*دورِ حاضر کے طلبۂ کرام کے لیے کیا ضروری ہے؟*
آج ہمارا معاشرہ جس صورتِ حال سے گزر رہا ہے اس میں طلبۂ کرام کے لیے سب سے بڑا مسئلہ معاشی استحکام کا ہے۔ بالخصوص دینی مدارس کے وہ طلبہ جو اپنی زندگی کے قیمتی سال علمِ دین کے حصول میں صرف کرکے سندِ فضیلت حاصل کرتے ہیں تو اس کے بعد ان کے سامنے معاشی مسائل ایک بڑا چیلنج بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اگر کوئی عالمِ دین کسی مدرسے میں تدریسی خدمات انجام دیتا ہے تو اکثر مقامات پر اسے دس سے بارہ ہزار روپے ماہانہ تک محدود تنخواہ پر اکتفا کرنا پڑتا ہے عمومی طور پر ایسے میں گھر کے اخراجات اور دیگر ضروریات پوری کرنا آسان نہیں ہوتا۔اور ہمارے سامنے بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جب انسان کے پاس علم کے علاوہ کوئی دوسرا ذریعے معاش نہیں تھا تو انہوں نے اپنی زندگی کو الودع کہ دیا اور سب کو روتا ہوا چھوڑ کر چلے گئے ۔لہٰذا آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دینی تعلیم کے ساتھ کسی ایسے ہنر کو بھی سیکھیں جو ہمیں معاشی اعتبار سے خود کفیل بنا سکے۔
میرے عزیز بھائیو (طلبۂ کرام) ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ علمِ دین حاصل کرنا ہماری سعادت ہے اور اس کی خدمت کرنا ہماری ذمہ داری لیکن اپنے معاشی مستقبل کی فکر کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر ہم تعلیم کے زمانے ہی سے کوئی فنی یا تکنیکی مہارت حاصل کرلیں تو مستقبل میں معاشی پریشانیوں سے کسی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔ میں نے جب اپنے اسلاف کی تاریخ کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ *ہمارے بزرگ علم و فضل کے ساتھ تجارت اور کسبِ معاش سے بھی وابستہ تھے۔ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ آپ اپنے زمانے کے عظیم فقیہ اور امام ہونے کے ساتھ تجارت بھی فرماتے تھے۔* ہماری تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جو ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ علم حاصل کرنا اور حلال روزی کمانا ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ بلکہ معاشی خود کفالت انسان کو خود دار بناتی ہے اور اسے اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
*اگر میں اپنی مثال پیش کروں تو میں ابتدا میں کالج کا طالب علم تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اپنے گھر کے دین تعلیم آراستہ لوگوں کے فیصلے کے مطابق مجھے مدرسے میں داخل کیا گیا تاکہ علمِ دین حاصل کرکے عالم بن سکوں۔ تاہم میں نے کالج کی تعلیم کو مکمل طور پر چھوڑنے سے انکار کردیا اور اپنی تعلیم جاری رکھی۔ اسی دوران جب مجھے مولوی کی سند حاصل ہوئی اور دسویں جماعت کی تعلیم بھی مکمل ہوگئی تو لاک ڈاؤن کا زمانہ آگیا۔ میں نے اس وقت فریج واشنگ مشین کولر گیزر ہیٹر مکسر مشین الیکٹرانک دوسری اشیاء وغیرہ کی مرمت کا کام سیکھنا شروع کیا۔ چند مہینوں کی محنت اور مسلسل مشق کے بعد میں اس کام میں مہارت حاصل کرکے عملی میدان میں اتر گیا۔ اس ہنر نے میری زندگی میں نمایاں تبدیلی پیدا کی۔ میرے وہ اخراجات جو پہلے گھر والوں سے حاصل ہوتے تھے اب میں خود پورے کرنے لگا اور ساتھ ہی گھر والوں کو انکی ممانعت کے باوجود بھی مالی تعاون فراہم کرنا شروع کردیا۔*
*الحمدللہ! آج بھی میں کالج کا طالب علم ہوں ازہرِ ہند الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور کا متعلم بھی ہوں اور اس کے ساتھ ایک الیکٹرانکس کاریگر کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کررہا ہوں۔* میرا مقصد اپنی مثال بیان کرکے خود کو نمایاں کرنا نہیں بلکہ اپنے عزیز طلبہ کو یہ پیغام دینا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ ہر طالب علم اپنی صلاحیت اور دلچسپی کے مطابق کوئی نہ کوئی ہنر ضرور سیکھے۔ کوئی کمپیوٹر کی مہارت حاصل کرے، کوئی گرافک ڈیزائننگ سیکھے، کوئی تجارت کا راستہ اختیار کرے اور کوئی کسی فنی شعبے میں مہارت پیدا کرے۔ البتہ اس بات کا خیال رہے کہ ہنر اور کاروبار کی مصروفیت ہماری دینی تعلیم اور بنیادی ذمہ داریوں میں رکاوٹ نہ بنے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ دورِ حاضر کے طلبۂ کرام کو علمِ دین کے ساتھ معاشی خود کفالت کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ ہمیں اپنے اسلاف کی تاریخ سے سبق لیتے ہوئے علم و ہنر اور دین و دنیا کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ یاد رکھیے ہنر سیکھنا ہماری شان کے خلاف نہیں بلکہ خود داری کی علامت ہے۔ علمِ دین ہماری پہچان ہے ہنر ہماری ضرورت ہے اور حلال روزی ہماری ذمہ داری۔ ہمیں ایسے علما بننے کی کوشش کرنی چاہیے جو علم و عمل میں بھی ممتاز ہوں اور معاشی اعتبار سے بھی اس قدر خود کفیل ہوں کہ عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور پوری یکسوئی کے ساتھ دین کی خدمت انجام دے سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہم طلبۂ کرام کو علمِ نافع عملِ صالح حلال روزی اور دین و دنیا کی کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*