ادب کا آئینہ
لوگوں نے حضرت لقمانؑ سے پوچھا:
“آپ نے ادب اور دانائی کہاں سے سیکھی؟”
انہوں نے جواب دیا:
“میں نے بے ادب لوگوں سے سیکھی۔ ان کے جو عیب مجھے ناپسند دکھائی دیے، میں نے خود کو ان سے بچا لیا۔”
سعدیؒ اسی مفہوم کو یوں بیان کرتے ہیں:
نگویند از سرِ بازیچہ حرفی
کز آن پندی نگیرد صاحبِ هوش
وگر صد بابِ حکمت پیشِ نادان
بخوانی، آیدش بازیچه در گوش
یعنی: دانا شخص معمولی بات سے بھی نصیحت حاصل کر لیتا ہے، لیکن نادان کے سامنے حکمت کے سو باب بھی پڑھ دیے جائیں تو وہ اسے کھیل سمجھ کر سنیں گا۔
سبق:
عقل مند انسان صرف اچھے لوگوں سے نہیں سیکھتا؛ برے لوگوں کے کردار سے بھی اپنے لیے عبرت حاصل کرتا ہے۔ دوسروں کی خامیوں پر تنقید کرنے کے بجائے یہ دیکھیں کہ کہیں وہ خامی ہمارے اندر تو موجود نہیں۔
یہ حکایت شیخ سعدیؒ نے گلستان، باب دوم: در اخلاقِ درویشان، حکایت ۲۱ میں حضرت لقمانؑ سے منسوب کر کے بیان کی ہے۔ شعر سعدیؒ ہی کا ہے؛ حکایت کا اردو بیان مفہومی خلاصہ ہے، لفظ بہ لفظ ترجمہ نہیں۔