سنو سنو!!

حق گوئی کی آن۔ خودداری کی شان

(ناصرالدین مظاہری)

’’مُشک آن است کہ خود ببوید نہ کہ کہ عطّار بگوید؛ دانا چو طبلهٔ عطّار است، خاموش و ہنرنمای، و ناداں چوں طبلِ غازی، بلندآواز و میان‌تہی۔‘‘

یعنی حقیقی خوبی وہ ہوتی ہے جو خود ظاہر ہوجائے، اسے اپنے منہ سے بیان کرنے یا کسی دوسرے کی تعریف کا محتاج نہیں ہونا پڑتا۔ خوشبو کو اپنے خوشبودار ہونے کا اعلان نہیں کرنا پڑتا، مشک خاموش رہتی ہے مگر اس کی خوشبو بہت کچھ کہہ دیتی ہے؛ البتہ خالی برتن کو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے شور مچانا پڑتا ہے۔

ایسی ہی ایک شخصیت میں نے بھی دیکھی ہے، اور مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے انہیں صرف دیکھا نہیں، پرکھا بھی، برتا بھی، بار بار ملا بھی اور ہر ملاقات میں انہیں پہلی ملاقات سے زیادہ پایا۔
وہ حق بولنے والے تھے، حق دیکھنے والے تھے، حق سننے والے تھے اور حق پر چلنے والے تھے۔ نڈر، بے خوف، لومۃ لائم سے بے پروا۔ سچ کے علم بردار، سچ کے چوب دار اور سچ کے مشعل بردار۔

کون سا فن تھا جس پر ان کی گرفت مضبوط نہ ہو؟ کون سا بزرگ تھا جو ان کا مداح نہ ہو؟ کون سا ادارہ تھا جو ان کی خواہش اور چاہت نہ رکھتا ہو؟ حکیم الاسلام سے فقیہ الاسلام تک، شیخ الحدیث سے مناظر اسلام تک، دیوبند و سہارنپور کے اکابر میں شاید ہی کوئی ایسا نام ہو جس کے ساتھ ان کی علمی یا قلبی نسبت نہ رہی ہو۔
اپنے معاصرین کے لیے وہ کسی کمک سے کم نہ تھے، اپنے اکابر کے لیے روشن مستقبل تھے اور اپنے چھوٹوں کے لیے تابناک ماضی۔
جامع الہدی کی ترقی، عروج اور استحکام میں ان کی ذاتِ بابرکت کو بڑا دخل تھا۔ طلبہ کے رجوع کی ایک بڑی وجہ خود مولانا تھے۔ ان کے پاس علم بھی تھا، عمل بھی؛ کشش بھی تھی اور تاثیر بھی۔
فتنہ ان سے ڈرتا تھا، فسادی عناصر ان کے سامنے محتاط رہتے تھے اور عنادی اکابر کی زبان بھی ان کے سامنے بہت کچھ سوچ سمجھ کر کھلتی تھی۔

داخلی کتابوں کو چھوڑیے، خارجی کتابوں کی لمبی لمبی عبارتیں انہیں ازبر تھیں۔ درسِ نظامی کی شاید ہی کوئی کتاب ایسی ہو جس سے ان کا ایسا تعارف نہ ہو کہ گویا کتاب ان کے لیے ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی ہو۔

جہاں پہنچتے تھے میرِ مجلس بن جاتے تھے، جس سے ملتے تھے وہ ان کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔ تقریر کرتے تو محسوس ہوتا کہ علوم کی بارش ہورہی ہے، سبق پڑھاتے تو فن پلانے کا گمان ہوتا۔ مقرر بھی تھے، مناظر بھی؛ عابد بھی، زاہد بھی اور ’’غازی‘‘ بھی؛ مضمون نگار بھی، ادیب بھی، شاعر بھی؛ واعظ بھی، خطیب بھی؛ امامت اور خطابت کی رونق بھی۔

کیا کچھ نہ تھے!

اللہ نے دیا تھا اور خوب دیا تھا۔ علم دیا، حافظہ دیا، بیان دیا، جرات دی، خودداری دی اور سب سے بڑھ کر حق پر قائم رہنے کا حوصلہ دیا۔
اسی علمی وجاہت اور شخصیت کے اعتراف میں ایک مرتبہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے پورا وفد وائس چانسلر کا پیغام اور آفر لے کر پہنچا۔ فرمائش تھی کہ آپ علی گڑھ تشریف لائیے اور یہاں کے شعبۂ دینیات کی باگ ڈور سنبھالیے۔
مولانا نے جو عذر پیش کیے، ہر عذر کی کاٹ ان کے پاس تھی۔ جو موانع مولانا نے بیان کیے، ہر مانع کا حل ان کے پاس تھا۔ ہر شرط پر آمنا و صدقنا۔
علی گڑھ والے اس مرادآبادی ہیرے اور بجنوری کوہِ نور کو اپنے سر کا تاج بنانا چاہتے تھے۔

مولانا نے جب دیکھا کہ یہ لوگ تو میری ہر شرط پر ہاں کہتے جارہے ہیں اور صورتِ حال ’’جائے رفتن، پائے ماندن‘‘ کی بن گئی ہے تو بالآخر مجبور ہوکر فرمایا:

’’اصل میں میں داڑھی منڈوں کو دیکھ نہیں سکوں گا۔‘‘

اس پر بھی ان لوگوں نے برا نہیں مانا۔ بلکہ مولانا ہی کے مشورے پر ان کے ایک عزیز کو علی گڑھ بلایا گیا، اعزاز و اکرام کیا گیا، ناز برداریاں اٹھائی گئیں۔

کیونکہ وہ لوگ جوہری تھے؛ ہیرے کی قدر پہچانتے تھے اور ہیروز کی پرکھ رکھتے تھے۔

اور سنئے!

ایک زمانہ پہلے وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کو اپنی پارٹی کے لیے مولانا جیسا ایک شاندار، لائق فائق اور باصلاحیت عالم درکار تھا۔ قرعۂ فال مولانا مرحوم کے نام نکلا۔

اتفاقِ رائے کے بعد ایک وفد مولانا کی خدمت میں مرادآباد حاضر ہوا۔ عہدہ، منصب، دولت، دہلی شہر میں تاحیات ایک کوٹھی اور سیکورٹی سب کچھ پیش کیا گیا۔
مگر مولانا کا ’’ناں‘‘ ’’ہاں‘‘ میں نہ بدل سکا۔
انہوں نے کہا کہ ایسا موقع بار بار نہیں آتا۔
مولانا نے برجستہ جواب دیا:
’’مجھے ایک بار بھی ایسا موقع نہیں چاہیے۔‘‘

کیا جملہ تھا!

حلال کے چند روپے، عزت کی یہ سادہ زندگی، آزادی کی یہ فضا مولانا کے نزدیک اس عہدے، دولت اور ظاہری شان و شوکت سے کہیں زیادہ قیمتی تھی۔

گویا ان کا پیغام صاف تھا:

آزادی کی خشک روٹیاں غلامی کے حلوے اور جلوے سے بہتر ہیں۔
وہ لوگ کئی دن مرادآباد میں رکے۔ بار بار گفتگو کے دور چلے، مگر مولانا ٹس سے مس نہ ہوئے۔

کیوں نہ ہوتے؟

وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے شاگردِ رشید تھے، جنہیں حیدرآباد بڑی تنخواہ پر بلایا گیا، مگر وہ نہیں گئے۔

وہ مفتی سعید احمد اجراڑویؒ کے شاگرد تھے، جنہیں بڑی تنخواہ کی پیش کش ہوئی، مگر وہ بھی نہ گئے۔

وہ مناظرِ اسلام حضرت مولانا محمد اسعد اللہ رام پوریؒ جیسے زاہد کے شاگردِ رشید تھے، جنہوں نے دولت کو گویا تین طلاق دے رکھی تھی۔

استادوں کی صحبتیں آدمی کے اندر اترتی ہیں۔ بعض لوگ اپنے اساتذہ سے صرف کتابیں پڑھتے ہیں، بعض ان سے زندگی پڑھتے ہیں۔
حضرت رحمہ اللہ نے شاید اپنے اکابر سے صرف علم نہیں لیا تھا؛ علم کے ساتھ خودداری، حق گوئی، بے نیازی اور استقامت بھی لی تھی۔
اسی لیے بڑے بڑے مواقع ان کے دروازے تک آئے، مگر وہ ان کے پیچھے نہیں گئے۔

آج جب آدمی اپنی معمولی سی خوبی کے اعلان کے لیے بھی کئی کئی اشتہار ڈھونڈتا ہے، جب نام سے پہلے القاب اور کام سے پہلے تعارف کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، ایسے زمانے میں مولانا جیسی شخصیات یاد آتی ہیں تو سعدی کا وہی جملہ کانوں میں گونجتا ہے:

’’مشک آن است کہ خود ببوید، نہ آن کہ عطار بگوید۔‘‘

مشک کو عطار کی زبان درکار نہیں ہوتی۔
خوشبو خود اپنا تعارف ہوتی ہے۔

اور میرے نزدیک حضرت بھی ایسی ہی ایک خوشبو تھے؛ جنہیں جتنا قریب سے دیکھا، اتنا ہی زیادہ محسوس کیا؛ جن سے جتنا ملا، اتنا ہی ان کی شخصیت کا کوئی نیا پہلو سامنے آیا۔

وہ صرف ایک عالم نہیں تھے، ایک پورا عہد تھے؛ علم کا، جرأت کا، خودداری کا، بے نیازی کا اور حق پر ڈٹ جانے کا۔
یہ تھے حضرت مولانا نسیم احمد غازی مظاہریؒ۔
اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے، درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے علم، عمل، حق گوئی اور استقامت سے حصہ عطا فرمائے۔
آمین۔

(اٹھارہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)