Translation unavailable. Showing original.
دعاؤں کا حصار
25 ستمبر، 2026
اب رفتہ رفتہ ہمارا رب العالمین سے رابطہ کم ہوا جا رہا ہے،ہم کو دعائیں مانگنا بار گزرتا،اگر مانگ بھی لیتے ہے تو اک دو منٹ میں بغیر کسی الحاح و زاری قلبِ غفلت کے ساتھ،اسلام میں دعاؤں پر بہت زور دیا گیا ہے،حبیب ﷺ کے متعلق احادیث اپنے بھی سنی ہوگی کہ آپ کے جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹ جاتا تو آپ رب العالمین سے لَو لگاتے،یہ دعا کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے،اور اب جب کہ زمانہ عجب رنگ میں ڈھل چکا ہے،اب جسم کے ساتھ روحیں بھی فرسودہ ہو چکی ہیں،اب حق و باطل اس کشمکش میں ہے کہ انسان بے راہ روی کا شکار ہے،صبح و شام فتنے گردنوں کا طوق بنے ہیں،ہر آفتاب جاں گداز اخبار کے ساتھ طلوع ہوتا،اور ہر رات کی تاریکیاں ظلم و تعدی کی داستانیں سناتی،ضرورت ہے کہ ہم رب العالمین سے جڑ جائے،دعاؤں کا وقت متعین کریں،نالہ و گریہ زاری جاری رکھے،وہ اپنی آغوشِ رحمت پھیلائے ہوئے ہیں،وہ اپنے در کے سوالی سے ہمیشہ لاڈ جتاتا ہے،لیکن کوئی نیم شبی میں سجدہ گاہ کو بھی تر کرنے والا ہونا چاہیے۔۔۔۔
حسن نذیری