Translation unavailable. Showing original.
قاری عبدالباسط عبدالصمد رحمہ اللہ تعالی
29 ستمبر، 2026
معارفِ باسطیہ
حضرت قاری عبدالباسط عبد الصمد مصری رحمۃ اللہ علیہ
قاری عبدالباسط رحمۃ اللہ علیہ نے حفظِ قرآن کے بعد اپنے استاذ کے حکم سے قراءتِ سبعہ پڑھیں، ابتداء میں آپ کئی میل پیدل سفر کر کے ایک قہوہ خانے میں جاتے اور وہاں ریڈیو پر قراء کی تلاوتیں گھنٹوں سنتے اور پھر گھر آ کر خود گھنٹوں مشق کرتے، رفتہ رفتہ آپ کی آواز سے پورا عالمِ اسلام مسحور ہونے لگا، بالآخر 30 / دسمبر 1988ء کے بعد یہ آواز ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔
1- حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا "اللہ تعالیٰ نے قاری عبدالباسط کے سینے میں پھیپھڑے نہیں؛ بلکہ مشکینزے نصب کر رکھے ہیں۔"
2- دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس میں 50 / لاکھ کے مجمع میں اندرا گاندھی آپ کی تلاوت بطورِ خاص سننے آئی تھی۔
3- روس کے صدر خروشیف نے جب قاری عبدالباسط کی تلاوت سنی تو آنسوؤں پر ضبط نہ رکھ سکے۔
4- دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں حضرت قاری عبدالباسط صاحبؒ نے اللہ تعالیٰ کا قرآن لوگوں کو نہ سنایا ہو۔
5- امریکہ میں ایک مرتبہ آپ کی تلاوت سُن کر چار سو غیر مسلم حلقہ بگوشِ اسلام ہو گئے۔
منقول ۔۔۔