*اگر مسلم خواتین میک اَپ کرنا چھوڑ دیں تو آدھی دنیا بے روزگار ہو جائے۔*
ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں، یہ محض ترقی اور جدت کا دور نہیں بلکہ ایک ایسا تجارتی عہد بھی ہے جہاں انسان کی خواہشات کو ضرورت بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور اس کی پسند کو کاروبار کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ آج دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی چیز ہو جس کی تشہیر کے لیے عورت کے حسن، اس کے چہرے اور اس کے بالوں کو استعمال نہ کیا جاتا ہو۔ بظاہر یہ محض ایک اشتہار ہوتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک پوری تجارتی دنیا آباد ہے۔ہم سب لوگ موبائل استعمال کرتے ہیں آج میں بھی اپنے موبائل پر بیان سن رہا تھا۔ اسی دوران کئی اشتہارات(Adds) سامنے آئے کوئی لڑکی اپنے ہاتھوں میں صابن لیے اس کی خوبیاں بیان کر رہی تھی، کوئی اپنے بال کھول کر تیل کے فوائد بتا رہی تھی اور کوئی طرح طرح کی کریمیں استعمال کرکے اپنے چہرے کو خوب صورت بنتا ہوا دکھا رہی تھی۔ یہ سب دیکھ کر میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا کہ آخر یہ کمپنیاں اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے عورت ہی کو کیوں تلاش کرتی ہیں؟ کیا صابن کی خوبیاں بتانے کے لیے عورت کے ہاتھ اور تیل کے فوائد سمجھانے کے لیے اس کے کھلے بال ضروری ہیں؟ جب میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ عورت کے حسن کو محض خوب صورتی نہیں بلکہ ایک بڑی تجارتی قوت بنا دیا گیا ہے۔
اب ذرا غور کیجیے کہ *میک اَپ کی مصنوعات بنانے والی کمپنیاں، بیوٹی پارلرز، سیلون، اشتہاری ادارے، ماڈلز، آن لائن مارکیٹنگ اور ان سے وابستہ ہزاروں کاروبار اسی صنعت سے اپنا روزگار حاصل کرتے ہیں۔ کہیں کریم فروخت ہو رہی ہے تو کہیں فاؤنڈیشن، کہیں لِپ اسٹک ہے تو کہیں فیس پاؤڈر۔ گویا عورت کے بناؤ سنگھار سے ایک پوری دنیا کا کاروبار وابستہ ہے۔ اسی لیے میں نے لکھا کہ اگر مسلم خواتین میک اَپ کرنا چھوڑ دیں تو آدھی دنیا بے روزگار ہو جائے* یہ کوئی مستند معاشی اعداد و شمار نہیں بلکہ اس وسیع کاروباری نظام کی طرف اشارہ ہے جس میں عورت کے حسن اور اس کی آرائش کو ایک بڑی منڈی بنا دیا گیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آخر عورت کے حسن کو اتنا بڑا کاروبار کیوں بنا دیا گیا ہے؟ کیوں ہر دوسرے دن خوب صورتی کا ایک نیا معیار پیش کیا جاتا ہے؟ پہلے عورت کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اس کے چہرے میں کوئی کمی ہے، پھر اس کمی کو دور کرنے کے لیے ایک نئی کریم بازار میں پیش کر دی جاتی ہے۔ ایک پراڈکٹ ختم ہوتا ہے تو دوسرا آ جاتا ہے اور ایک فیشن پرانا ہوتا ہے تو اس کی جگہ نیا فیشن لے لیتا ہے۔ گویا عورت کو مسلسل یہ باور کرایا جاتا ہے کہ خوب صورت نظر آنے کے لیے اسے کچھ نہ کچھ خریدتے رہنا ہوگا۔اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اسلام نے عورتوں کو پردے کا حکم کیوں دیا اور آج بعض لوگ ہماری بچیوں سے حجاب اور نقاب چھیننے کی باتیں کیوں کرتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:*(وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا) اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جتنا خود ظاہر ہو جائے۔
اسلام نے عورت کو خوب صورت بننے سے نہیں روکا بلکہ اسے حیا اور زینت کے اظہار میں شرعی حدود کی پابندی کی تعلیم دی ہے۔ اسی طرح مردوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے اور پاک دامنی کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن افسوس کہ ایک طرف دنیا عورت کے حسن کو اپنے کاروبار کے لیے زیادہ سے زیادہ نمایاں کرنا چاہتی ہے اور دوسری طرف جب کوئی مسلمان عورت اپنے دین کے مطابق حجاب اختیار کرتی ہے تو اسے پسماندگی کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ اگر عورت کا حسن اشتہار بنے تو اسے ترقی کہا جاتا ہے، لیکن اگر وہ اپنے رب کے حکم پر پردہ کرے تو اس کے انتخاب پر سوال کیوں اٹھائے جاتے ہیں؟ کیا آزادی کا مطلب صرف وہی ہے جو بازار اور فیشن کی دنیا ہمیں سمجھانا چاہتی ہے؟تو میرے عزیز رزلٹ یہ ہے کہ اگر وہ اس چیز کا مطالبہ نہ کریں پھر ان کا بنایا ہوا پروڈکٹ،انکی بنائی ہوئی کریم ان کا بنایا ہوا صابون کون خریدے گا اور یہ سب بے روزگار ہو جائیں گے۔
یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ *ہر اشتہار میں عورت کی موجودگی ہی کیوں؟ اور ہر کمپنی کا مقصد پردے کو ختم کرنا ہی کیوں؟تو جواب صاف ہے کہ جب عورت کی ظاہری کشش کو مسلسل کاروبار کا ذریعہ بنایا جائے اور اس کے حجاب کو کمتر سمجھا جائے،تو یہ آزادی نہیں بلکہ اسکو بے غیرتی سکھانا ہے، اور اکثر کمپنیاں یہود و نصارٰی کی ہیں،اور وہ ہر عورت کو بے غیرت کرنا چاہتے ہیں۔اور وہ بہت حد تک اس میں کامیاب بھی ہو چکے ہیں* تو اس پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت دی ہے اور اسے محض ظاہری حسن کی بنیاد پر پرکھنے کے بجائے اس کے ایمان، کردار، علم اور اخلاق کی اہمیت سمجھائی ہے۔ عورت اپنے شوہر کے لیے بناؤ سنگھار کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن نامحرموں کے سامنے زینت کی نمائش ایک الگ معاملہ ہے جس کے احکام شریعت نے بیان کیے ہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی بچیوں کو صرف خوب صورت نظر آنے کی نہیں بلکہ باوقار بننے کی تعلیم دیں۔ انہیں بتائیں کہ ان کی قدر کسی کریم، کسی لِپ اسٹک یا کسی اشتہار کی محتاج نہیں۔ ان کی اصل پہچان ان کا ایمان، کردار اور حیا ہے۔ حجاب اختیار کرنے والی عورت کو پسماندہ سمجھنا اور اس کے دینی انتخاب کی وجہ سے اس کی تعلیم و ترقی کے راستے میں رکاوٹ ڈالنا کسی طرح درست نہیں۔
آخر میں پھر وہی بات کہ اگر مسلم خواتین میک اَپ کرنا چھوڑ دیں تو آدھی دنیا بے روزگار ہو جائے، اس جملے میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ عورت کے بناؤ سنگھار سے وابستہ کاروبار کس قدر وسیع ہو چکا ہے۔ ایک ڈاٹا کے مطابق فقط ہندوستان میں جتنا پیسہ میک اپ سامان پر خرچ ہوتا ہے اتنا کھانے پر بھی خرچ نہیں ہوتا،جب دنیا عورت کے حسن سے اپنا کاروبار چمکانا چاہتی ہے تو پھر ایک مسلمان عورت کے پردے سے اسے پریشانی کیوں نہ ہو؟ حجاب کسی کاروبار کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور دینی احکام کی پابندی کے لیے ہے۔دنیا عورت کے حسن سے کاروبار ضرور کر سکتی ہے، لیکن ایک مسلمان عورت کی اصل قدر اس کے حسن میں نہیں بلکہ اس کے ایمان، کردار اور حیا میں ہے۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*