> مفتی محمد ابراہیم غفاری 
> مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ 

قرآن کے بغیر زندگی کبھی سیدھی نہیں ہو سکتی، چاہے انسان اسے سنوارنے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کر لے۔

آپ دس جگہوں سے “How to Balance Your Life” کے کورس کر لیں، سیکڑوں کتابیں پڑھ لیں، لیکن اگر زندگی میں آسمانی ہدایت کا نور نہیں تو دنیا و آخرت، مادیت و روحانیت اور خواہش و ذمہ داری کے درمیان حقیقی توازن قائم نہیں ہو سکتا۔

آسمانی ہدایت کے بغیر زندگی کی گاڑی ایسے ہے جیسے لق و دق صحرا میں کوئی مسافر کبھی اِدھر بھاگے، کبھی اُدھر، مگر اسے معلوم ہی نہ ہو کہ منزل کس سمت ہے۔ یہی حال آج کے انسان کا ہے؛ کبھی مادیت کی انتہا، کبھی رہبانیت؛ کبھی عبادت کی طرف رغبت، کبھی غفلت؛ کبھی سچائی کا عزم، کبھی جھوٹ کی آمادگی۔

ہم ہر روز خود کو بدلنے کا ارادہ کرتے ہیں، مگر شام تک وہی پرانی سوچ غالب آ جاتی ہے۔ کبھی اللہ اور دنیا دونوں کو راضی کرنا چاہتے ہیں اور کبھی دونوں سے بے اعتنائی برتتے ہیں۔

*یہ بے اعتدالیاں قرآن سے دوری کا نتیجہ نہیں تو اور کیا ہیں؟*

کیونکہ قرآن انسان کو وہ راستہ دکھاتا ہے جس میں نہ افراط ہے نہ تفریط، نہ بے سمتی ہے نہ بے اعتدالی۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ هِيَ اَقْوَمُ 
“بے شک یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے۔”

قرآن عقیدے سے عبادت تک، معاملات سے اخلاق تک، معاشرت سے زندگی کے ہر شعبے تک ایک ایسا توازن عطا کرتا ہے جو دل کا سکون، روح کا چین اور زندگی کا حسن بن جاتا ہے۔

قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا میں رہو مگر دنیا کو دل میں نہ بساؤ، مال کماؤ مگر مال کے غلام نہ بنو، عبادت کرو مگر ذمہ داریوں سے فرار نہ اختیار کرو۔

بس ضرورت یہ ہے کہ ہم قرآن کو صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ زندگی کی رہنما کتاب بنائیں۔

ربِ محبت! ہمیں قرآن کے اَقْوَم راستے پر چلا اور اسی پر ثابت قدم رکھ۔ آمین۔


https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H