اے ہند! 
جب انگریز تیرے سینے پر آباد ہو کر تیری ہی زمین کو قحط زدہ کر دیا تھا، جس سے یہاں ایسی خشکی پیدا ہو گئی تھی کہ اسے واپس ہرا بھرا کرنے کے لیے پانی کی نہیں بلکہ خون کی ضرورت تھی،
 تو اے ہند!
 تجھے یاد ہے نا؟ جنہوں نے اپنے خون سے تیری زمین کو تازہ دم کیا وہ ہم ہی تھے۔
ماؤوں نے اپنے بیٹوں کی قربانیاں دیں تاکہ تو ہرا بھرا رہ سکے۔
باپ نے بیٹوں کو توپوں اور ٹینکوں کے سامنے کھڑا کر دیا تاکہ تجھ سے قحط کے بادل چھٹ سکے۔
بیویوں نے بیوگی کی چادر اوڑھ لی تاکہ تیری زمین سدا لہلہاتی رہے۔
بیٹوں نے یتیمی کا لباس پہنا تاکہ تو ہریالی کے زیورات پہن سکے۔
یہ سلسلہ قحط کے بادل لانے والے انگریز کو تیری حدود سے نکالنے تک قائم رہا اور تقریباً دو سو سال تک ہم نے تجھے اپنے خون سے سیراب کر کے تازہ دم کیا۔
تب جا کر تیرے افق پر آزادی کا سورج طلوع ہوا لیکن افسوس کہ یہ سورج اپنے ساتھ بٹوارے کی کرنیں ساتھ لے کر آیا جس نے ملت اسلامیہ ہندیہ کی اجتماعی طاقت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔
اور یوں اس آزادی نے جہاں غلامی کی زنجیریں توڑ کر ظاہری قحط سے وطن عزیز کو نکال کر سبزہ زار بنایا وہیں دوسری جانب روحانی طور پر قحط زدہ کرنے کے لیے ہمیں (مسلمانوں کو) ملک سے جانے کا پورا اختیار دیا تاکہ یہ ملک مسلمانوں کے خون سے سیراب ہونے کے باوجود سجدے سے محروم ہو جائے، وہ سرزمین جو رحمت خداوندی کو متوجہ کرنے والی صدائے اذان سے گونجتی تھی اس صدا سے محروم ہو جائے اور وہ مسجدیں جن کے وجود سے اس زمین کا رشتہ آسمان سے جڑا ان کے نشانات مٹ جائیں، لیکن ہم نے یہیں آباد ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ تیری اس مٹی کو سجدوں سے سیراب کر کے روحانی طور پر قحط زدہ ہونے سے بچایا جا سکے چنانچہ اس کار عظیم کی راہ میں ہمیں مارا گیا ہم نے برداشت کیا، ہماری مسجدوں کو شہید کیا گیا ہم نے صبر کیا اور ہمارے مدرسوں کو نشانہ بنایا گیا ہم نے برداشت کیا، 
کیوں؟
کیوں کہ ہم امن چاہتے ہیں، ہم نے اپنے خون سے تجھے سیراب کیا ہے اسلیے تجھے برباد ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے۔
لیکن ان تمام قربانیوں کے باوجود کچھ لوگ ہیں جو مسلمانوں کو آئے دن نشانہ بناتے ہیں کبھی داڑھی کے نام پر کبھی ٹوپی کے نام پر کبھی حجاب کے نام پر کبھی مسجد اور مدرسے کے نام پر، ان ہی دل دوز واقعات میں سے اجین کی شاہی مسجد کا واقعہ ہے جس کو بچانے نکلے مسلمانوں کو زدوکوب کیا جا رہا ہے، اور یہ سب کرنے والے خود کو مصلح کہہ رہے ہیں حالانکہ یہی لوگ در اصل مفسد ہیں جو فساد کے نئے نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں ان ہی کے متعلق قرآن نے کہا ہے " ألا انھم ھم المفسدون" ۔۔۔۔
خیر آخر کب تک ہوگا دیکھتے ہیں ۔
ہم صبر کریں گے اللہ کی نصرت اترنے تک یا جسم سے روح کے نکلنے تک ۔۔ انشاء اللہ ۔۔۔۔

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے 
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

اسلم بن ذاکر 🖋️🖋️