Translation unavailable. Showing original.
انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت و اہمیت
02 اکتوبر، 2026
انفاق فی سبیل اللہ اسلام کے عظیم مالی احکام اور ایمان کے عملی مظاہر میں سے ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں خصوصاً مال و دولت کو اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کی خوشنودی اور شرعی مصالح کے لیے خرچ کرے، قرآن و سنت کی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ مال انسان کے پاس محض ذاتی تصرف اور دنیاوی تفاخر کے لیے نہیں بلکہ ایک امانت، آزمائش اور ذمہ داری کے طور پر ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ فِيهِ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اس نے تمہیں نائب بنایا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے اور انسان کو جو کچھ حاصل ہے وہ اللہ کی عطا اور اس کی طرف سے سپرد کردہ امانت ہے، لہٰذا مال کا صحیح استعمال یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حقوق ادا کیے جائیں اور اسے خیر و بھلائی کے کاموں میں صرف کیا جائے، اسی لیے قرآن مجید نے اہل ایمان کی بنیادی صفات میں انفاق کو بھی شامل فرمایا الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ گویا ایمان صرف قلبی تصدیق کا نام نہیں بلکہ اس کا ایک عملی تقاضا یہ بھی ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ دولت میں سے اس کی رضا کے لیے خرچ کرے، انفاق انسان کے دل سے مال کی محبت اور بخل کی بیماری کو کم کرتا، سخاوت اور ایثار پیدا کرتا اور معاشرے میں ہمدردی و مواسات کی روح بیدار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو، اور تم جو کچھ خرچ کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ اس آیت میں انفاق کے لیے ایثار اور اخلاص کی طرف رہنمائی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مطلوب صرف یہ نہیں کہ انسان کوئی چیز دے دے بلکہ یہ بھی مطلوب ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی پسندیدہ اور قیمتی چیزوں میں سے خرچ کرے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے نزول کے بعد اپنا محبوب باغ اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس جذبۂ ایثار کو پسند فرمایا اور اسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں خرچ کرنے کی ہدایت فرمائی، اس سے معلوم ہوا کہ انفاق میں رشتہ داری، ضرورت اور مصلحت کا لحاظ بھی شرعی مطلوب ہے؛ انفاق کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس کے اجر کو کئی گنا بڑھانے کا وعدہ فرمایا مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں نکلیں، ہر بالی میں سو دانے ہوں، اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے مزید بڑھا دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، خوب جاننے والا ہے۔ یعنی ایک دانہ سات سو دانوں کا سبب بن سکتا ہے، اسی طرح ایک خلوص پر مبنی انفاق اللہ تعالیٰ کے فضل سے عظیم اجر کا ذریعہ بن سکتا ہے، اس لیے مومن کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ میں نے کتنا دیا بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ کس نیت سے دیا، کس مال سے دیا اور کس مستحق پر خرچ کیا؛ قرآن مجید نے انفاق کے مال کے پاکیزہ ہونے کی بھی تاکید فرمائی يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے خرچ کرو، اور خراب چیز خرچ کرنے کا ارادہ نہ کرو جسے تم خود بھی آنکھیں بند کیے بغیر قبول نہ کرو گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں انفاق کی قدر صرف مقدار سے نہیں بلکہ مال کی پاکیزگی اور دینے والے کے اخلاص سے بھی ہوتی ہے، حرام یا ناقص مال سے خیر کا کام کرنا مطلوبہ انفاق کے معیار کو پورا نہیں کرتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک ہی کو قبول فرماتا ہے؛ اسی طرح صدقہ و خیرات کے بعد احسان جتانا، محتاج کو اذیت دینا یا اس کی عزت نفس مجروح کرنا بھی انفاق کی روح کے خلاف ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں، پھر اپنے خرچ کیے ہوئے مال کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے، نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ پھر فرمایا قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ اچھی بات اور درگزر اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد ایذا پہنچائی جائے، اور اللہ بے نیاز، بردبار ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص مالی مدد کرکے کسی محتاج کو طعنہ دے، اس کی عزت نفس مجروح کرے یا اپنے صدقے کا چرچا کرے تو وہ انفاق کے مقصد کو نقصان پہنچاتا ہے؛ اسی طرح ریاکاری انفاق کے اجر کو برباد کرسکتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر اس شخص کی طرح ضائع نہ کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے۔ چنانچہ انفاق کی بنیاد اخلاص ہے، مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہے اور مستحق کی عزت نفس کی حفاظت اس کا اخلاقی تقاضا ہے؛ رسول اللہ ﷺ نے انفاق کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ صدقہ مال کو کم نہیں کرتا۔ بظاہر صدقہ دینے سے مال کی مقدار کم ہوتی ہے لیکن حقیقت میں اللہ تعالیٰ اس میں برکت پیدا فرماتا، اجر عطا کرتا اور آخرت کے لیے ذخیرہ بناتا ہے، اسی مفہوم کو حدیث قدسی میں یوں بیان کیا گیا أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ خرچ کرو، میں تم پر خرچ کروں گا۔ اس وعدۂ الٰہی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خرچ کے فوراً بعد دنیاوی مال اسی مقدار میں واپس ملے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ کبھی رزق میں وسعت، کبھی برکت، کبھی مصیبت سے حفاظت اور کبھی آخرت میں عظیم اجر کے ذریعے اپنے بندے کے انفاق کا بدلہ عطا فرماتا ہے؛ انفاق کا دائرہ بھی نہایت وسیع ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً مسلمان جب اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور ثواب کی نیت رکھتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔ اس لیے والدین، بیوی بچوں اور زیر کفالت افراد کی جائز ضروریات پوری کرنا بھی ثواب کا ذریعہ ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ سب سے افضل دینار وہ ہے جو آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے۔ اس سے اسلام کے متوازن مالی نظام کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کو دوسروں پر خرچ کرنے سے پہلے اپنے زیر کفالت افراد کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہے؛ چنانچہ انفاق میں ترتیب اور ترجیحات کا لحاظ ضروری ہے، پہلے واجب حقوق، پھر اہل و عیال کی ضروریات اور اس کے بعد نفلی صدقات و خیرات؛ اسی طرح کسی محتاج رشتہ دار کی مدد میں صدقہ اور صلہ رحمی دونوں کا اجر حاصل ہوسکتا ہے، یتیموں، بیواؤں، مسکینوں، مقروضوں، ضرورت مند طلبہ، بیماروں اور دیگر مستحقین کی مدد بھی اسلامی معاشرتی مواسات کی اہم صورتیں ہیں، قرآن مجید نے فرمایا وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ لیکن انفاق کی فضیلت کے ساتھ اسلام نے واجب مالی حقوق کی عدم ادائیگی پر سخت وعید بھی بیان کی ہے، خصوصاً زکوٰۃ جو صاحبِ نصاب مسلمان کے مال میں فرض حق ہے، اس کی ادائیگی سے غفلت محض بخل نہیں بلکہ شرعی فرض کی ادائیگی میں کوتاہی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دے دیجیے؛ جس دن اسے جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیاں، ان کے پہلو اور ان کی پشتیں داغی جائیں گی، یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، پس اپنے جمع کیے ہوئے مال کا مزہ چکھو۔ اس آیت کا اصل تعلق ان مالی حقوق سے ہے جن کی ادائیگی شرعاً لازم ہے؛ محض مال کا مالک ہونا یا جائز ضرورت کے لیے مال محفوظ رکھنا اس وعید کا لازمی مفہوم نہیں، بلکہ واجب حق روکنا اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے فرار اختیار کرنا قابلِ وعید ہے؛ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ۔ جو شخص سونے یا چاندی کا مالک ہو اور اس کا حق ادا نہ کرے، قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی۔ اسی طرح مویشیوں کے واجب حقوق ادا نہ کرنے پر بھی سخت وعید آئی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں مال کے اندر بعض حقوق انسان کی مرضی پر موقوف نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لازم کیے گئے ہیں؛ نفلی صدقات ان واجب حقوق کا بدل نہیں بن سکتے، لہٰذا جو شخص زکوٰۃ فرض ہونے کے باوجود ادا نہیں کرتا وہ یہ عذر نہیں کرسکتا کہ میں کبھی کبھار صدقہ کرتا ہوں، کیونکہ نفلی صدقہ اپنی جگہ فضیلت رکھتا ہے اور فرض زکوٰۃ اپنی جگہ لازم ہے؛ اسی طرح اہل و عیال کے واجب نفقہ میں کوتاہی بھی گناہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّنْ يَمْلِكُ قُوتَهُ آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کی خوراک روک دے جن کی کفالت اس کے ذمہ ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں انفاق کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے ذمہ واجب حقوق چھوڑ کر نفلی خیرات کرتا رہے؛ پہلے ان لوگوں کے حقوق ادا کیے جائیں جن کی کفالت شرعاً لازم ہے، پھر دیگر خیر کے کاموں میں خرچ کیا جائے؛ اسی طرح اسلام فضول خرچی اور اسراف سے بھی روکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ اور فضول خرچی نہ کرو، بے شک فضول خرچ لوگ شیطانوں کے بھائی ہیں۔ اور فرمایا وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ نہ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا رکھو اور نہ اسے بالکل کھول دو۔ لہٰذا اسلامی انفاق نہ بخل ہے نہ فضول خرچی بلکہ اعتدال، حکمت اور ذمہ داری کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے کا نام ہے؛ انسان کو چاہیے کہ اپنی آمدنی اور حالات کے مطابق باقاعدہ مالی منصوبہ بندی کرے، زکوٰۃ کا حساب درست رکھے، واجب نفقات ادا کرے، قرض داروں اور محتاجوں کی ضرورت کو سمجھے اور نفلی صدقات میں بھی اخلاص اور حکمت کو ملحوظ رکھے؛ انفاق کا ایک اہم مقصد معاشرے میں معاشی توازن، باہمی تعاون اور انسانی ہمدردی کو فروغ دینا ہے، کیونکہ جب صاحبِ استطاعت لوگ اپنے مال کے ذریعے محتاجوں کی مدد کرتے ہیں تو معاشرے میں محرومی، حسرت اور طبقاتی فاصلے کم ہوتے ہیں اور باہمی اعتماد و اخوت مضبوط ہوتی ہے؛ اسی لیے قرآن مجید نے فرمایا وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا اور تم اپنے لیے جو نیکی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے پاس پاؤ گے، وہ بہتر اور اجر کے اعتبار سے بہت بڑا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا اصل مال وہ نہیں جو اس کے پاس جمع رہتا ہے بلکہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آگے بھیج دیا جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا يَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِي مَالِي، وَإِنَّمَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثَةٌ: مَا أَكَلَ فَأَفْنَى، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى، أَوْ أَعْطَى فَاقْتَنَى، وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ بندہ کہتا ہے میرا مال، میرا مال، حالانکہ اس کے مال میں سے حقیقتاً اس کا حصہ تین چیزیں ہیں: جو کھا کر ختم کردیا، جو پہن کر پرانا کردیا، یا جو اللہ کی راہ میں دے کر آخرت کے لیے محفوظ کرلیا؛ اس کے علاوہ سب جانے والا اور لوگوں کے لیے چھوڑ جانے والا ہے۔ لہٰذا مومن کو اپنے مال کے بارے میں یہ شعور پیدا کرنا چاہیے کہ دنیا کی دولت عارضی ہے، اصل کامیابی یہ ہے کہ اس عارضی دولت کو آخرت کے دائمی سرمایہ میں تبدیل کردیا جائے؛ صدقہ، زکوٰۃ، اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ، یتیموں و مسکینوں کی کفالت، ضرورت مندوں کی مدد، دینی تعلیم و تربیت اور دوسرے جائز رفاہی کام اسی وقت حقیقی انفاق بنیں گے جب ان میں اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو؛ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ اس لیے مال کی کثرت سے زیادہ نیت کی پاکیزگی اہم ہے، ایک شخص تھوڑا سا مال خلوص کے ساتھ دے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم اجر حاصل کرسکتا ہے اور دوسرا شخص بہت زیادہ مال دے کر بھی ریا، شہرت یا احسان جتانے کی وجہ سے اجر سے محروم ہوسکتا ہے؛ انفاق انسان کو بخل سے نجات دیتا ہے، دل میں شکر پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ پر توکل بڑھاتا ہے اور معاشرے میں رحمت و مواسات کو فروغ دیتا ہے، جبکہ زکوٰۃ اور دیگر واجب مالی حقوق روکنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور بندوں کے حقوق کی پامالی کا سبب بنتا ہے؛ اس لیے ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مال کے متعلق شرعی احکام سیکھے، زکوٰۃ کے نصاب اور واجب مقدار کا درست حساب کرے، اپنے اہل و عیال کے حقوق ادا کرے، محتاجوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھے، پاکیزہ مال سے خرچ کرے، صدقہ دینے کے بعد احسان نہ جتائے، ریاکاری سے بچے اور انفاق کو محض معاشرتی نمود یا وقتی جذبات کے بجائے آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنائے؛ بالخصوص صاحبِ استطاعت لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مال میں اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حقوق کو معمولی نہ سمجھیں، کیونکہ قیامت کے دن مال کے بارے میں سوال ہوگا کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؛ پس کامیاب وہ شخص ہے جو اپنے مال کو اپنے لیے وبال بنانے کے بجائے آخرت کا ذخیرہ بنائے، فرض زکوٰۃ اور واجب حقوق بروقت ادا کرے، نفلی انفاق میں وسعت پیدا کرے اور اپنے مال کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے لیے نفع اور آسانی کا ذریعہ بنے؛ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ ایمان کی علامت، تقویٰ کا تقاضا، اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر، معاشرتی مواسات کا ذریعہ اور آخرت کی کامیابی کا عظیم وسیلہ ہے، جبکہ واجب مالی حقوق خصوصاً زکوٰۃ کی ادائیگی سے غفلت، اہل و عیال کے واجب نفقہ میں کوتاہی اور مستحقین کے شرعی حقوق روکنا سخت بازپرس اور وعید کا سبب ہے؛ اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ مال کو دل کا مقصد نہ بنائے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بنائے، واجب حقوق کو مقدم رکھے، نفلی صدقات میں اخلاص اختیار کرے اور یقین رکھے کہ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنْفُسِكُمْ تم جو بھلائی خرچ کرتے ہو وہ تمہارے ہی لیے ہے؛ دنیا میں خرچ کیا ہوا مال ختم ہوتا دکھائی دے سکتا ہے، لیکن اللہ کی رضا کے لیے خرچ کیا ہوا مال حقیقت میں ختم نہیں ہوتا بلکہ آخرت کے لیے محفوظ ہوجاتا ہے، اور یہی انفاق فی سبیل اللہ کی حقیقی فضیلت، اس کی روح اور اس کے شرعی تصور کا خلاصہ ہے۔