رزمِ احد
کاروانِ وفا کے ساتھ کچھ جلباب میں چھپی ہوئی قواریر بھی تھی ام سلیم،ام سلیط،حضرت عائشہ صدیقہ،ام عمارہ یہ لوگ مشکیزے ڈھو کر مجاہدین کو پانی پلانے کا کام انجام دے رہی تھی۔۔۔
ام عمارہ نسیبہ بنت کعب نے جب حبیب ﷺ پر کفار کا یہ نرغہ دیکھا،اور ابن قمیئہ کی ہوش ربا یلغار دیکھی تو مشکیزہ پھینکا چادر سنبھالی اور خنجر ناپ لیا،ابن قمیئہ کے سامنے معرکہ آرا ہوئی پے درپے وار چلے بدبخت دو زرہیں پہنا ہوا تھا بچ نکلا لیکن ام عمارہ کے کندھے پر سخت زخم پہنچا،ان کے گرد ان کے شوہر زید بن عاصم،اور بیٹا عبد اللہ بن زید بھی مشرکین کے سر مار رہے تھے،دریں اثنا عبد اللہ کو ایک کافر کی شمشیر سے خاصا زخم پہنچا جس سے خون کا فوارہ چھوٹا،حبیب ﷺ نے ام عمارہ کو اشارہ کیا وہ آ کر اپنی چادر کا حصہ پھاڑ کر زخم پر رکھ لیا،حبیب یہ والہانہ دلیرانہ کارنامہ دیکھ کر تبسم بکھیرنے لگے،کہنے لگے اے بنت کعب اللہ تعالیٰ مزید ہمت و حوصلہ دیں،فرمانے لگی اے اللہ کے حبیب ﷺ ایک التماس ہے کہ ہمیں جنان خلد میں آپ کی رفاقت نصیب ہو،زبانِ وحی سے ان کے لیے دعا نکلی اے رب ام عمارہ کا اہل خانہ جنت میں میرا رفیق و ہم نوا ہو۔۔
ام عمارہ کہنے لگی اس دعا کے بعد مجھے نہ کوئی رنج و الم تھا اور نہ کسی مصیبت کی پرواہ تھی۔۔۔
حسن نذیری