*📝صحابہ کرام ؓ کے مشاجرات*
متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن مدظلہ
مشاجرات کا لغوی معنی ہوتا ہے ایک ہی درخت کی ٹہنیوں کا آپس میں ہوا کی وجہ سے ٹکرانا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مشاجرات کا معنی یہ ہے کہ یہ سب کے سب ایک ہی (ایمان والے) درخت کی شاخیں ہیں۔ (زمائشوں اورخارجی سازشوں جیسی ناموافق) ہواؤں کی وجہ سے آپس میں ٹہنیوں کی طرح ٹکرا بھی گئےبلکہ بعض جنگی حالات پیش آئے ہیں۔ جنگِ جمل اور جنگِ صفین ۔
*▪️اھل السنۃ والجماعۃ کا معتدل موقف:*
ان جنگوں اور مشاجرات کی وجہ سے دونوں فریقوں کا احترام، مقام و منصب اور جلالتِ شان کو ذہن میں رکھتے ہوئے صواب اور اس کے مقابلے میں خطا کا معتدل نظریہ اپنانے میں کوئی حرج اور ان کے مقام پر حرف نہیں آتا۔
اھل السنۃ والجماعۃ کا موقف یہ ہے کہ ان معاملات میں خلیفہ راشد حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ حق (درست اجتہاد) پر تھے اور ان کے مقابلے میں جو لوگ آئے وہ خطا پر تھےان کی ”اجتہادی خطا“ تھی جسے کسی صورت ”باطل“ نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن ان واقعات کی وجہ سے دونوں فریقوں میں سے کسی ایک کی بھی فضیلت میں کچھ کمی نہیں ہوئی، کسی ایک کا مقام کم نہیں ہوا ، کوئی ایک بھی ایمان سے خالی نہیں ہوا، ان میں کسی ایک کو حق اور اس کے مقابلے میں دوسرے کو باطل قرار نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ حدیث مبارک کی رو سے دونوں کو اللہ کی طرف سے اجر کا مستحق سمجھا جائے گا۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ۔
﴿صحیح البخاری، رقم الحدیث:7352﴾
*ترجمہ:*
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب حاکم (یا مجتہد) کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اگر وہ فیصلہ درست ہو اس کے لیے دہرا اجر ہے اور اگر فیصلہ میں خطا ہو جائے تو بھی اسے ایک اجر ضرور دیا جائے گا۔
امام علی بن محمد المعروف ملاعلی قاری رحمہ اللہ (م: 1014ھ) فرماتے ہیں:
قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَہُ اللہُ: تِلْكَ دِمَاءٌ طَهَّرَ اللهُ أَيْدِينَا مِنْهَا فَلَا نُلَوِّثُ أَلْسِنَتَنَا بِهَا۔
﴿مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، کتاب الفتن، رقم الحدیث : 5401﴾
*ترجمہ:*
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے مشاجرات کے بارے میں) فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تمام فریقوں کےخون سے ہمارے ہاتھوں کو پاک رکھا اب ہم اپنی زبانوں کو ان کے بارے میں بدزبانی اور طعنہ زنی کرنے میں ملوث نہیں کرتے-
*▪️صحابہ کرام پر سب و شتم حرام ہے:*
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نامناسب الفاظ سے یاد کرنا، برا بھلا کہنا ، سَبّ و شتم کرنا ، گالم گلوچ کرنا اور لعن طعن کرنا حرام ہے اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی کاباعث ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت ہے کیونکہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی تعریف و توصیف اور مدح اور خوبیاں بیان فرمائیں، انہیں اعزازات ، کمالات اور انعامات سے نوازیں ۔
جبکہ ان پر سب و شتم کرنے والا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ملنے والے اعزازات ، کمالات اور انعامات کو تسلیم نہیں کرتا۔ معلوم ہوا کہ جو شخص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سَبّ و شتم یا طعن کرتا ہے وہ درحقیقت خدائی اور مصطفائی انتخاب پر اعتراض کرتا ہے۔
امام محی الدین یحیی بن شرف النووی رحمہ اللہ (م: 676ھ) فرماتے ہیں:
وَاعْلَمْ أَنَّ سَبَّ الصَّحَابَةِ رَضِيَ الله عَنْهُمْ حَرَامٌ مِّنْ فَوَاحِشِ الْمُحَرَّمَاتِ سَوَاءٌ مَّنْ لَابَسَ الْفِتَنَ مِنْهُمْ وَغَيْرُه لِأَنَّهُمْ مُجْتَهِدُونَ فِي تِلْكَ الْحُرُوْبِ۔
﴿شرح مسلم للنووی ، تحت رقم الحدیث: 4610﴾
*ترجمہ:*
یہ بات خوب اچھی طرح جان لی جائے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے نامناسب باتیں کرنا حرام ہے کبیرہ گناہوں میں سے ہے خواہ وہ بات ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے کی جائے جو مشاجرات کا شکار ہوئے یا ان کے بارے میں کی جائے جو مشاجرات کا شکار نہیں ہوئے (دونوں کے بارے میں کرنا شرعاً جرم ہے) اس لیے کہ وہ سب کے سب ان جنگوں اور مشاجرات سے متعلقہ معاملات میں اس درجہ پر فائز تھے جہاں خطا پر بھی اجر ملتا ہے یعنی وہ سب (اس بارے میں) مجتہد تھے۔
*📚مقامِ صحابیت (ج2 ص13-16)*