مروّت، حسنِ اخلاق اور اسلامی کردار
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (120)
محترم اسلامی بھائیو اور بہنو!
آج ہمارا معاشرہ مختلف مذاہب، طبقات اور نظریات سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر مشتمل ہے۔ ایسے ماحول میں رہتے ہوئے ایک مسلمان کا کردار محض اپنی ذات تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس کے اخلاق، سماجی رویّے، معاشرتی سوچ اور دینی ذمہ داری کا اثر اس کے اردگرد رہنے والے تمام لوگوں پر پڑنا چاہیے۔ اسے اپنے عمل سے صبر، تحمل، انصاف، خیرخواہی اور حسنِ اخلاق کا نمونہ بننا چاہیے۔ ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام، باہمی تعاون اور صبر و تحمل محض معاشرتی ضرورت نہیں، بلکہ ایک مسلمان کی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔
اسلام ہمیں صرف عبادات کی ادائیگی کا درس نہیں دیتا، بلکہ انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک، معاملات میں انصاف، زبان کی حفاظت اور معاشرے میں خیر و بھلائی پھیلانے کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ ایک مسلمان کی دینداری کا اثر اس کے معاملات اور معاشرتی کردار میں بھی نمایاں ہونا چاہیے، تاکہ اس کی ذات دوسروں کے لیے امن، اعتماد اور خیر کا ذریعہ بنے۔
پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک اور زبان کی حفاظت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ۔
ترجمہ: جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے؛ جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے؛ اور جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر: 6018؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر: 47۔
اس مبارک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ایمان کے ساتھ پڑوسی کو تکلیف نہ دینے، مہمان کی عزت کرنے اور اچھی گفتگو کرنے کو جوڑا ہے۔ اس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ ایک مسلمان کو اپنے معاشرتی معاملات میں زبان، رویّے اور عمل کے ذریعے دوسروں کو اذیت پہنچانے سے بچنا چاہیے۔
اپنے پڑوسیوں کے ساتھ، مذہب سے قطع نظر، حسنِ سلوک اور انصاف کا معاملہ کرنا چاہیے۔ غیر ضروری بحث، تلخ کلامی اور تکرار سے بچنا چاہیے، کیونکہ ایک مسلمان کی زبان اس کے اخلاق کی ترجمان ہوتی ہے، اور اس کے الفاظ کبھی دلوں کو جوڑتے ہیں تو کبھی رشتوں اور معاشرتی تعلقات میں دراڑ پیدا کر دیتے ہیں۔
یاد رہے! مذکورہ حدیث پڑوسی کے حقوق، حسنِ معاشرت اور اچھی گفتگو کی عمومی تعلیم دیتی ہے۔ اس سے دوسرے مذاہب کی مخصوص مذہبی رسومات میں شرکت یا ان کے عقیدے کی تائید کا ہرگز، ہرگز نہ حکم ہے اور نہ ہی ایسا استدلال کیا جا سکتا ہے۔ مذہبی احترام اور اپنے عقیدے پر قائم رہنا، دونوں کا الگ الگ مقام اور حدود ہیں۔ دونوں کو الگ الگ ہی ملحوظ رکھنا چاہیے۔
ہمیں چاہیے کہ اپنے دینی عقائد پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے، دوسروں کے ساتھ عدل، شائستگی اور حسنِ سلوک کا معاملہ کریں۔ اپنے عقیدے کی حفاظت اور دوسروں کے انسانی و معاشرتی حقوق کی رعایت، ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ اپنی اپنی حدود میں دونوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
الغرض: اسلامی تعلیمات اور ہمارا عملی کردار
مسلمانوں کے لیے یہ حدیث کتنی بہترین تربیت اور اسلام کی اعلیٰ تعلیمات کی کتنی خوب صورت ترجمانی کرتی ہے! مگر افسوس کہ ان عظیم تعلیمات کے باوجود بعض مسلمان اپنے عملی رویّوں میں ان سے دور نظر آتے ہیں۔
بعض لوگوں کی خود غرضی، ضد، انا اور غیر ضروری بحث و تکرار ایسا ماحول پیدا کر دیتی ہے، جس کا خمیازہ صرف انہیں نہیں، بلکہ پورے معاشرے اور بالخصوص بے قصور لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری ایک ضد، ایک تلخ جملہ یا ایک غیر ضروری ہٹ دھرمی کس قدر بڑے فتنے کا سبب بن سکتی ہے؟
کیا ہم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر یہ سوچا ہے کہ جس معاملے کو ہم اپنی عزت، انا یا حق کا مسئلہ سمجھ کر طول دے رہے ہیں، کہیں وہ ہماری اپنی کمزوری، بے احتیاطی یا جذباتی رویّے کا نتیجہ تو نہیں؟
یاد رکھیے! ہر بات پر اڑ جانا بہادری نہیں، ہر اختلاف کو دشمنی سمجھ لینا دانائی نہیں، اور ہر معاملے میں اپنی بات منوانا انصاف نہیں۔ حقیقی دانائی یہ ہے کہ انسان حق کو حق تسلیم کرے، غلطی کی اصلاح قبول کرے اور معاشرتی امن و خیر کو اپنی ذاتی ضد اور انا پر ترجیح دے۔
حسد، ضد اور انا کی نحوست
میں نے ایسے حالات دیکھے بھی ہیں اور ان کی تلخی جھیلی بھی ہے کہ ہمارے بعض مسلم بہن بھائی حسد، ذاتی رنجش یا کسی پوشیدہ دشمنی کی بنا پر غیروں سے معمولی معاملات کو بلاوجہ طول دے کر تکرار اور بحث میں پڑ جاتے ہیں، یہاں تک کہ معاملہ حد سے گزر جاتا ہے۔
پھر جب کوئی مخلص شخص حکمت و خیرخواہی کے ساتھ معاملہ رفع دفع کرنے یا مصلحتاً کچھ ڈانٹ ڈپٹ اور غلطی کی نشاندہی کرے، تو اسے بھی اپنا خیرخواہ سمجھنے کے بجائے دشمن تصور کرنے لگتے ہیں؛ یہاں تک کہ یہ بدگمانی پال لیتے ہیں کہ یہ بھی انہی میں سے ہے۔ چنانچہ اس مخلص شخص کے خلاف بھی بلاوجہ بدگمانیاں پھیلانے لگتے ہیں۔
یہ ضد، انا اور حسد کی وہ نحوست ہے کہ انسان خود تو آگ کی بھٹی میں جلتا ہے، مگر دوسروں کو بھی جلائے بغیر اسے چین نہیں آتا۔
کاش! ہم سمجھیں کہ مخلصانہ خیرخواہی دشمنی نہیں، اصلاح کی دعوت ہے؛ اور ہر اختلاف کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے صبر، حکمت، انصاف اور حسنِ اخلاق سے حل کرنا ہی حقیقی دانائی ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ خیرخواہی کرنے والا ہر شخص ہماری مخالفت نہیں کر رہا ہوتا۔ کبھی کبھی ایک مخلصانہ تنبیہ، ایک تلخ مگر اصلاحی جملہ اور ایک بروقت روک ٹوک انسان کو بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے۔ البتہ خیرخواہی کا طریقہ بھی حکمت، نرمی، مصلحت اور مناسب انداز پر مبنی ہونا چاہیے، تاکہ اصلاح کا مقصد حاصل ہو، دل آزاری اور فساد کا دروازہ نہ کھلے۔
معاشرتی تعاون اور باہمی احترام
برادرانِ اسلام! یاد رکھیں، آپ جس گلی، محلے اور بستی میں رہتے ہیں، اسی گلی، محلے اور بستی میں اگر دوسرے مذہب کے ماننے والے کوئی مذہبی یا معاشرتی پروگرام منعقد کریں، تو ہمیں باہمی احترام اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
اگر کسی سے تعاون کی درخواست کی جائے اور اس میں کوئی شرعی یا حقیقی ممانعت نہ ہو، تو افراط و تفریط سے بچ کر، شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے تعاون بھی کرنا چاہیے۔ محض ضد، حسد، عناد اور انا کی خاطر انکار کرنا مناسب نہیں، کیونکہ ہر معاملے کو ذاتی رنجش یا مذہبی اختلاف کی عینک سے دیکھنا معاشرتی خیر کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
کیوں کہ گلی کی خوشی یا کوئی فنکشن، اگرچہ وہ کسی بھی طبقے سے متعلق ہو، صرف چند لوگوں کی خوشی نہیں ہوتی، بلکہ وہ پوری گلی کی خوشی ہوتی ہے۔ جب لوگ ایک ہی گلی، محلے اور بستی میں رہتے ہیں تو ان کے درمیان باہمی تعاون، خوش اخلاقی اور ایک دوسرے کے حالات کا لحاظ معاشرتی زندگی کو بہتر بناتا ہے۔
اگر کسی موقع پر راستہ صاف رکھنے، گھروں کے سامنے سے گاڑی ہٹانے یا انتظام میں معمولی تعاون کی ضرورت ہو، تو ہمیں اپنے اپنے اعتبار سے مناسب تعاون کرنا چاہیے۔ اسی طرح گفتگو میں بھی شائستگی اور احترام ہونا چاہیے، اور کسی بھی معاملے میں ہمیں انصاف کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ اسلام ہمیں ظلم سے بچنے کے ساتھ ساتھ دوسروں پر ظلم نہ کرنے، حسنِ اخلاق اپنانے اور معاملات کو حکمت کے ساتھ حل کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
کسی بھی اختلاف کو مذہبی دشمنی، الزام تراشی یا باہمی نفرت کی طرف لے جانا نہ فرد کے لیے مفید ہے اور نہ معاشرے کے لیے۔
یہاں ایک بات کا لحاظ بھی ضروری ہے کہ باہمی تعاون کا مطلب اپنے دینی اصولوں اور شرعی حدود سے تجاوز کرنا نہیں، بلکہ جائز اور مباح امور میں انسانیت، پڑوسی داری اور معاشرتی مروّت کا مظاہرہ کرنا ہے۔ جہاں شرعی ممانعت یا حقیقی نقصان کا اندیشہ ہو، وہاں حکمت کے ساتھ اپنی حدود کی پاس داری کی جائے؛ اور جہاں ایسی کوئی ممانعت نہ ہو، وہاں محض بغض و عناد کو تعاون سے گریز کا سبب نہ بنایا جائے۔
اختلاف میں انصاف اور اپنے اعمال کا محاسبہ
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر سے خود غرضی، ضد، انا اور غیر ضروری بحث و تکرار کو کم کریں۔ ہر اختلاف میں فوراً اپنے آپ کو مظلوم اور دوسرے کو ظالم سمجھ لینا انصاف نہیں۔ ہمیں اپنے اعمال اور الفاظ دونوں کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
کسی بھی معاملے میں فیصلہ کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ حقیقت کیا ہے، ہماری اپنی غلطی کہاں ہے اور دوسرے فریق کے حقوق کیا ہیں۔ صرف اپنی بات سنانا، دوسرے کی بات کو نظرانداز کرنا اور ہر اختلاف میں خود کو بے قصور سمجھنا انسان کو انصاف سے دور کر دیتا ہے۔
اگر ہم واقعی اسلامی تعلیمات کے مطابق معاشرتی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے جذبات پر قابو، اپنی زبان پر نگرانی اور اپنے فیصلوں میں انصاف پیدا کرنا ہوگا۔ اختلافات زندگی کا حصہ ہیں، لیکن ان اختلافات کو کس انداز سے حل کیا جاتا ہے، یہی ہمارے اخلاق، تربیت اور دینی شعور کا امتحان ہے۔
اسلام کی عملی دعوت
یاد رکھیے! بعض اوقات ایک مسلمان کی غیر ذمہ دارانہ حرکت کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے خاندان، محلے اور پوری مسلم برادری تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسے رویّے غیر مسلموں کے سامنے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرنے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
اسلام کی حقیقی دعوت صرف زبان سے نہیں، بلکہ ہمارے صبر، کردار، انصاف، مروّت اور حسنِ معاشرت سے بھی ہوتی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے کردار سے یہ ثابت کریں کہ اسلام انسان کو ظلم، بدزبانی، خود غرضی اور فساد کی طرف نہیں، بلکہ عدل، رحم، خیرخواہی، صبر اور حسنِ اخلاق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ہم اپنے عقائد پر ثابت قدم رہتے ہوئے بھی اپنے پڑوسیوں، اپنے معاشرے اور اپنے اردگرد رہنے والے تمام انسانوں کے ساتھ جائز حدود میں احترام، انصاف اور مروّت کا معاملہ کر سکتے ہیں۔
آئیے! ہم عہد کریں کہ اپنی ضد کو انصاف پر، اپنی انا کو خیرخواہی پر اور اپنی تلخی کو حسنِ اخلاق پر غالب نہیں آنے دیں گے۔ ہم اختلاف کو فساد نہیں بننے دیں گے، مخلصانہ نصیحت کو دشمنی نہیں سمجھیں گے اور اپنے کردار کو اسلام کی عملی ترجمانی کا ذریعہ بنائیں گے۔
کیونکہ ایک مسلمان کی اصل پہچان صرف اس کی گفتگو سے نہیں، بلکہ اس کے معاملات، اس کے اخلاق، اس کی مروّت اور دوسروں کے لیے اس کے رویّے سے بھی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح دینی فہم، حسنِ اخلاق، صبر و تحمل، انصاف، اخلاص اور معاشرتی خیرخواہی کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں اپنی اصلاح کرنے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے اور اسلام کی تعلیمات کو اپنے کردار کے ذریعے پیش کرنے والا بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
بقلم: محمودالباری
mahmoodulbari342gmail