*بڑھتی ہوئی سوچ ہم عالمہ سے شادی نہیں کریں گے۔*
آج کل سوشل میڈیا پر ایک جملہ بڑی تیزی کے ساتھ گردش کر رہا ہے کہ ہم عالمہ سے شادی نہیں کریں گے۔ کبھی اسے مذاق کے نام پر کہا جاتا ہے کبھی مزاح کے پردے میں اور کبھی چند سوشل میڈیا پر نظر آنے والے واقعات کو بنیاد بنا کر پوری عالمات کی جماعت کے بارے میں ایک عجیب سا نظریہ قائم کر لیا جاتا ہے۔ میرے عزیزو ذرا رک کر سوچیے آخر یہ سوچ کہاں سے پیدا ہوئی ہے اور ہم نے علم دین کو نکاح کے لیے عیب سمجھنا کب سے شروع کر دیا۔مجھے اس وقت واقعی حیرت ہوئی جب ایک صاحب نے بتایا کہ ہمارے یہاں صرف یہ سن کر ایک رشتہ ختم کر دیا گیا کہ لڑکی عالمہ ہے۔ ذرا سوچو تو سہی ایک لڑکی جو دین پڑھ چکی ہے قرآن و حدیث کا علم رکھتی ہے۔ حلال و حرام کی پہچان رکھتی ہے۔ اپنے رب کے احکام کو سمجھتی ہے وہ تمہارے لیے عیب کیسے بن گئی۔ آخر اس میں ایسی کون سی خرابی پیدا ہوگئی کہ صرف عالمہ ہونے کی وجہ سے تم نے اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانے سے انکار کر دیا۔
اے میری قوم ذرا غور تو کرو۔ ایک عالمہ لڑکی فقط تمہاری سوچ کا محور نہیں بلکہ *وہ ایک گھر کی آنے والی مربیہ ہے۔ وہ تمہاری اولاد کی پہلی درسگاہ ہے۔ وہ اس اعلیٰ سلطنت کی ملکہ ہے جس کا تخت سونے چاندی سے نہیں بلکہ شوہر کے دل اور اولاد کی تربیت سے قائم ہوتا ہے* وہ گھر کی وہ مضبوط اینٹ بن سکتی ہے جس کے مضبوط رہنے سے پورا گھر مضبوط رہتا ہے۔ تم جس علم سے بھاگ رہے ہو ممکن ہے کل تمہاری اولاد اسی علم کی محتاج ہو۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ چند سوشل میڈیا پر نظر آنے والی عالمات کو دیکھ کر پورے طبقۂ عالمات کے بارے میں فیصلہ سنا دیا جاتا ہے۔ اگر کسی ایک عالمہ سے کوئی غلطی ہوگئی۔ اگر کسی کا مزاج پسند نہیں آیا۔ اگر کسی کا طرزِ عمل اچھا نہیں لگا تو اس کا مطلب یہ کیسے ہوگیا کہ ہر عالمہ ایسی ہی ہوگی *کیا چند ڈاکٹروں کی غلطی سے پوری طب کو غلط کہہ دو گے۔ کیا چند وکیلوں کی غلطی سے ہر وکیل کو برا کہو گے۔ کیا چند پڑھے لکھے لوگوں کے غلط کردار سے علم کو ہی برا کہنا شروع کر دو گے؟* پھر عالمہ کے معاملے میں یہ انصاف کہاں چلا جاتا ہے۔میرے عزیز یہ تمہارا غلط نظریہ ہے کہ چند چہروں کو دیکھ کر پورے طبقے کا فیصلہ کر لیا جائے۔ ہر انسان کو اس کے اپنے کردار سے پرکھا جاتا ہے۔ عالمہ ہونا کوئی فرشتے ہونے کی سند نہیں اور نہ ہی غیر عالمہ ہونا کسی برائی کی علامت ہے۔ لیکن صرف علم دین کی وجہ سے کسی لڑکی کو رد کر دینا یقیناً ایک ایسی سوچ ہے جس پر انسان کو خود اپنے دل سے سوال کرنا چاہیے۔
ذرا قرآن کی اس آیت پر غور کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ : کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں۔
اب آپ ہی بتاؤ۔ جب اللہ تعالیٰ علم والوں اور بے علم لوگوں کو برابر نہیں قرار دے رہا تو تم علم رکھنے والی لڑکی کو صرف اس لیے کیوں رد کر رہے ہو کہ وہ عالمہ ہے۔
اور میرے عزیز ذرا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کو بھی سنو۔مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ :اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔یہ اعلان کس کا ہے۔ اللہ کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا۔تو پھر سوال یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ دین کی سمجھ اللہ کی طرف سے خیر کی علامت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ عالمہ سے شادی نہیں کریں گے۔ آخر تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔
اے میرے عزیز بھائیو! اپنی سوچ کو ذرا بدلنے کی ضرورت ہے۔ تمہیں یہ دیکھنا چاہیے کہ جس لڑکی سے تم شادی کر رہے ہو اس کا دین کیسا ہے۔ اس کا اخلاق کیسا ہے۔ اس کا کردار کیسا ہے۔ اس کی تربیت کیسی ہے۔ اس کا مزاج تمہارے مزاج سے کس حد تک موافق ہے۔ لیکن صرف اس بنیاد پر کہ وہ عالمہ ہے اسے رد کردینا کہ ہم عالمہ سے شادی نہیں کریں گے یہ کیسی سوچ ہے۔کیا تم اپنی اولاد کو دنیا کے ہر علم سے آراستہ دیکھنا چاہتے ہو لیکن دین کے علم سے دور رکھنا چاہتے ہو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارا بچہ دنیا کی ہر چیز کا نام جانتا ہو مگر قرآن کی ایک آیت کا مفہوم نہ جانتا ہو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ تمہاری بیٹی زمانے کی ہر بات سے واقف ہو مگر اسے دین کے بنیادی مسائل کا علم نہ ہو۔ اگر ایسا نہیں چاہتے تو پھر دین کے علم سے وابستہ عورت سے خوف کیوں۔
یاد رکھو۔ ماں صرف بچے کو جنم نہیں دیتی بلکہ نسل تیار کرتی ہے۔ ماں صرف بچے کو پالتی نہیں بلکہ اس کی سوچ بناتی ہے۔ ماں صرف لوری نہیں سناتی بلکہ کبھی کبھی پوری زندگی کا راستہ دکھا دیتی ہے۔ اگر اس ماں کے پاس دین کا علم ہو اور ساتھ اخلاق و کردار بھی ہو تو یہ اس گھر کے لیے ایک بڑی نعمت بن سکتی ہے۔ہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر عالمہ لازماً بہترین بیوی ہوگی ایسا نہیں۔ جیسے ہر ڈاکٹر بہترین انسان نہیں ہوتا۔ ہر استاد بہترین انسان نہیں ہوتا۔ ہر پڑھے لکھے شخص کا کردار بہترین نہیں ہوتا۔ انسان کو اس کے اخلاق اور کردار سے دیکھنا چاہیے۔ لیکن صرف عالمہ ہونے کی وجہ سے رشتہ ختم کرنا کوئی عقلمندی نہیں۔
اے نوجوان نسل۔ سوشل میڈیا کے چند جملوں کو اپنی زندگی کا اصول مت بناؤ۔ چند ویڈیوز دیکھ کر اپنے ذہن میں پورے طبقے کی تصویر مت بناؤ۔ ہر عالمہ کو ایک ہی ترازو میں مت تولو۔ ہوسکتا ہے جس علم سے آج تم گھبرا رہے ہو کل اسی علم کی وجہ سے تمہارے گھر میں قرآن کی آواز ہو۔ تمہاری اولاد دین سے جڑی ہوئی ہو۔ تمہاری نسلیں سنور رہی ہوں اور تمہیں اس بات پر خوشی ہو کہ اللہ نے تمہیں ایک ایسی شریک حیات عطا فرمائی جو دنیا کے ساتھ دین کو بھی سمجھتی ہے۔اور آخر میں صرف اتنا کہوں گا۔ عالمہ لڑکی سے شادی کرنا کوئی لازمی فضیلت نہیں اور عالمہ سے شادی نہ کرنا کوئی لازمی گناہ بھی نہیں۔ لیکن عالمہ ہونے کو بذاتِ خود عیب سمجھ لینا ضرور ایک غلط سوچ ہے۔ رشتے دین۔ اخلاق۔ کردار۔ مزاج اور باہمی موافقت دیکھ کر کیے جاتے ہیں۔لہٰذا میرے عزیز بھائیو! اپنے جملے پر دوبارہ غور کرو۔ ہم عالمہ سے شادی نہیں کریں گےکہنے سے پہلے یہ ضرور سوچو کہ تم جس چیز کو رد کر رہے ہو وہ صرف ایک لڑکی کا لقب نہیں بلکہ علم دین ہے۔اور علم دین سے نفرت نہیں کی جاتی علم دین کی قدر کی جاتی ہے۔ اہل علم کی عزت کی جاتی ہے۔ اور اگر اللہ کسی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے اور اسے دین کی سمجھ عطا فرمائے تو اس نعمت کو عیب سمجھنے کے بجائے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
نوٹ: بھائی ہر ایک کو اپنی فکر کا پورا اختیار ہے میں اپنا نظریہ فکر بیان کیا ہوں۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*