*پڑھائی میں بہت زیادہ محنت کی ضرورت نہیں*

ارشاد فرمایا کہ پڑھائی میں بہت زیادہ محنت کی ضرورت نہیں کیونکہ زیادہ محنت کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔
 میں طلبہ سے ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ کتابیں پڑھنے کے زمانہ میں سمجھنے کی کوشش کرو، حفظ کی کوشش نہ کرو، اس سے دماغ خراب ہوجاتا ہے اور کتابیں بھی رہ جاتی ہیں اور آج کل قویٰ اس کے متحمل نہیں۔ 
غضب تو یہ ہے کہ بعضے اہل مدارس طلبہ سے ایسی سخت محنت کراتے ہیں کہ جس سے وہ بیکار ہوجاتے ہیں اور یہ بڑا ظلم ہے۔ 
بعضے کافیہ حفظ کراتے ہیں، بھلا یہ بھی کوئی حفظ کرانے کی چیز ہے۔
 اگر حفظ ہی کا شوق ہے تو قرآن شریف حفظ کرو۔
 ( طالب علم ) بس تین باتوں کا لحاظ رکھے: 
ایک: یہ کہ سبق سے پہلے مطالعہ کرے، 
دوسرے: سبق سمجھ کر پڑھے بغیر سمجھے آگے نہ چلے، تیسرے: یہ کہ سبق پڑھنے کے بعد ایک بار اس کا تکرار کرلے، خواہ تنہا یا جماعت کے ساتھ تکرار کرے، اس سے زیادہ محنت کی ضرورت نہیں۔

(تحفة العلماء، جلد اول، صفحہ ۳۶۷)
محمد مرسلین امبیڈکرنگر