*

 ہاشمی میاں*

سید ہاشمی میاں علیل ہیں اور ان کا علاج کسی عظیم الشان شفاخانے میں جاری ہے، لیکن جب ان کا وقتِ رحلت آن پہنچے گا جیسا کہ ہر ذی روح کو جانا ہے،
مگر ان کا معاملہ جداگانہ ہوگا، جونہی ان کی وفات ہوگی ان کی قبر کو بھی مزار کی شکل دے دی جائے گی
اور پھر وہ خلقِ خدا کے امراض کا مداوا فرمانے لگیں گے
اگر یقین نہ آئے تو عنقریب ملاحظہ کر لینا
ان کے مزار پر بھی زائرین کا جمِ غفیر امڈ آئے گا، نذرانے چڑھائے جانے لگیں گے اور مریض شفایاب ہونے لگیں گے
جو بذاتِ خود حیات میں اپنے علاج کے لیے وی آئی پی ہسپتال کے محتاج ہیں
وہ وفات کے فوراً بعد ہی خلق کو شفا بانٹنے لگیں گے
اور ہر سال ان کے مزار پر عرس و چادر پوشی اور گاگر کی رسومات ادا کی جانے لگیں گی
اگر میرا یہ قول خلافِ واقعہ ثابت ہو تو مجھے ضرور مطلع کرنا کہ تم جھوٹے ہو
اللہ حضرت کو شفائے کاملہ عطا فرمائے اور ہدایت سے بھی نوازے کہ خود بھی شرک سے محفوظ رہیں
اور مخلوقِ خدا کو بھی اس سے بچائیں۔


محمد امین غفرلہ ✍️