*اپنی بیٹی سے میری شادی کردو ماں کا انکار لڑکی کا فیصلہ۔*

جلیبیب رضی اللہ عنہ ایک انصاری صحابی تھے۔ نہ مالدار تھے نہ کسی معروف خاندان سے تعلق تھا۔ صاحبِ منصب بھی نہ تھے۔ رشتہ داروں کی تعداد بھی زیادہ نہ تھی۔ رنگ بھی سانولا تھا۔ لیکن اللہ کے رسول ﷺ کی محبت سے سرشار تھے۔ بھوک کی حالت میں پھٹے پرانے کپڑے پہنے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے، علم سیکھتے اور صحبت سے فیض یاب ہوتے۔ایک دن اللہ کے رسول ﷺ نے شفقت کی نظر سے دیکھا اور ارشاد فرمایا: [يَا جُلَيْبِيبُ أَلَا تَتَزَوَّجُ؟] جلیبیب تم شادی نہیں کرو گے؟جلیبیب رضی اللہ عنہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم مجھ جیسے آدمی سے بھلا کون شادی کرے گا؟ اللہ کے رسول ﷺ نے پھر فرمایا:جلیبیب تم شادی نہیں کرو گے؟ حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ جواباً عرض گزار ہوئے کہ اللہ کے رسول بھلا مجھ سے شادی کون کرے گا؟ نہ مال نہ جاه و جلال، اللہ کے رسول ﷺ نے تیسری مرتبہ پھر ارشاد فرمایا:جلیبیب تم شادی نہیں کرو گے؟ جواب میں انہوں نے پھر وہی کہا اللہ کے رسول مجھ سے شادی کون کرے گا؟ کوئی منصب نہیں میری شکل بھی اچھی نہیں، نہ میرا خاندان بڑا ہے اور نہ مال و دولت رکھتا ہوں۔  
اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: *[إِذْهَبْ إِلَى ذَاكَ الْبَيْتِ مِنَ الأَنْصَارِ وَقُلْ لَّهُمْ: رَسُولُ اللهِ ﷺ يُبْلِغُكُمُ السَّلَامَ وَيَقُولُ: زَوِّجُونِي ابْنَتَكُمُ]* فلاں انصاری کے گھر جاؤ اور ان سے کہو کہ اللہ کے رسول ﷺ تمہیں سلام کہہ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ اپنی بیٹی سے میری شادی کر دو۔جلیبیب رضی اللہ عنہ خوشی خوشی اس انصاری کے گھر گئے اور دروازہ پر دستک دی۔ گھر والوں نے پوچھا کون؟ کہا جلیبیب گھر والوں نے کہا ہم تو تمہیں نہیں جانتے، نہ تم سے کوئی غرض ہے۔گھر کا مالک باہر نکلا، ادھر جلیبیب کھڑے تھے۔ پوچھا کیا چاہتے ہو کدھر سے آئے ہو؟ کہا اللہ کے رسول ﷺ نے تمہیں سلام بھجوایا ہے۔ یہ سننے کی دیر تھی کہ گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اللہ کے رسول نے ہمیں سلام کا پیغام بھجوایا ہے۔ ارے یہ تو بہت ہی خوش بختی کا مقام ہے کہ ہمیں اللہ کے رسول نے سلام کہلا بھیجا ہے۔جلیبیب کہنے لگے آگے بھی سنو اللہ کے رسول ﷺ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کر دو۔  
صاحبِ خانہ نے کہا ذرا انتظار کرو، میں لڑکی کی ماں سے مشورہ کر لوں۔ اندر جا کر لڑکی کی ماں کو پیغام پہنچایا اور مشورہ پوچھا؟ وہ کہنے لگی نا نا نا اللہ کی قسم میں اپنی بیٹی کی شادی ایسے شخص سے نہیں کروں گی نہ خاندان، نہ شہرت، نہ مال و دولت۔ ان کی نیک سیرت بیٹی بھی گھر میں ہونے والی گفتگو سن رہی تھی اور جان گئی تھی کہ حکم کس کا ہے؟ کس نے مشورہ دیا ہے؟ سوچنے لگی اگر اللہ کے رسول ﷺ اس رشتہ داری پر راضی ہیں تو اس میں یقیناً میرے لیے بھلائی اور فائدہ ہے۔  
اس نے والدین کی طرف دیکھا اور مخاطب ہوئی *[أَتَرُدُّونَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ أَمْرَهُ؟ ادْفَعُونِي إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ فَإِنَّهُ لَنْ يُضَيِّعَنِي]* کیا آپ لوگ اللہ کے رسول ﷺ کا حکم ٹالنے کی کوشش میں ہیں؟ مجھے اللہ کے رسول ﷺ کے سپرد کر دیں (وہ اپنی مرضی کے مطابق جہاں چاہیں میری شادی کر دیں) کیونکہ وہ ہرگز مجھے ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ 
پھر لڑکی نے اللہ تعالی کے اس فرمان کی تلاوت کی *{وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ﴾* اور دیکھو کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد اپنے امور میں کوئی اختیار باقی نہیں رہتا (الأحزاب: 36) لڑکی کا والد اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی اے اللہ کے رسول آپ کا حکم سر آنکھوں پر، آپ کا مشورہ، آپ کا حکم قبول، میں شادی کے لیے راضی ہوں۔ جب رسول اکرم ﷺ کو اس لڑکی کے پاکیزہ جواب کی خبر ہوئی تو آپ نے اس کے حق میں یہ دعا فرمائی *[اللَّهُمَّ صُبَّ الْخَيْرَ عَلَيْهَا صَبًّا وَلَا تَجْعَلْ عَيْشَهَا كَدًّا]*
اے اللہ اس بچی پر خیر اور بھلائی کے دروازے کھول دے اور اس کی زندگی کو مشقت و پریشانی سے دور رکھ۔
پھر جلیبیب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی شادی ہو گئی۔ مدینہ منورہ میں ایک اور گھرانہ آباد ہو گیا، جس کی بنیاد تقویٰ اور پرہیزگاری پر تھی، جس کی چھت مسکنت اور محتاجی تھی، جس کی آرائش و زیبائش تکبیر و تہلیل اور تسبیح و تحمید تھی۔ اس مبارک جوڑے کی راحت نماز میں اور دل کا اطمینان تپتی دوپہروں کے نفلی روزوں میں تھا۔
رسول اکرم ﷺ کی دعا کی برکت سے یہ شادی خانہ آبادی بڑی ہی برکت والی ثابت ہوئی۔ تھوڑے ہی عرصے میں ان کے مالی حالات اس قدر اچھے ہو گئے کہ راوی کا بیان ہے *[فَكَانَتْ مِنْ أَكْثَرِ الأَنْصَارِ نَفَقَةً وَمَالًا]* انصاری گھرانوں کی عورتوں میں سب سے خرچیلا گھرانہ اسی لڑکی کا تھا۔
حاصلِ کلام: یہی دینِ اسلام کا اصل معیار ہے۔ آج نہ جانے لوگوں نے اپنے حساب سے عزت اور برتری کے کتنے پیمانے بنا رکھے ہیں۔ دوسری قوم یا خاندان میں شادی کرنا بعض لوگوں کے نزدیک گویا کوئی گناہِ عظیم ہو۔تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے اسلاف نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ قوم، خاندان، قبیلہ اور نسب اصل معیار نہیں۔ اصل معیار دین اور تقویٰ ہے۔ جسے اپنے حسب و نسب اور قوم و قبیلے پر بہت ناز ہو اسے قرآنِ کریم کی یہ آیت اور حجۃ الوداع کا خطبہ ضرور پڑھ لینا چاہیے، شاید قوم اور ذات کا یہ بھوت اتر جائے۔ *{أِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ}* للہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔
نوٹ: میری اس موضوع پر پوری تحریر موجود ہے ( قوم اور ذاتیات کی بنا پر اپنے بچوں کی زندگی سے کھیلنے والو سنو) کے نام سے۔

                *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*