کیا تم حضرت ہو؟ — ایک جملہ، کئی معنی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (121)
”کیا تم حضرت ہو؟“
یہ بظاہر ایک عام سا جملہ ہے، مگر حقیقت میں یہ وہ جملہ ہے جو کبھی تسلی، اپنائیت اور پیار کا احساس دلاتا ہے، اور کبھی دل پر ایسا تیر چبھوتا ہے جو انسان کے اندر تک کو زخمی کر دیتا ہے۔ عام طور پر اس جملے کے پیچھے بولنے والے کے دل کی کیفیت، کدورت یا دشمنی بھی جھلک سکتی ہے۔
اس جملے کی کئی صورتیں اور کئی مفہوم ہیں، اور اس کا اصل مقصد اکثر بولنے والے کے لہجے، انداز، حرکات و سکنات اور موقع و محل سے معلوم ہوتا ہے۔ کبھی یہی جملہ محبت اور اپنائیت کے طور پر بولا جاتا ہے، لیکن اکثر مواقع پر یہ حسد، عناد، تحقیر، طنز یا کسی مخصوص شخص کو کمتر دکھانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
قرآنِ کریم ہمیں دوسروں کا مذاق اڑانے اور انہیں حقیر سمجھنے سے روکتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ﴾
”اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے۔“
(سورۃ الحجرات: 11 اور /12پڑھیں )
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده“
”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“
سنن ترمذي/كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2627]
اس لیے زبان سے معمولی سمجھے جانے والے الفاظ بھی مہذّب اور شائستگی سے نکلنا چاہیئے
کیوں کہ ایک ہی جملہ دو مختلف لوگوں سے، دو مختلف لہجوں میں اور دو مختلف مواقع پر بولا جائے تو اس کا مفہوم بالکل بدل سکتا ہے۔ کبھی سننے والا اسے محبت سمجھتا ہے اور کبھی نفرت
لہٰذا! ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کیا کہا گیا؟ بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کیسے کہا گیا، کیوں کہا گیا اور کس موقع پر کہا گیا؟
بعض اوقات ایسے جملے کے پیچھے محض بے تکلفی یا مزاح ہوتا ہے، لیکن بعض مواقع پر اس میں حسد، عناد، رنجش، تحقیر یا کسی مخصوص شخص کو کمتر ثابت کرنے کا جذبہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ البتہ ہر مرتبہ کسی کے دل کی نیت کا فیصلہ کر دینا بھی درست نہیں؛ اصل صورتِ حال کو اس کے لہجے، رویے اور موقع و محل سے سمجھنا چاہیے۔کیوں کہ یہ الفاظ کبھی کسی کے دل پر گہرا اثر چھوڑ سکتے ہیں۔
تین مختلف صورتیں، ایک ہی جملہ
1۔ محبت اور تسلی کے انداز میں
کسی سے بات کرتے وقت آپ کچھ اچھی اور خیر کی باتیں کریں۔ سامنے والا آپ کی باتوں سے مطمئن ہو تو اچانک محبت یا اپنائیت سے کہہ دے:
”کیا تم حضرت ہو؟“
اگر لہجہ خوشگوار ہے، انداز میں محبت ہے اور مقصد حوصلہ افزائی یا تعجب ہے تو یہ جملہ آپ کے لیے تسلی، پیار اور اپنائیت کا اظہار ہو سکتا ہے۔
یعنی یہاں لفظ وہی ہے، مگر اس کے پیچھے جذبہ مثبت ہے۔
2۔ بحث یا اختلاف کے دوران
کسی سے کوئی بحث ہوگئی، یا آپ کسی معاملے میں کنفیوژن کا شکار ہوگئے، تو اچانک آپ سے کہا جائے:
”کیا تم حضرت ہو؟“
اگر یہ جملہ طنزیہ انداز میں بولا گیا ہے تو یہاں مقصد آپ کو شرمندہ کرنا، کمتر دکھانا، آپ کی بات کو بے وقعت کرنا یا آپ کو یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ تم کوئی بہت بڑے صاحبِ علم یا بے خطا شخص نہیں ہو
حالاں کہ اختلافِ رائے یا کسی معاملے میں الجھن پیدا ہونا انسانی فطرت ہے۔ ہر انسان سے غلطی ہو سکتی ہے اور ہر شخص کو کسی نہ کسی معاملے میں وضاحت یا رہنمائی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
3۔ بچوں یا خاندان کے معاملے میں
آپ کے بچے کچھ شرارت کریں، یا آپ خود یا آپ کی فیملی میں سے کوئی کسی سے جھگڑ پڑے—یہ الگ بات ہے کہ آپ حق بجانب ہیں یا غلط—مگر آپ سے اچانک کہا جائے:
”کیا تم حضرت ہو؟“
اگر یہاں لہجہ طنزیہ یا تحقیر آمیز ہے تو مقصد آپ کو شرمندہ کرنا، نیچا دکھانا یا کسی ظاہر و پوشیدہ رنجش، حسد یا عناد کا اظہار بھی ہو سکتا ہے۔
یعنی جملہ سننے کے بعد صرف الفاظ ہی نہیں، بلکہ بولنے والے کا انداز، لہجہ، چہرے کے تاثرات، حرکات و سکنات اور موقع و محل آپ کو بتا دیتے ہیں کہ اس جملے کے پیچھے خیرخواہی ہے یا طنز، محبت ہے یا کدورت۔
یہ تین مثالیں صرف چند واقعات نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے ایک ایسے لسانی اور اخلاقی مرض کی نشاندہی ہیں جس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اصل مسئلہ ”حضرت“ کا لفظ نہیں
یہ بات خاص طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ”حضرت“ کوئی برا یا قابلِ اعتراض لفظ نہیں۔
اردو زبان اور ہمارے معاشرتی ماحول میں ”حضرت“ احترام، محبت اور تعظیم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ علماء، بزرگوں، والدین اور بعض اوقات عام لوگوں کو بھی احتراماً ”حضرت“ کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔
لہٰذا یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ”کیا تم حضرت ہو؟“ ہر حال میں غلط جملہ ہے۔
غلطی وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں یہی لفظ طنز، تحقیر، تمسخر یا کسی کو نیچا دکھانے کے لیے استعمال کیا جائے۔
یعنی ہمارا اعتراض لفظ پر نہیں، لفظ کے غلط استعمال پر ہے۔
یہی اس پورے مضمون کا بنیادی نکتہ ہے۔
میرے بھائیو! جملہ بولنے سے پہلے ایک لمحہ رکیں
میرے بھائیو! آپ ہر چھوٹی موٹی بات پر ایسا جملہ استعمال نہ کریں جس سے سامنے والے کو تحقیر یا تمسخر کا احساس ہو۔
خاص طور پر ایسے الفاظ جن کا تعلق احترام یا مذہبی نسبت سے ہو، انہیں اگر طنزیہ انداز میں استعمال کیا جائے تو بات صرف ایک شخص کی دل آزاری تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس سے ایک دینی نسبت کا بھی غلط تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔
اس لیے بہتر ہے کہ اگر کسی کی بات غلط ہو تو صاف کہیں:
”آپ کی یہ بات درست نہیں لگ رہی۔“
اگر کسی سے غلطی ہوئی ہے تو کہیں:
”یہاں شاید آپ سے غلطی ہوئی ہے۔“
اگر کسی کے بچے نے شرارت کی ہے تو کہیں:
”بچے سے غلطی ہوئی ہے، اسے سمجھا لیتے ہیں۔“
یعنی اصلاح کے لیے الفاظ بہت ہیں، ضروری نہیں کہ طنز ہی کا سہارا لیا جائے۔
قرآنِ کریم فرماتا ہے:
«﴿وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا﴾
”اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔“
(البقرۃ: 83)»
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«”جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“
(صحیح بخاری و مسلم : حدیث نمبر 6018 /47)
یہ تعلیم ہمیں صرف یہ نہیں بتاتی کہ کیا کہنا ہے بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ کیسے کہنا ہے۔
عالم اور حافظ بھی انسان ہیں
میرے اہلِ معاشرہ! آپ یہ نہ سمجھیں کہ کوئی اگر عالم یا حافظ ہے تو اس سے غلطی نہیں ہوتی، اس کے بچے شرارت نہیں کرتے، یا اس کی فیملی کسی سے نہیں جھگڑتی۔
یاد رہے! عالم بھی انسان ہے، حافظ بھی انسان ہے، دیندار بھی انسان ہے اور عام آدمی بھی انسان ہے۔
انسان کی یہی فطرت ہے کہ اس سے غلطی ہوتی ہے، اس کے بچے شرارت کرتے ہیں، گھر میں اختلاف پیدا ہوتا ہے اور کبھی وہ خود بھی کسی معاملے میں درست نہیں ہوتا۔
کسی کی علمی یا دینی حیثیت اسے انسانی فطرت سے الگ نہیں کرتی۔
اس لیے اگر کوئی عالم، حافظ یا عام آدمی کسی معاملے میں غلطی کرے تو اس کی اصلاح کیجیے، مگر اس کی حیثیت کو طنز کا نشانہ نہ بنائیے۔
اور اگر کوئی شخص واقعی غلطی پر ہو تو اسے صرف اس لیے درست نہ سمجھیں کہ وہ عالم یا حافظ ہے۔ احترام اپنی جگہ، اصلاح اپنی جگہ۔
حرفِ آخر: لفظ سے زیادہ لہجہ یاد رہتا ہے
ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ کبھی مسئلہ الفاظ کا نہیں ہوتا، الفاظ کے پیچھے چھپی کیفیت کا ہوتا ہے۔
”کیا تم حضرت ہو؟“
یہی جملہ کسی کے لیے محبت بن سکتا ہے اور کسی دوسرے کے لیے طنز۔
یہی جملہ کسی کو مسکرا سکتا ہے اور کسی کو اندر سے زخمی کر سکتا ہے۔
اس لیے کسی سے بات کرتے ہوئے صرف الفاظ نہ تولیں، اپنا لہجہ بھی تولیں، اپنا مقصد بھی دیکھیں اور سامنے والے کے دل کا بھی خیال رکھیں۔
لفظ ”حضرت“ سے نہیں، اس لفظ کے غلط اور تحقیر آمیز استعمال سے بچنے کی ضرورت ہے۔
اگر ہماری زبان کسی کی اصلاح کر سکتی ہے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے؛ اور اگر ہمارے الفاظ صرف کسی کو نیچا دکھانے کے لیے نکل رہے ہیں تو بہتر ہے کہ ہم ایک لمحے کے لیے رک جائیں۔
کیونکہ اچھی گفتگو وہ نہیں جس میں ہم دوسرے کو شکست دے دیں؛ اچھی گفتگو وہ ہے جس میں بات بھی سمجھ آ جائے اور دل بھی نہ ٹوٹے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ، حسنِ اخلاق، نرم گفتاری، دوسروں کی عزت کا احساس اور اپنی زبان کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
بقلم: محمودالباری
mahmoodulbari342gmail