اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسانی زندگی کے ہر شعبے بشمول سیاست و حکومت کے لیے واضح احکام و رہنما اصول دیتا ہے۔ قرآن مجید اور سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اسلامی سیاست کا بنیادی مقصد اللہ کی زمین پر اللہ کے احکام کی بالاستیعاب نافذ کرنا، عدل و انصاف قائم کرنا، انسانیت کی فلاح و بہبود اور معاشرے میں امن و استحکام پیدا کرنا ہے
خلافتِ راشدہ کا نمونہِ کامل
حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد خلافتِ راشدہ (حضرت ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم) اسلامی حکومت کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے جس میں شوریٰ، عدل، مساوات، احتساب اور عوام کی فلاح کو فوقیت دی گئی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے
اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مر گیا تو قیامت کے دن عمر سے اس کا پوچھا جائے گا..
یہ اسلامی حکومت میں حکمران کی ذمہ داری کا واضح اعلان ہے
حکومت کے بنیادی اصول
توحید و حاکمیتِ الٰہیہ: اللہ ہی واحد حاکمِ مطلق ہے، انسان اس کی طرف سے امانتاً حکمرانی کرتا ہے (سورۃ آل عمران)
شوریٰ: اہم امور میں باہمی مشاورت (سورۃ الشوریٰ)
عدل و انصاف: اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف پر قائم رہو خواہ تمہیں اپنے اوپر یا ماں باپ اور رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ گواہی دینی پڑے (النساء)
احسان و مساوات: رنگ، نسل، زبان کی تفریق کے بغیر سب برابر ہیں
امانت و امانت داری: حکمران عوام کی امانت ہیں، خیانت قابلِ معافی جرم نہیں
احتساب: حکمران بھی قانون کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں..
جدید دور
آج کے دور میں اسلامی حکومت کا مطلب خلافت کا احیا یا کوئی مخصوص طرزِ حکومت نہیں بلکہ قرآن و سنت کے ان اصولوں پر مبنی کوئی بھی نظامِ حکومت ہے جو عدل، شوریٰ، آزادیِ رائے، انسانی حقوق اور اللہ کی حدود کا احترام کرے۔ چاہے وہ جمہوری ڈھانچہ ہو یا کوئی اور، شرط یہ ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ کی ہو اور قانون کی بنیاد شریعت ہو..
اسلامی سیاست کا ہدف محض اقتدار نہیں بلکہ اللہ کی رضا، انسانیت کی بھلائی اور معاشرے میں امن و عدل کا قیام ہے۔ جب تک حکمران قرآن کے فرمان "وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ" (المائدہ: ۴۷) پر عمل کریں گے، تب تک اسلامی حکومت واقعی "رحمتٌ للعالمین" کا نمونہ بن سکتی ہے.
اللہ ہمیں دین کے صحیح فہم اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے...... آمین