*_باسمہ سبحانہ و تعالیٰ_*
*_فتنۂ عشقِ مجازی اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں_*
آج کے اس پُر فتن اور پُر آشوب دور میں عشقِ مجازی غیر محرم سے ناجائز تعلقات اور بین المذاہب روابط ایک نہایت سنگین اور تشویش ناک معاشرتی ناسور کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے المناک واقعات کبھی دور دراز علاقوں سے سننے میں آتے تھے لیکن اب یہ فتنہ ہماری اپنی بستیوں اور ہمارے گرد و نواح تک سرایت کر چکا ہے جو اہلِ ایمان کے لیے ایک کربناک لمحۂ فکریہ ہے۔
حال ہی میں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا ہمارے گاؤں کے متصل ایک چھوٹا سا قصبہ ہے وہاں ایک لڑکی کے کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے غیر محرم لڑکے کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم ہو گئے یہاں تک کہ وہ گھر سے اپنے عاشق کے ساتھ نکل گئی اور چند روز بعد واپس لائی گئی لیکن واپس آنے کے بعد بھی اس کا دل اسی کی طرف مائل رہا بالآخر وہ علالت کی حالت میں اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئی۔ یہ واقعہ اہلِ خانہ کے لیے نہایت غمناک اور اہلِ معاشرہ کے لیے عبرت ناک ہے۔
اسلام نے غیر محرم سے بے تکلفی خفیہ گفتگو اور ناجائز تعلقات سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
*وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا*
اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ بے شک وہ بے حیائی اور بہت برا راستہ ہے۔
اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعتِ اسلامیہ صرف فعلِ زنا ہی سے نہیں بلکہ اس کے تمام مقدمات ذرائع اور اسباب سے بھی اجتناب کا حکم دیتی ہے غیر محرم سے غیر ضروری رابطہ خفیہ پیغامات بے تکلف گفتگو ناجائز خلوت اور جذباتی وابستگیاں اسی فتنے کے ابتدائی مراحل ہیں جو بسا اوقات انسان کو بڑے گناہوں اور خاندانی تباہی تک پہنچا دیتی ہیں۔
موجودہ زمانے میں موبائل فون سوشل میڈیا اور بری صحبت نے اس فتنے کو مزید تقویت دی ہے۔ اس لیے والدین اور مربیّن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اولاد کی دینی اخلاقی اور معاشرتی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ بچوں کے دوستوں، مشاغل اور موبائل کے استعمال سے حکمت کے ساتھ باخبر رہیں گھر میں محبت اعتماد اور دینی ماحول قائم کریں اور انہیں حیا عفت نگاہ کی حفاظت اور غیر محرم سے شرعی حدود کی پابندی کی تعلیم دیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے واقعات کے بعد افواہوں بدگمانی تجسس اور پردہ دری سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ کسی فرد کے انجام یا وفات کو قطعی طور پر اس کے اعمال کی سزا قرار دینا درست نہیں کیونکہ حقیقی اور حتمی فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ البتہ ایسے واقعات سے عبرت اصلاح اور آئندہ کے لیے احتیاط ضرور حاصل کی جانی چاہیے۔
ہمیں اپنے گھروں مدارس اور تعلیمی اداروں میں ایمان نماز قرآن حیا پاکیزگی اور صالح صحبت کے ماحول کو فروغ دینا ہوگا۔ نوجوان نسل کو یہ سمجھانا ہوگا کہ ہر جذباتی وابستگی محبتِ حقیقی نہیں ہوتی، اور ہر پسندیدہ تعلق شرعاً اور معاشرتاً درست نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری نسلوں کو ہر ظاہر و باطن فتنے سے محفوظ فرمائے ہمارے گھروں کو ایمان و حیا کا گہوارہ بنائے اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو توبہ و اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔
*_اللهم احفظ إيماننا وثبّت قلوبنا على دينك وأعذنا من الفتن ما ظهر منها وما بطن
محمد امین حنفی ✍️