قرآن کریم اور ہماری زندگی
بسم اللہ الرحمان الرحیم
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم کتاب ہے جو انسان کی رہنمائی کے لیے نازل ہوئی۔ یہ صرف پڑھنے اور ثواب حاصل کرنے کیلئے نہیں، بلکہ زندگی گزارنے کا طریقہ بھی بتاتی ہے۔ انسان اپنے رب سے کیسے تعلق رکھے، والدین کے ساتھ کیسا برتاؤ کرے، لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آئے، سچ اور جھوٹ میں کیسے فرق کرے، مشکل وقت میں کیا کرے اور کامیاب زندگی کیسے گزارے، ان سب باتوں کی رہنمائی قرآن کریم میں موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی کتاب قرآن کریم کے اندر بیان کرتے ہیں
﴿إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا﴾
ترجمہ: بے شک یہ قرآن اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور نیک کام کرنے والے مؤمنوں کو بڑے اجر کی خوشخبری دیتا ہے۔
(سورۃ الإسراء، آیت: 9)
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ قرآن انسان کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔ آج ہمارے پاس بہت ساری چیزیں موجود ہیں۔ موبائل ہے، انٹرنیٹ ہے، تعلیم ہے،دولت ہے ۔شہرت۔ کتابیں ہیں، لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگ پریشان اور بے سکون ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے زندگی کے بہت سے فیصلوں میں قرآن کی رہنمائی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ہم نے قرآن کو اپنا راستہ کبھی بنایا ہی نہیں اسی وجہ سے ہماری زندگی میں سکون نہیں ہے ۔۔۔
قرآن ہمارے لیے کیوں ضروری ہے؟۔۔آئیں دیکھتے ہیں۔۔
قرآن اس لیے ضروری ہے کہ انسان صرف دنیا کے لیے پیدا نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنایا ہے تو اسکا ایک مقصد ہے ۔رب العزت بیان کرتے ہیں کہ میں نے انسان و جنات کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾
ترجمہ: میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔
(سورۃ الذاریات، آیت: 56)
قرآن ہمیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کا صحیح طریقہ بتاتا ہے۔ یہ ہمیں توحید سکھاتا ہے، شرک سے روکتا ہے اور بتاتا ہے کہ ہمارا اصل سہارا اللہ تعالیٰ ہے۔
ہم دنیا کے کام ضرور کریں، تعلیم حاصل کریں، کاروبار کریں، روزگار کمائیں اور اپنی ضروریات پوری کریں، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہماری آخری منزل آخرت ہے۔
قرآن اور دل کا سکون
آج انسان کے پاس بہت سی چیزیں ہیں، لیکن دل کا سکون ہر شخص کے پاس نہیں۔ کبھی انسان کے پاس مال ہوتا ہے مگر سکون نہیں ہوتا، کبھی اچھی ملازمت ہوتی ہے مگر دل پریشان رہتا ہے، کبھی بہت سے دوست ہوتے ہیں مگر انسان اندر سے تنہا محسوس کرتا ہے۔
قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ حقیقی سکون اللہ کے ذکر میں ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾
ترجمہ: سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
(سورۃ الرعد، آیت: 28)
قرآن بھی اللہ کا ذکر ہے اور ہدایت بھی۔ جب انسان قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے تو اسے اپنے رب کی پہچان ہوتی ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ خوشی آئے تو اللہ کا شکر کرنا ہے اور مصیبت آئے تو صبر کرنا ہے۔
قرآن اور ہمارا اخلاق
قرآن صرف عبادت کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ اچھے اخلاق بھی سکھاتا ہے۔ ایک مسلمان کی پہچان اس کے اخلاق سے بھی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ﴾
ترجمہ: بے شک اللہ عدل، احسان اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور زیادتی سے روکتا ہے۔
(سورۃ النحل، آیت: 90)
اگر ہم قرآن کی اس ایک آیت کو اپنی زندگی میں لے آئیں تو ہمارے گھروں اور معاشرے کے بہت سے مسائل ختم ہوسکتے ہیں۔ ہم دوسروں کے ساتھ انصاف کریں، لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں اور کسی پر ظلم نہ کریں۔
قرآن اور والدین
قرآن کریم نے والدین کے حقوق پر بہت زور دیا ہے۔ انسان اپنے والدین کی خدمت کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾
ترجمہ: اور تمہارے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔
(سورۃ الإسراء، آیت: 23)
اسی آیت میں آگے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر والدین میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو اور ان سے عزت کے ساتھ بات کرو۔
ذرا سوچیں! جس دین نے والدین کے سامنے اُف کہنے سے بھی منع کیا ہے، وہ دین والدین کے ساتھ بدتمیزی کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟
ہمیں چاہیے کہ والدین کی قدر کریں، ان کی بات سنیں اور ان کی خدمت کو اپنے لیے سعادت سمجھیں۔
قرآن اور وقت
انسان کی زندگی دراصل وقت ہی کا نام ہے۔ جو وقت گزر گیا وہ دوبارہ واپس نہیں آتا۔ قرآن نے وقت کی اہمیت کو بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾
ترجمہ: زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک اعمال کیے، ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔
(سورۃ العصر، آیات: 1-3)
ہمیں اپنے وقت کی قدر کرنی چاہیے۔ خاص طور پر نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنا وقت فضول چیزوں میں ضائع نہ کریں۔ موبائل اور سوشل میڈیا کا استعمال ضرورت کے مطابق کریں اور اپنی تعلیم، عبادت اور مستقبل پر توجہ دیں۔
قرآن اور سوشل میڈیا
آج سوشل میڈیا ہماری زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ ایک خبر چند لمحوں میں بہت سے لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ اس لیے قرآن کی یہ تعلیم ہمارے لیے بہت اہم ہے کہ کوئی خبر آئے تو پہلے اس کی تحقیق کی جائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾
ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلیا کرو۔
(سورۃ الحجرات، آیت: 6)
آج ہمیں اس آیت پر خاص طور پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ کوئی خبر، تصویر یا ویڈیو ملے تو فوراً آگے بھیجنے کے بجائے سوچنا چاہیے کہ یہ صحیح بھی ہے یا نہیں۔ کہیں ہماری وجہ سے کسی بے گناہ شخص کی بدنامی تو نہیں ہوگی۔
قرآن غیبت اور مذاق سے روکتا ہے
ہماری مجلسوں اور سوشل میڈیا پر ایک بڑی خرابی مذاق اڑانا اور دوسروں کی برائیاں بیان کرنا ہے۔ قرآن نے اس سے صاف منع کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ﴾
ترجمہ: اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔
(سورۃ الحجرات، آیت: 11)
اور غیبت کے بارے میں فرمایا:
﴿وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾
ترجمہ: اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔
(سورۃ الحجرات، آیت: 12)
ہمیں چاہیے کہ اپنی زبان کی حفاظت کریں۔ کسی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی بیان نہ کریں اور نہ کسی کا مذاق اڑائیں۔
قرآن اور مشکلات
زندگی میں مشکلات ضرور آتی ہیں۔ کبھی انسان بیمار ہوتا ہے، کبھی کاروبار میں نقصان ہوتا ہے، کبھی کسی عزیز سے جدائی ہوتی ہے اور کبھی کسی کام میں ناکامی ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾
ترجمہ: پس بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
(سورۃ الشرح، آیات: 5-6)
یہ قرآن کا بہت بڑا حوصلہ ہے کہ مشکل ہمیشہ نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ مشکل کے ساتھ آسانی بھی پیدا فرماتے ہیں۔ اس لیے مسلمان کو مشکل وقت میں صبر کرنا چاہیے اور اللہ سے امید نہیں چھوڑنی چاہیے۔
قرآن اور عمل
صرف قرآن پڑھ لینا کافی نہیں، بلکہ قرآن کی بات کو اپنی زندگی میں لانا بھی ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ﴾
ترجمہ: یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور کریں۔
(سورۃ ص، آیت: 29)
قرآن ہمیں سوچنے اور سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ روزانہ قرآن پڑھیں، اس کا ترجمہ سمجھیں اور پھر یہ دیکھیں کہ قرآن کی کون سی بات ہم اپنی زندگی میں اختیار کرسکتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ»
ترجمہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔
(صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن، حدیث: 5027)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن سیکھنا اور دوسروں کو سکھانا بہت بڑی فضیلت ہے۔ ہمیں خود بھی قرآن سے جڑنا چاہیے اور اپنے بچوں، دوستوں اور گھر والوں کو بھی قرآن سے جوڑنا چاہیے۔
نوجوان اور قرآن
آج کے نوجوانوں کے سامنے بہت سے مسائل ہیں۔ وقت کا ضیاع، موبائل کا زیادہ استعمال، بری صحبت، بے مقصد مشغلے اور سوشل میڈیا کی مصروفیت نوجوانوں کو ان کے اصل مقصد سے دور کرسکتی ہے۔
اگر نوجوان قرآن کو اپنا ساتھی بنا لیں تو ان کی زندگی بدل سکتی ہے۔ قرآن انہیں اچھا انسان بناتا ہے، اللہ سے جوڑتا ہے، برائی سے روکتا ہے اور مشکل وقت میں حوصلہ دیتا ہے۔
نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ روزانہ قرآن کے لیے کچھ وقت ضرور نکالیں۔ صرف تلاوت نہ کریں بلکہ ترجمہ بھی پڑھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر ایک نوجوان قرآن کی ایک آیت بھی سمجھ کر اپنی زندگی میں نافذ کرلے تو یہ اس کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
ہمیں قرآن کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کرنا چاہیے۔ روزانہ قرآن کی تلاوت کریں، ترجمہ پڑھیں، اس کی بات سمجھیں اور عمل کی کوشش کریں۔
ہم اپنے گھروں میں قرآن کی تعلیم کا ماحول بنائیں۔ بچوں کو قرآن پڑھائیں۔ والدین کی خدمت کریں۔ جھوٹ، غیبت، بدگمانی اور ظلم سے بچیں۔ سوشل میڈیا پر ہر بات آگے بڑھانے سے پہلے تحقیق کریں۔ اور سب سے بڑھ کر اپنے عقیدے اور عمل کو قرآن و سنت کے مطابق بنانے کی کوشش کریں۔
قرآن کریم ہمارے گھروں میں موجود ہے، لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ قرآن ہماری زندگی میں بھی موجود ہو۔
ہم قرآن کو خوبصورت آواز میں پڑھیں، یہ اچھی بات ہے۔ لیکن اس سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ ہماری زندگی قرآن کی تعلیمات کے مطابق ہوجائے۔
ہماری زبان سچی ہو، ہمارے معاملات صاف ہوں، ہمارے اخلاق اچھے ہوں، ہم والدین کی خدمت کریں، لوگوں کے حقوق ادا کریں، برائی سے بچیں اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں۔
قرآن صرف ایک کتاب نہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے ہدایت ہے۔ اگر ہم اسے مضبوطی سے پکڑ لیں تو ہماری زندگی بھی سنور سکتی ہے اور آخرت بھی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن پڑھنے، سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک اس کا صحیح پیغام پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔