جو کتابوں سے پہچانے گئے:

مولانا فیصل احمد بھٹکلی ندوی:

(ناصرالدین مظاہری)

دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں ایک صاحب علم، وسیع الحلم، قلیل الجسم، خفیف الوزن، کثیر الکتب، صاحب مطالعہ، محقق، مدقق اور صاحب نظر عالم ہیں۔ آپ ان سے کچھ ہی دیر گفتگو کرلیجیے تو عقل حیران رہ جاتی ہے کہ اس مختصر سے جثے میں اتنا طویل مطالعہ آخر سما کیسے گیا!

جسم چھوٹا، وزن ہلکا، لباس سادہ، طبیعت بے تکلف؛ مگر علم کا بوجھ ایسا کہ بڑے بڑے کتب خانے بھی ان کے سامنے خود کو طالب علم سمجھنے لگیں۔

یہ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کے تلامذہ میں سے ہیں اور دارالعلوم ندوۃ العلماء سے وابستہ رہ کر تدریس و تحقیق کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ان کا میدان کار تفسیر و حدیث سے لے کر تاریخ و تحقیق تک پھیلا ہوا ہے؛ مگر ان کی اصل پہچان شاید ان کی کتابیں ہیں۔

کتابیں بھی ایسی ویسی نہیں کہ دو چار الماریوں میں قرینے سے سج جائیں، گرد پونچھ دی جائے، مہمان آئیں تو دکھا دی جائیں اور سال بھر کوئی انہیں ہاتھ نہ لگائے۔

یہاں کتابیں رہتی بھی ہیں، پڑھی بھی جاتی ہیں، کھنگالی بھی جاتی ہیں، تلاش بھی کی جاتی ہیں اور ان سے کام بھی لیا جاتا ہے۔ کمال یہ ہے کہ اس سب کے باوجود مولانا علمی و تحقیقی کتابوں کی تلاش و جستجو میں کولمبس اور ابن بطوطہ بنے پھرتے ہیں۔ کتابیں پڑھتے ہیں، کتابوں میں اٹھتے ہیں، کتابوں میں رہتے ہیں اور ان شاء اللہ کتابوں ہی کے درمیان سے اٹھائے جائیں گے!

جن کے پاس کتابیں زیادہ ہوں، مصروفیات زیادہ ہوں، لکھنے پڑھنے کا مشغلہ زیادہ ہو، انہیں ہر وقت یہی سوجھتا رہتا ہے کہ اس موضوع کی حدیث کہاں ملے گی، اس مسئلے پر کس محقق نے کیا لکھا ہے، فلاں بات کا اصل ماخذ کیا ہے اور فلاں دعوے کی سند کہاں سے مل سکتی ہے۔ ایسا شخص شاید خود کو سنوارنے، سجانے اور آرام دینے میں پیچھے رہ جائے، البتہ خود کو بے آرامی کی سزا ضرور دیتا رہے گا۔

ہمارے مولانا فیصل احمد بھٹکلی ندوی مدظلہ بھی ایسے ہی ہیں۔ نہ خادم و خدام کی فوج ظفر موج، نہ متعلقین و محبین کا ہجوم؛ دست خود، دہان خود کا مزاج۔ کتاب چاہیے تو خود تلاش کریں، حوالہ چاہیے تو خود کھنگالیں، تحقیق کرنی ہے تو خود بیٹھیں اور لکھنا ہے تو خود قلم اٹھائیں۔

ان کے پاس کتابیں اتنی ہیں کہ اگر کسی اچھے خاصے مدرسے کی پوری لائبریری بھی ان کے کتب خانے کے سامنے رکھ دی جائے تو بعید نہیں کہ مولانا ایک نظر ڈال کر فرمادیں:

"اچھا! باقی کتابیں کہاں ہیں؟"

کتاب ان کے لیے محض کتاب نہیں؛ ایک سوال کا جواب ہے، ایک تحقیق کا دروازہ ہے، ایک گم شدہ حوالہ ہے، ایک بھولی ہوئی بات کی بازیافت ہے۔

یہ میں سنی سنائی نہیں، آنکھوں دیکھی بتاتا ہوں۔ ان کے کمرے میں کتابوں کی اس قدر کثرت ہے کہ آدمی کو کتابوں کے درمیان مولانا کا کمرہ کم اور مولانا کو کتابوں کا کمرہ زیادہ محسوس ہوتا ہے؛ یہاں تک کہ لیٹنے بھر کی جگہ بچتی ہے۔

یعنی رہائش مولانا کی ہے یا کتابوں کی، فیصلہ کرنا مشکل ہے!

اگر کبھی کسی کتاب کی تلاش میں ان کے کمرے میں داخل ہوں تو ممکن ہے پہلے مولانا نہ ملیں، کتابیں مل جائیں؛ پھر کتابوں کو ذرا ہٹائیں تو مولانا بھی برآمد ہوجائیں!

کتاب ان کے لیے الماری میں رکھی ہوئی چیز نہیں بلکہ ذہن میں چلتی پھرتی ایک دنیا ہے۔ اسی لیے ان سے گفتگو کیجیے تو کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سامنے ایک آدمی نہیں، ایک متحرک کتب خانہ بیٹھا ہے۔

مولانا سے علمی سوال کیجیے تو کبھی کتاب کا نام، کبھی مصنف کا نام، کبھی جلد، کبھی صفحہ اور کبھی حوالہ بھی ساتھ حاضر ہوجاتا ہے۔

ان کی تحقیق کا انداز بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ کسی موضوع پر قلم اٹھایا تو محض جو کچھ پہلے سے لکھا جاچکا ہے اسے دہرا دینا ان کا مزاج نہیں۔ مراجع کھنگالتے ہیں، متفرق مواد جمع کرتے ہیں، مختلف روایتوں اور معلومات کو دیکھتے ہیں، پھر بات کو پرکھتے اور چھانتے ہیں۔

اور یہ بھی خوب ہے کہ مولانا صرف ماضی کی کتابوں میں نہیں رہتے، ماضی کو کھود کر حال کے لیے نکالتے ہیں۔

اسی لیے اگر آپ ان کی تصنیف و تالیف کا میدان دیکھیں تو اردو و عربی دونوں زبانوں میں ان کے مطالعے کے نقوش نمایاں نظر آتے ہیں۔

عربی میں الآثار البينات في فضائل الآيات، السلطان تيبو الشهيد، كيف نقوم بالدعوة الإسلامية في الهند، الدكتور محمد حميد الله، نظرة خاطفة على حياته ومآثره، باقر آگاه النائطي، نبذة عن حياته وأعماله، الحوار في سيرة النبي المختار صلى الله عليه وسلم، الحديث والمحدثون في الهند، محمد نبي الرحمة جیسی کتابیں ان کے عربی ذوق اور علمی وسعت کی گواہی دیتی ہیں۔

اور اردو میں تحریک آزادی میں علماء کا کردار، سفرنامہ شام: مشاہدات و تاثرات، تدبر قرآن میں رجم: ایک مطالعہ، بچوں کے احکام و مسائل: ولادت سے بلوغ تک، مجالس حسنہ، مسئلہ فلسطین، رسول اللہ کے تعدد ازدواج کی حکمتیں، مغربی ساحلی خطہ کا ایک سفر، خواتین اور رمضان، بچوں کے مختصر احکام، امام شافعی کا علمی مقام، فقہی اختلاف کی حقیقت، علم بلا استاد اور اس کے خطرات، چین کا سفر، ترکی کا سفر، تفسیر اور اصول تفسیر، اسلاف کا ذوق تلاوت، مجالس محدث العصر، خطوط شبلی بنام شروانی،اکابر کا ذوق تلاوت اور متعدد دوسری تحریریں ان کے قلم کی وسعت کا پتہ دیتی ہیں۔

اس پر مستزاد یہ کہ محمد عمران خان ندوی کی مشاہیر اہل علم کی محسن کتابیں کو بھی انہوں نے حواشی جدیدہ کے ساتھ نئی ترتیب دی؛ یعنی کتابیں ان کے پاس صرف رہنے کے لیے نہیں آتیں، کبھی کبھی ان کی ترتیب و تصویر بھی بدلوا کر اور میک اپ ہوکر جاتی ہیں!

کبھی کسی شخصیت کے حالات و آثار کی تلاش میں برسوں لگ جاتے ہیں، کبھی کسی کتاب کے لیے مختلف کتب خانوں اور قدیم مآخذ کا رخ کرنا پڑتا ہے، کبھی ایک معمولی سے حوالے کے پیچھے بہت دور تک جانا پڑتا ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے تحقیق کا مطلب صرف "لکھ دینا" نہیں؛ پہلے ڈھونڈنا، پھر جانچنا، پھر چھاننا اور آخر میں لکھنا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ مولانا جو کچھ لکھتے ہیں، اس میں کتابوں کی خوشبو کے ساتھ تحقیق کی محنت بھی محسوس ہوتی ہے۔

ان کا ایک اور وصف ہے: علمی حافظہ۔

کتاب پڑھ کر رکھ دینا الگ چیز ہے، کتاب کو اپنے اندر رکھ لینا الگ بات ہے۔ مولانا کی گفتگو میں کبھی کوئی ایسا حوالہ، کوئی ایسا نام، کوئی ایسی عبارت اچانک سامنے آجاتی ہے کہ آدمی سوچتا رہ جاتا ہے کہ یہ بات ابھی ابھی یاد آئی ہے یا برسوں سے ذہن کے کسی کونے میں بیٹھ کر اسی سوال کا انتظار کررہی تھی!

وہ کتابوں میں غرق رہنے کے مزاج کے حامل ہیں اور نحیف الجثہ ہونے کے باوجود علمی اعتبار سے بہت بھاری بھرکم ہیں۔

اور میں کہتا ہوں:

مولانا کا وزن ترازو سے نہیں، کتابوں سے کیجیے۔

ترازو پر شاید چند کلو نکلیں، مگر مطالعے کی میزان پر جانے کتنے کتب خانے نکل آئیں!

اسی لیے میں نے ایک موقع پر ان کے لیے لکھا تھا:

قلیل الجسم، کثیر العلم؛
خفیف الوزن، ثقیل المیزان؛
مختصر جثہ، طویل مطالعہ؛
چھوٹا سا کمرہ، بڑی سی دنیا؛
اور ایک آدمی، مگر اندر پوری لائبریری!

یہی ہیں بڑوں کی دعاؤں کا ثمرہ، ہزاروں طلبہ کی محبتوں کا مرکز، دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مقبول استاذ، درجنوں کتابوں کے مرتب، مؤلف، مصنف اور محقق؛

حضرت مولانا فیصل احمد بھٹکلی ندوی۔

تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

(غالبؔ)