سنو سنو!!

ایسی کتاب پر فاتحہ پڑھئے:

(ناصرالدین مظاہری)

پہلے کتابیں اس وقت لکھی جاتی تھیں جب ان کی شدید ضرورت محسوس ہوتی تھی، بلکہ واقعات ایسے بھی ملتے ہیں کہ دوران تصنیف اگر معلوم ہوگیا کہ اس موضوع پر فلاں عالم پہلے ہی کتاب لکھ چکے ہیں تو مصنف نے اپنا کام موقوف کردیا۔ وجہ صاف تھی:

مقصد کتابوں کی تعداد بڑھانا نہیں، علمی ضرورت پوری کرنا تھا۔
لیکن اب لوگ پڑھتے وڑھتے ہیں نہیں، فوراً کتاب لکھ کر چھاپ دیتے ہیں!

میں تو یہاں تک جانتا ہوں کہ بعض لوگ مصنف کہلانے کے لیے کرایے پر اہل علم و قلم رکھے ہوئے ہیں، جو دن رات کتابیں لکھے جارہے ہیں۔ ادھر قلم چل رہا ہے، ادھر کمپیوٹر چل رہا ہے، ادھر پریس چھاپ رہا ہے، اور ادھر پریس والا امیر ہورہا ہے!

خریدار بھی کم معصوم نہیں۔ کتاب کا رنگ و روپ، نام اور بہروپ، عنوان اور ٹائٹل دیکھ کر، اوپر کسی بھاری بھرکم شخصیت کا ’’پسند فرمودہ‘‘ پڑھ کر کتاب خرید لیتا ہے؛ لیکن گھر پہنچ کر کھولتا ہے تو ’’جس کو سمجھا تھا خمیرہ، وہ بھساکو نکلا‘‘ والا معاملہ ہوتا ہے۔
پھر خریدار بدظن ہو تو ہو، کیا فرق پڑتا ہے؟ کتب فروش بکاہوا مال واپس نہیں لیتا، اور لینا بھی نہیں چاہیے!

حضرت مولانا مجیب اللہ ندوی رحمہ اللہ نے کہیں لکھا ہے کہ آدمی کو اس وقت لکھنا چاہیے جب پڑھتے پڑھتے ابلنے لگے؛ یعنی کسی ایک موضوع پر اتنا پڑھ لے کہ اس کے مالہ وماعلیہ سے اچھی طرح واقف ہوجائے، پھر دل میں اس موضوع پر لکھنے کا شدید تقاضا پیدا ہو اور محسوس ہو کہ اس موضوع پر لکھنا واقعی علمی ضرورت ہے۔ ورنہ راتوں رات مصنف بننے کے شوقین تو بہت ہیں۔

میرے ایک دوست ہیں، کمپیوٹر والے۔ وہ کہتے ہیں کہ کئی بار ایسا ہوچکا ہے کہ لوگ میرے پاس آئے اور کہا:
’’ایک کتاب سو، دو سو صفحات کی لکھ دو۔‘‘
کمپیوٹر والے نے مسودہ مانگا تو فرمایا:
’’تمہارے پاس بہت سی کتابیں لکھی پڑی ہوں گی، انہی میں سے تھوڑا تھوڑا لے کر لکھ دو!‘‘

اب بتائیے، ایسی تصنیف کو کیا کہا جائے؟ تصنیف لطیف یا تصنیف کثیف؟

فی زماننا کتاب لکھنا کوئی مشکل کام نہیں رہا۔ قلم اٹھائیے، چند مضامین جمع کیجیے، ادھر ادھر سے کچھ اقتباسات سمیٹیے، مقدمے میں دو چار خوب صورت جملے لکھ دیجیے، آخر میں فہرست مضامین لگا دیجیے، پھر کتاب کا نام ذرا وزنی رکھیے، سرورق دیدہ زیب بنوائیے، ٹائٹل کسی حور کی طرح خوب صورت بنوائیے اور چھاپ دیجیے۔

لیجیے! ایک نئی تصنیف کثیف دنیا کے سامنے حاضر ہے!

تصنیف لطیف وہ ہے جس کے صفحات کم ہوں مگر بات میں وزن ہو، عبارت مختصر ہو مگر معنی وسیع ہوں، مصنف نے کم لکھا ہو مگر قاری کو زیادہ دے دیا ہو۔

اور تصنیف کثیف؟
وہ ہے جس میں کاغذ بہت ہو، سیاہی بہت ہو، الفاظ بہت ہوں، ابواب بہت ہوں، مقدمات بہت ہوں، تقریظات بے شمار ہوں، مگر بے چارہ قاری آخرکار کتاب بند کرکے سوچے:
’’میں نے یہ کتاب خریدی ہی کیوں؟‘‘

حاجی خلیفہ کی قبر کو اللہ نور سے منور فرمائے، واقعی کیا کتاب لکھی ہے! گویا ہیرے جواہرات جڑ دیے ہیں۔ انھوں نے تصنیف کے مقاصد پر گفتگو کرتے ہوئے ایک نہایت جامع اصول نقل کیا ہے:

التأليف على سبعة أقسام، لا يؤلف عالم عاقل إلا فيها: إما شيء لم يسبق إليه فيخترعه، أو شيء ناقص يتممه، أو شيء مغلق يشرحه، أو شيء طويل يختصره دون أن يخل بشيء من معانيه، أو شيء متفرق يجمعه، أو شيء مختلط يرتبه، أو شيء أخطأ فيه مصنفه فيصلحه۔

یعنی تصنیف کی سات صورتیں ہیں، کوئی صاحب علم و عقل عموماً انہی میں سے کسی ایک مقصد کے تحت کتاب لکھتا ہے:

ایسی چیز پیش کرے جو پہلے نہ لکھی گئی ہو۔

کسی ناقص کام کو مکمل کرے۔
کسی مشکل اور بند چیز کی شرح کرے۔

کسی طویل تحریر کو اس طرح مختصر کرے کہ معانی میں خلل نہ آئے۔

منتشر مواد کو جمع کرے۔

بے ترتیب چیزوں کو ترتیب دے۔

کسی سابق مصنف کی غلطی کی اصلاح کرے۔

کتنی عجیب بات ہے کہ صدیوں پہلے تصنیف کے مقصد پر گفتگو ہورہی تھی، اور آج بھی قلم کار کے سامنے وہی سوال کھڑا ہے۔

اگر کوئی نئی بات ہے تو لکھیے۔

اگر پرانی بات کو نئی تحقیق، نئے شواہد یا بہتر ترتیب کے ساتھ پیش کرنا ہے تو لکھیے۔

اگر کسی مشکل کتاب کی گرہیں کھولنی ہیں تو لکھیے۔

اگر بکھرے ہوئے موتیوں کو ایک لڑی میں پرونا ہے تو لکھیے۔

اگر بے ترتیب علمی مواد کو ترتیب دینا ہے تو لکھیے۔

اگر کسی علمی غلطی کی اصلاح کرنی ہے تو لکھیے۔

اگر کسی طویل علمی ذخیرے کو مفید اختصار میں بدلنا ہے تو لکھیے۔

مگر اگر مقصد صرف یہ ہے کہ:
’’میری بھی ایک کتاب ہونی چاہیے!‘‘

تو قلم توڑ دیجیے، کاغذ پھاڑ دیجیے، ٹھنڈا سانس لیجیے، معجون مقوی جوہر دماغ کھائیے، اور اللہ کے واسطے کسی کا دماغ مت کھائیے!

(سترہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)