وحیِ الٰہی کے سب سے پہلے کلمے ’’اقْرَأْ‘‘ کا مخاطب حضرتِ انسان ہے، نہ کہ فرشتہ۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی حیثیت محض واسطۂ وحی کی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت براہِ راست اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوئی، جبکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کا قرآنِ کریم لے کر آنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سنانا ان کے ذاتی اختیار کا معاملہ نہ تھا؛ بلکہ وہ صرف حکمِ خداوندی کی تعمیل کرتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی مخالفت نہیں کرسکتے تھے۔
اس کے برعکس انسان کو اللہ تعالیٰ نے طاعت و معصیت دونوں کا اختیار عطا فرمایا ہے۔ وہ چاہے تو اپنے رب کی اطاعت اختیار کرے اور چاہے تو نافرمانی کی راہ پر چلے۔ یہی اختیارِ ارادہ اور اختیارِ عمل انسان کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ اسی بنا پر تلاوتِ قرآن کا شرف بھی انسان کو عطا کیا گیا، جبکہ فرشتوں کو اس نوع کی تلاوت کا وہ حکم نہیں دیا گیا جو انسان کو دیا گیا ہے۔
علامہ ابن الصلاح رحمہ اللہ اپنے فتاویٰ میں تحریر فرماتے ہیں:
قِرَأَةُ الْقُرْآنِ کَرَامَةٌ أَکْرَمَ اللہُ بِھَا الْبَشَرَ، فَقَدْ وَرَدَ أَنَّ الْمَلَائِکَةَ لَمْ یُعْطَوْا ذٰلِکَ، وَأَنَّھَا حَرِیْصَةٌ عَلٰی اسْتِمَاعِہ مِنَ الْإِنْسِ۔
یعنی قرآنِ کریم کی تلاوت ایسی عظیم شرافت اور خصوصی کرامت ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے نوعِ انسانی کو سرفراز فرمایا ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کو یہ شرف عطا نہیں کیا گیا؛ اسی لیے وہ انسانوں سے قرآنِ کریم سننے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ فرشتے ان مجالس کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں قرآنِ کریم کی تلاوت کی جاتی ہو، اس کا مذاکرہ ہوتا ہو یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہو۔ چنانچہ جب اہلِ ایمان ایسی بابرکت مجلس میں جمع ہوتے ہیں تو رحمت کے فرشتے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، سکینت ان کے دلوں پر نازل ہوتی ہے اور فرشتے بھی اس مجلسِ قرآن کی برکتوں سے فیض یاب ہوتے ہیں۔
قرآنِ کریم کی تلاوت کی یہ عظمت اس حقیقت سے بھی آشکارا ہوتی ہے کہ فرشتے نہ صرف اہلِ قرآن کی مجالس میں حاضر ہوتے ہیں، بلکہ خود تلاوتِ قرآن کے وقت اس کے کلامِ الٰہی کو سننے اور اس سے قرب حاصل کرنے کے مشتاق رہتے ہیں۔
امام بیہقی رحمہ اللہ نے شعب الإيمان میں یہ روایت نقل فرمائی ہے:
إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ یُصَلِّي مِنَ اللَّیْلِ فَلْیَسْتَکْ، فَإِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا قَرَأَ فِي صَلَاتِہِ وَضَعَ مَلَکٌ فَاہُ عَلٰی فِیْہِ، وَلَا یَخْرُجُ مِنْ فِیْہِ شَیْءٌ إِلَّا دَخَلَ فَمَ الْمَلَکِ۔
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص رات کو نماز کے لیے کھڑا ہو تو مسواک کرلیا کرے؛ اس لیے کہ جب وہ نماز میں قرآنِ کریم کی تلاوت کرتا ہے تو ایک فرشتہ اپنا منہ اس کے منہ کے قریب رکھ دیتا ہے، اور اس کے منہ سے جو چیز نکلتی ہے وہ فرشتے کے منہ میں داخل ہوتی ہے۔‘‘
اسی مفہوم کی ایک روایت بعض اضافے کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔
پس تلاوتِ قرآن محض الفاظ کی ادائیگی کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم شرافت اور خصوصی سعادت ہے۔ جس کلام کو فرشتے سننے کے مشتاق ہوں، اسے اللہ تعالیٰ نے انسان کے سینے میں جگہ دی، اس کی زبان کو اس کی تلاوت کے لیے منتخب فرمایا اور اس کے دل کو اس کے نور سے منور ہونے کا موقع عطا کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان، اپنے رب کے کلام کی تلاوت کرکے، ایک ایسی نعمت سے بہرہ مند ہوتا ہے جس کی تمنا فرشتے بھی کرتے ہیں۔