میں اردو ہوں
ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی ایک خوب صورت آواز
قاری محبوب الحسن محبوؔب مظفرنگری
میں اردو ہوں۔
جی ہاں! میں اردو ہوں۔
میں ہندوستان کی بیٹی ہوں، ہندوستان کی مٹی میں پلی بڑھی، اسی کی فضاؤں میں سانس لی اور اسی کی تہذیب کے آنگن میں پروان چڑھی ہوں۔ میرا وطن ہندوستان ہے؛ وہ ہندوستان جس کی سرحدوں پر ہمالیہ صدیوں سے سربلند کھڑا ہے، جس کی رگوں میں گنگا، جمنا اور بے شمار دریاؤں کا پانی بہتا ہے، جہاں مختلف زبانیں، مذاہب، تہذیبیں اور ثقافتیں مل کر ایک خوب صورت ہندوستان بناتی ہیں۔
میں کسی ایک قوم، کسی ایک خطے یا کسی ایک طبقے کی زبان نہیں؛ میں ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی میراث ہوں۔
میری بہن ہندی ہے، جس سے میرا رشتہ صرف الفاظ کا نہیں بلکہ صدیوں کی مشترکہ زندگی کا ہے۔ میری ماں سنسکرت ہے، جس کے قدیم علمی خزانے نے ہندوستانی لسانی روایت کو ثروت بخشی۔ عربی اور فارسی سے میرا گہرا رشتہ ہے؛ ان زبانوں نے میرے دامن میں علم، ادب، فلسفہ، تصوف اور تہذیب کے بے شمار موتی ڈالے۔ مگر میں نے جس سے بھی کچھ لیا، اسے اپنے مزاج میں ڈھال کر اپنا بنا لیا۔
میری یہی تو پہچان ہے!
میں اختلاط ہوں، مگر انتشار نہیں؛
میں امتزاج ہوں، مگر اپنی شناخت سے بے خبر نہیں۔
میری تخلیق کسی ایک دن، ایک شخص یا ایک مقام پر نہیں ہوئی۔ میں صدیوں کے میل جول، محبت، سفر، تجارت، تعلیم، تصوف، بازار، لشکر، خانقاہ اور عوامی زندگی کے درمیان آہستہ آہستہ پروان چڑھی۔ میں نے ہندوستان کے مختلف علاقوں کی بولیوں سے الفاظ لیے، عربی و فارسی سے علمی و ادبی خزانہ پایا اور مقامی زبانوں کے رنگ اپنے دامن میں سمیٹ لیے۔
اسی لیے میرے لہجے میں ہندوستان کی مٹی کی خوشبو ہے۔
میں نے امیر خسرو کی زبان میں نغمگی دیکھی، ولی دکنی کے ذریعے اپنے سفر کو نئی منزلیں ملتی دیکھیں، میر کے اشکوں کو محسوس کیا، غالب کی فکر میں زندگی کے پیچیدہ سوالات سنے، اقبال کی آواز میں خودی کا پیغام پایا، اور بے شمار شاعروں، ادیبوں، صوفیوں اور اہلِ علم نے میرے دامن کو وسیع کیا۔
میں نے محبت بھی کہی، انقلاب بھی لکھا؛
میں نے دعا بھی مانگی، سوال بھی اٹھایا؛
میں نے غزل بھی کہی، صحافت بھی کی؛
میں نے مدرسے میں علم کی بات کی اور یونیورسٹی میں تحقیق کی؛
میں نے مشاعروں میں داد سمیٹی اور گلی کوچوں میں عام انسان کے جذبات کو آواز دی۔
میری روح انتہائی پاکیزہ ہے۔
میں نے تقدس سے اپنی تخلیق پائی، گلوں سے رنگینی لی، پھولوں کی کلیوں کو اپنے سانس کی خوشبو بنایا اور موسیقی سے ترنم لیا۔ میرے لفظ کبھی اذان کی طرح دل میں اترتے ہیں، کبھی ماں کی دعا بن جاتے ہیں، کبھی محبوب کی گفتگو اور کبھی وطن کی محبت کا نغمہ۔
میرے دامن میں محبت ہے،
میرے لہجے میں شائستگی ہے،
میرے الفاظ میں مٹھاس ہے،
اور میری شاعری میں احساس ہے۔
میں نے انسان کو انسان سے جوڑنے کا ہنر سیکھا ہے۔
میرا کمال یہ نہیں کہ میں نے دوسری زبانوں سے الفاظ لیے؛ میرا کمال یہ ہے کہ میں نے مختلف تہذیبوں کے الفاظ کو اپنے اندر جگہ دے کر ایک ایسی زبان کی تشکیل کی جس میں ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
میرے اندر رام بھی آ سکتے ہیں اور رحمان بھی؛
میرے لفظوں میں گنگا بھی بہہ سکتی ہے اور جمنا بھی؛
میرے اشعار میں دیوالی کے چراغ بھی روشن ہو سکتے ہیں اور عید کی خوشیاں بھی بکھر سکتی ہیں۔
یہی ہندوستان ہے، اور یہی میری خوب صورتی ہے۔
میں اردو ہوں۔
مجھے کسی سے مقابلہ نہیں کرنا۔
مجھے ہندی سے لڑنا نہیں، سنسکرت سے دوری اختیار نہیں کرنی، عربی و فارسی سے رشتہ توڑنا نہیں۔ میری خواہش صرف اتنی ہے کہ مجھے میرے اصل مقام پر پہچانا جائے، میری خدمت کی جائے، میرے ادب کو پڑھا جائے، میرے الفاظ کو سمجھا جائے اور نئی نسل کو میری خوب صورتی سے روشناس کرایا جائے۔
میں کسی دیوار کا نام نہیں، میں ایک پل ہوں۔
میں دلوں کے درمیان پل ہوں،
تہذیبوں کے درمیان پل ہوں،
ماضی اور حال کے درمیان پل ہوں۔
مجھے مٹانے کی کوشش دراصل صرف ایک زبان کو مٹانا نہیں، بلکہ ہندوستان کی ایک پوری تہذیبی روایت کے ایک رنگ کو دھندلا دینا ہے۔
اس لیے مجھے محبت دیجیے، نفرت نہیں؛
مجھے پڑھیے، بھلائیے نہیں؛
مجھے نئی نسل تک پہنچائیے، مجھ سے دور نہ کیجیے۔
کیونکہ میں صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں۔
میں ہندوستان کی تہذیبی یادداشت ہوں۔
میں محبت کی زبان ہوں۔
میں شائستگی کی زبان ہوں۔
میں احساس کی زبان ہوں۔
میں گنگا جمنا کی تہذیبی روانی ہوں۔
اور آج بھی پورے وقار کے ساتھ کہتی ہوں:
جی ہاں!
میں اردو ہوں۔
میں ہندوستانی ہوں۔
میرا وطن ہندوستان ہے۔
اور ہندوستان کی مٹی کی خوشبو میرے ہر لفظ میں بسی ہوئی ہے۔