میں صحیح مسلم (1955) میں شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ نے ہر چیز میں احسان کو لازم کیا ہے، اس لیے جب قتل کرو تو اچھے طریقے سے کرو، اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، اور تم میں سے ہر ایک اپنی چھری تیز کرے اور اپنے ذبیحے کو آرام پہنچائے۔ جس شریعت میں جانور کا کھانا جائز ہے، اسی میں اس کے ذبح میں بھی رحمت کی تعلیم ہے۔ یہاں احسان کا لفظ پورے مضمون کی کنجی ہے۔ گوشت کھانے کی اجازت اور بے رحمی کی ممانعت ایک دوسرے سے متصادم نہیں۔
زندہ جانور کو نشانہ بنانے کی ممانعت بھی واضح ہے۔ صحیح بخاری (5515) اور صحیح مسلم (1958) کی روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے قریش کے کچھ نوجوانوں کو ایک پرندے کو نشانہ بنا کر تیر اندازی کرتے دیکھا۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ کس نے کیا؟ پھر فرمایا کہ جس نے یہ کیا، اس پر اللہ کی لعنت ہو، اور نبی ﷺ نے اس شخص پر لعنت فرمائی جو کسی زندہ چیز کو نشانہ بنائے۔ صحیح مسلم (2117) میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ کا گزر ایک گدھے سے ہوا جس کے چہرے پر داغا گیا تھا، تو آپ نے ناپسندیدگی فرمائی اور اس عمل پر لعنت کے الفاظ فرمائے۔
بوجھ اور بھوک کے بارے میں سنن ابی داؤد (2548) کی روایت میں آپ ﷺ نے ایک اونٹ کو دیکھا جس کی پیٹھ پیٹ سے لگ چکی تھی اور فرمایا کہ ان بے زبان جانوروں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، انہیں اچھی حالت میں سواری کے لیے استعمال کرو اور اچھی حالت میں ہی کھاؤ۔ اسی کتاب (2549) میں انصاری کے باغ کے اونٹ کا واقعہ ہے جس میں اونٹ نے آپ ﷺ کے سامنے اپنی بے چینی ظاہر کی اور آپ ﷺ نے اس کے مالک کو تنبیہ فرمائی کہ تم اسے بھوکا رکھتے اور تھکاتے ہو۔ یہ روایات ان محدثین کے نزدیک قابلِ قبول سمجھی گئی ہیں جنہوں نے سنن ابی داؤد کی احادیث پر کلام کیا ہے۔ تاہم فن کی مزید تفصیل کے لیے اہلِ علم کی کتبِ تخریج سے رجوع بہتر ہے۔
اسی کتاب (2675) میں ایک سفر کا واقعہ ہے کہ کچھ صحابہ نے ایک چڑیا کے بچے اٹھا لیے تو چڑیا بے قراری سے پھڑپھڑانے لگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے اس کے بچے کی وجہ سے کس نے تکلیف دی؟ اس کے بچے اسے لوٹا دو۔ اسی موقع پر چیونٹیوں کی بستی جلی ہوئی دیکھ کر فرمایا کہ آگ کے رب کے سوا کسی کو یہ حق نہیں کہ آگ سے سزا دے۔ ان واقعات میں رحمت کا دائرہ اس حد تک پھیلا ہوا ہے کہ ماں اور بچے کا فطری رشتہ بھی قابلِ لحاظ ہے۔
اسلامی فقہ اور جانوروں کے حقوق و استعمال کی حدود
یہاں ایک اہم فرق واضح کرنا ضروری ہے۔ اسلام جانوروں کے ہر قسم کے استعمال کو ممنوع نہیں کہتا۔ قرآن خود کھانے، سواری، باربرداری اور دیگر فوائد کی اجازت دیتا ہے (النحل 16:5–8، یٰس 36:72)، اور قربانی کا حکم بھی شریعت میں موجود ہے۔ اس لیے "جانوروں کے حقوق" کی وہ اصطلاح جو ہر طرح کے استعمال کی نفی کرتی ہے، کلاسیکی اسلامی تصور سے مطابقت نہیں رکھتی۔
اسلامی فقہ میں فرق اس بات کا ہے کہ استعمال جائز اور ضرورت کے مطابق ہو، یا غیر ضروری اذیت اور ظلم پر مبنی۔ فقہائے شافعیہ اور حنابلہ کے ہاں عموماً یہ تصریح ملتی ہے کہ جانور کے مالک پر اس کا نفقہ، یعنی چارہ اور پانی، لازم ہے، اور اگر وہ ادا نہ کرے تو اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے یا جانور کو بیچنے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔ ابنِ قدامہ کی "المغنی" اور امام نووی کی تصانیف میں اس نوعیت کی بحثیں ملتی ہیں۔ حنفی فقہ میں بھی مالک پر دیانتاً یہ ذمہ داری مانی گئی ہے، البتہ عدالتی نفاذ کی تفصیلات میں فقہا کے ہاں فرق ہے۔
عز الدین بن عبد السلام (م 660ھ) نے اپنی کتاب "قواعد الأحکام فی مصالح الأنام" میں جانوروں کے مالک پر عائد ذمہ داریوں کا باقاعدہ ذکر کیا ہے۔ ان میں جانور کا چارہ فراہم کرنا، طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنا اور ایسی سزا سے بچنا شامل ہیں جو اس کی جان کے لیے نقصان دہ ہو۔ یہ بحث اس لیے اہم ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جانوروں کے مالک پر ذمہ داریوں کا تصور اسلامی علمی روایت میں اجنبی نہیں۔ البتہ اس کے لیے "حقوق" کی وہی جدید اصطلاح اور اس کے ساتھ جڑا ہوا فلسفیانہ ڈھانچہ وہاں موجود نہیں۔
اسلامی شریعت ایذا رساں جانوروں کے معاملے میں بھی توازن رکھتی ہے۔ صحیح بخاری (3314) اور صحیح مسلم (1198) میں پانچ مضر جانوروں کا ذکر ہے جنہیں حرم میں بھی مارا جا سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی جان اور حفاظت کو بھی لحاظ ہے، اور رحمت کا مطلب ہر قسم کے خطرے سے آنکھ بند کر لینا نہیں۔ اسی طرح شکار اپنی ضرورت اور خوراک کے لیے جائز ہے، البتہ محض تفریح کے لیے شکار کو متعدد فقہا نے مکروہ یا ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔
جانوروں پر ظلم: ایک اخلاقی اور دینی مسئلہ
ظلم کا تصور اسلامی اخلاق میں محض قانون شکنی نہیں، ایک روحانی بیماری ہے۔ اگر ایک بلی کو بھوکا باندھ رکھنا جہنم کا سبب بن سکتا ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جانور کے ساتھ کیا گیا ظلم بھی اللہ کی نظر میں معمولی نہیں۔ اس کے پیچھے ایک گہرا اخلاقی ربط ہے۔ جو انسان بے زبان کی تکلیف پر دل میں کوئی کھٹک محسوس نہیں کرتا، اس سے دوسرے کمزوروں کے ساتھ انصاف کی توقع بھی کمزور پڑتی ہے۔ یہ بات قرآن یا حدیث کی کوئی نص نہیں، بلکہ اخلاقی بصیرت ہے جسے اہلِ نظر ہمیشہ محسوس کرتے آئے ہیں۔
ظلم کی صورتیں کئی ہو سکتی ہیں: بھوک اور پیاس میں رکھنا، طاقت سے زیادہ بوجھ لادنا، بلاوجہ مارنا یا اذیت دینا، نشانہ بازی کے لیے استعمال کرنا، اور بیمار یا زخمی ہونے پر علاج سے منہ موڑ لینا۔ ان سب کے پیچھے ایک ہی ذہنی رویہ ہے جو جانور کو محض سامان سمجھتا ہے۔ اسلامی تعلیم اس رویے کو توڑتی ہے، کیونکہ وہ ہر عمل کو اللہ کے سامنے جواب دہی کے دائرے میں رکھتی ہے۔
جدید دنیا اور حیوانی بہبود کے چیلنجز
آج کی دنیا میں جانوروں کے مسائل ایسی شکلوں میں سامنے آئے ہیں جن کی نظیر کلاسیکی فقہی کتابوں میں نہیں ملتی۔ یہاں احتیاط لازم ہے کہ جدید مسائل کا حل زبردستی کسی آیت یا حدیث میں نہ ڈھونڈا جائے۔ زیادہ مناسب طریقہ یہ ہے کہ شریعت کے وسیع اصولوں، یعنی رحمت، احسان، عدل اور ضرر کی ممانعت، کو ان پر لاگو کیا جائے۔
آوارہ جانوروں کا مسئلہ بہت سے شہروں میں انسانی سلامتی اور جانوروں کی بہبود کے درمیان کشمکش کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ اسلامی اصول دونوں طرف توجہ مانگتا ہے۔ انسانی جان اور تحفظ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور جانور کو بلاوجہ اذیت دینے کی بھی اجازت نہیں۔ اس لیے منصفانہ حل وہ ہوگا جو علاج، نگہداشت اور شہری انتظام کے ذریعے دونوں تقاضوں کو سنبھالے۔ ظلم اور بے رحمی ایسا حل نہیں۔
پالتو جانور کو شوق سے پال کر بوجھ سمجھ کر سڑک پر چھوڑ دینا بھی اسی دائرے میں آتا ہے۔ بلی والی حدیث کے مفہوم کی روشنی میں جس شخص نے جانور کو اپنے قبضے میں لیا، اس پر اس کی ضروریات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس لیے جانور پالنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر ہونا چاہیے، اور اگر کسی وجہ سے نبھانا ممکن نہ رہے تو اسے محفوظ ہاتھوں میں دینے کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔
جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت، جانوروں کی اسمگلنگ اور ناپید ہوتی انواع کے معاملات میں اسلامی تصور "فساد فی الارض" کی ممانعت اور "لا ضرر ولا ضرار" کے اصول سے قریب ہے۔ یہ اصول سنن ابن ماجہ (2341) کی روایت میں آیا ہے۔ اگر کوئی عمل ماحولیاتی توازن کو بگاڑے اور مخلوق کو ناپید ہونے کی طرف لے جائے تو اسے محض تجارتی منافع کی بنیاد پر جائز قرار دینا اسلامی اخلاقی روح سے ہم آہنگ نہیں۔ اسلامی تاریخ میں حَرَم اور حِمیٰ جیسے تصورات، یعنی مخصوص علاقوں کو چراگاہ، درخت اور شکار کے تحفظ کے لیے مخصوص کرنا، بھی ایسی ہی فکر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
صنعتی پیمانے پر جانور پالنے کے مسئلے میں علما کی آرا مختلف ہیں۔ بعض اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تنگ جگہ، غیر فطری ماحول اور مسلسل اذیت احسان کے اصول سے متصادم ہیں، جبکہ دوسرے اسے جائز پیداواری نظام کے دائرے میں دیکھتے ہیں بشرطیکہ بنیادی ضروریات پوری ہوں۔ اس معاملے میں کوئی ایک قطعی رائے پیش کرنا درست نہ ہوگا۔ البتہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ جہاں جانور کو مسلسل غیر ضروری اذیت میں رکھا جائے، وہاں اسلامی اخلاقی اصول سوال اٹھاتا ہے۔ ذبح کے طریقوں اور بے ہوش کرنے سے متعلق فقہی بحثیں بھی موجود ہیں، اور ان میں اہلِ علم کا اختلاف ہے۔
جانوروں پر سائنسی تجربات کے بارے میں معاصر علما کی عام رائے یہ رہی ہے کہ انسانی فلاح کے ٹھوس فائدے کے لیے تجربہ جائز ہو سکتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اذیت کم سے کم ہو اور متبادل دستیاب ہونے پر غیر ضروری تجربات سے اجتناب کیا جائے۔ یہ رائے مجتہدین کے اصولی استنباط پر مبنی ہے، کسی ایک صریح نص پر نہیں۔ کھیل اور تفریح کے لیے شکار، جانوروں کی لڑائیاں اور تماشے کا معاملہ بھی اسی ذیل میں آتا ہے، کیونکہ ان میں مقصد ضرورت نہیں، لذت ہوتی ہے۔
کام کرنے والے جانوروں، جیسے بوجھ ڈھونے والے گدھے، گھوڑے اور بیل، کے ساتھ ظلم کی صورتیں ہمارے معاشروں میں عام ہیں۔ پانی، سایہ اور آرام سے محرومی اور زخمی ہونے کے باوجود کام لینا سنن ابی داؤد کی مذکورہ تنبیہ کے براہِ راست مصداق ہیں۔ ان معاملات کو سمجھنے کے لیے کسی جدید نظریے کی ضرورت نہیں، حدیث کی سادہ تنبیہ کافی ہے۔
World Animal Day اور اسلامی تصورِ رحمت: ایک ممکنہ مکالمہ
اس دن اور اسلامی تعلیم کے درمیان کئی اشتراکات ہیں، اور کچھ فرق بھی۔ اشتراک یہ ہے کہ دونوں بے زبان مخلوق کی تکلیف کو اخلاقی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ جدید حیوانی حقوق کی بعض تحریکیں ہر طرح کے استعمال کو غلط قرار دیتی ہیں، جبکہ اسلام جائز استعمال اور ظلم کے درمیان لکیر کھینچتا ہے۔ اس کی بنیاد کسی حقوق کی فلسفیانہ نظریاتی بحث پر نہیں، اللہ کی طرف سے عطا کی گئی اجازت اور حدود پر ہے۔
اس لیے مسلمان کے لیے مکالمے کا درست طریقہ نہ تو اس دن کو بلا سوچے قبول کر لینا ہے اور نہ اسے محض غیر اسلامی کہہ کر رد کر دینا۔ بہتر رویہ یہ ہے کہ اس موقع کو اپنی تعلیمات کی یاد دہانی اور عملی اصلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔ سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہمارے اپنے محلوں اور گھروں میں جانوروں کا کیا حال ہے، اور مدرسوں، مسجدوں اور خطبوں میں اس موضوع کو کتنی جگہ ملتی ہے۔ اسلام کی رحمت کسی تاریخ کی پابند نہیں، اور اس کا مطالبہ سال کے ہر دن ہے۔
انسان، امانت اور مخلوقاتِ خدا
اس پورے بیان کا حاصل یہ ہے کہ اسلام جانور کے بارے میں ایک ایسا نقطۂ نظر پیش کرتا ہے جو نہ انسان کی بالادستی کو بے لگام چھوڑتا ہے اور نہ اس کی ضرورتوں سے انکار کرتا ہے۔ جانور اللہ کی مخلوق ہیں، نعمت بھی ہیں اور نشانی بھی، اور ان کے ساتھ کیے گئے ہر برتاؤ کا حساب اللہ کے ہاں ہے۔ بلی کی حدیث اور کتے کو پانی پلانے والے شخص کی روایت میں گویا دو ترازو ہیں۔ ایک میں ظلم کا وزن ہے اور دوسرے میں احسان کا۔
شاید سب سے گہرا سوال یہ ہے کہ جو انسان اپنے سے کمزور کے ساتھ رحم نہ کر سکے، کیا وہ اپنے رب سے رحم کی توقع رکھ سکتا ہے؟ حدیث کا اعلان ہے کہ زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ اس رحمت کا امتحان وہیں ہوتا ہے جہاں کوئی دیکھنے والا نہ ہو، کوئی حقوق مانگنے والا نہ ہو اور کوئی سزا کا خوف نہ ہو۔ ایسے لمحے میں انسان کا فیصلہ اس کے ایمان کی اصل تصویر دکھاتا ہے۔
چنانچہ ورلڈ اینیمل ڈے ہمیں ایک دن کی فکر نہیں، ایک مستقل رویہ یاد دلاتا ہے۔ وہ رویہ جس میں راستے کے پیاسے کتے کے لیے پانی کا ایک پیالہ، بوجھ تلے دبے گدھے کے لیے رحم کا ایک لمحہ اور کسی پرندے کے گھونسلے کے لیے تحفظ کا ایک فیصلہ شامل ہو۔ اور یہی وہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہیں جن کا اجر حدیث کے مطابق اللہ کے ہاں ضائع نہیں جاتا۔
تحریر : شیخ مصطفی الرحمٰن،
دار الہدیٰ اسلامک یونیورسٹی