*اقتدار فخر نہیں بلکہ ایک عظیم امانت تھا۔*

تاریخ اسلام کے اوراق میں ایسے عظیم حکمرانوں کے واقعات ملتے ہیں جن کے نزدیک حکومت و اقتدار عیش و عشرت کا ذریعہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بھاری امانت تھا۔ روایت کیا جاتا ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت عامر بن سعید رضی اللہ عنہ کو ایک صوبے کا گورنر مقرر فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ آپ رعایا سے ان کے گورنروں کے حالات دریافت فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ تمہارا گورنر کیسا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ امیرالمؤمنین گورنر اچھے ہیں مگر ہمیں ان سے چار شکایتیں ہیں۔ پہلی یہ کہ پہلے فجر کے بعد لوگوں کے مسائل سنتے تھے مگر اب چاشت کے وقت آتے ہیں۔ دوسری یہ کہ دن میں ہماری بات سنتے ہیں مگر رات میں نہیں سنتے۔ تیسری یہ کہ ہفتے میں ایک دن ہمارے درمیان نہیں آتے اور چوتھی یہ کہ کبھی کبھی لوگوں کے درمیان بیٹھے بیٹھے رونے لگتے ہیں اور غشی طاری ہوجاتی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عامر بن سعید رضی اللہ عنہ کو طلب فرمایا اور ان سے ان شکایتوں کی وجہ دریافت کی۔
حضرت عامر بن سعید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ امیرالمؤمنین میری اہلیہ نے چالیس سال تک میری خدمت کی ہے اور اب بڑھاپے اور معذوری کی وجہ سے اپنے کام خود نہیں کرسکتیں۔ میں غریب آدمی ہوں اور خادم رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اس لیے فجر کے بعد میں خود گھر کے کام کرتا ہوں۔ جھاڑو لگاتا ہوں۔ ناشتہ تیار کرتا ہوں اور اپنی اہلیہ کو ناشتہ کراکر پھر لوگوں کے مسائل سننے آتا ہوں۔ دوسری شکایت کے بارے میں عرض کیا کہ دن کا وقت لوگوں کے حقوق ادا کرنے کے لیے ہے اور رات کا وقت اپنے رب کے حضور عبادت اور مناجات کے لیے۔ میں رات کو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا ہوں اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں۔ تیسری شکایت کے متعلق عرض کیا کہ میرے پاس پہننے کے لیے صرف ایک جوڑا کپڑا ہے۔ ہفتے میں ایک دن اسے دھوتا ہوں تو جب تک وہ خشک نہیں ہوتا میرے پاس پہننے کے لیے دوسرا لباس نہیں ہوتا۔ اسی لیے اس دن گھر سے نہیں نکل پاتا۔ ذرا دیکھیے ایک صوبے کا گورنر ہے مگر گھر میں اپنی معذور بیوی کی خدمت خود کرتا ہے۔ راتیں عبادت میں گزارتا ہے اور پہننے کے لیے دوسرا لباس تک نہیں رکھتا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے چوتھی شکایت کے بارے میں پوچھا تو حضرت عامر بن سعید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ امیرالمؤمنین جب مجھے اپنے سابقہ گناہ یاد آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کا خیال آتا ہے تو میں اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ پاتا۔ مجھے یہ فکر ستاتی ہے کہ جب اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہوگا تو میں پوری زندگی کا حساب کیسے دوں گا۔ یہی سوچ مجھے رلا دیتی ہے اور کبھی غشی طاری ہوجاتی ہے۔ پھر عرض کیا کہ امیرالمؤمنین میرے لیے دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے مجھے بغیر حساب جنت عطا فرمائے۔ میں تو اپنے چوبیس گھنٹوں کا حساب دینے کی ہمت نہیں رکھتا پوری عمر کا حساب کیسے دوں گا۔ آخر میں حضرت عامر بن سعید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ امیرالمؤمنین میں نے پہلے ہی عرض کیا تھا کہ میں گورنری کے لائق نہیں ہوں مگر آپ نے مجھے یہ ذمہ داری دے دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عامر بن سعید جیسے لوگوں کو مزید پیدا فرمائے اور اسلام کو ایسے ہی حکمران عطا فرمائے۔ سبحان اللہ! یہ تھے وہ لوگ جن کے ہاتھ میں اقتدار تھا مگر دل میں خوف خدا تھا۔ جن کے لیے منصب عزت کا تاج نہیں بلکہ جواب دہی کا بوجھ تھا۔
آج ہم اپنے گرد و پیش دیکھتے ہیں تو معمولی سا اختیار ملتے ہی بعض لوگوں کے انداز بدل جاتے ہیں۔ کرسی پر بیٹھتے ہی غریب انسان کی فریاد معمولی لگنے لگتی ہے اور منصب خدمت کے بجائے غرور کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ حالاں کہ اسلام نے اقتدار کو امانت قرار دیا ہے اور حاکم کو رعایا کے حقوق کا محافظ بنایا ہے۔ اے صاحبان اقتدار! کبھی تاریخ اسلام کے ان روشن کرداروں کو بھی پڑھا کرو۔ ان حکمرانوں کو دیکھو جن کے پاس حکومت تھی مگر تکبر نہیں تھا۔ جن کے پاس اختیار تھا مگر دل میں آخرت کا خوف تھا۔ جن کے پاس رعایا کے فیصلے تھے مگر اپنی ذات کے لیے کوئی غرور نہ تھا۔ جس کرسی پر آج تم بیٹھے ہو وہ تمہاری ملکیت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ جس غریب کی فریاد تم تک پہنچتی ہے وہ تم پر بوجھ نہیں بلکہ ایک امانت ہے اور جس کمزور کے حق کا فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے اس کے بارے میں کل تمہیں اپنے رب کے سامنے جواب دینا ہوگا۔
وہ بھی حاکم تھے اور آج بھی حاکم ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اُن کے نزدیک رعایا امانت تھی اور اقتدار آزمائش۔ وہ راتوں کو اپنے رب کے سامنے روتے تھے کہ کہیں حساب میں پکڑے نہ جائیں اور آج بعض لوگ دن رات اس کرسی کے لیے کوشش کرتے ہیں جس پر بیٹھ کر انہیں دوسروں کے حقوق ادا کرنے ہوتے ہیں۔ کاش ہم اقتدار کی چمک سے زیادہ اس کی جواب دہی کو سمجھیں۔ کاش کرسی پر بیٹھنے سے پہلے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور کے ان حکمرانوں کو پڑھیں اور سمجھیں کہ اسلام میں حکمران ہونا دراصل لوگوں پر رعب جمانا نہیں بلکہ لوگوں کے حقوق ادا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو عدل و انصاف کی توفیق عطا فرمائے اور ہر صاحب اختیار کو اپنی ذمہ داری کا احساس عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

               *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*