*نماز ہمارے لیے کتنی ضروری ہے*
آج سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نظروں سے گزری جس نے دل گداز منظر دیکھا ایک بندہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے، زندگی اپنی آخری کڑی پر ہے، ہسپتال کے بستر پر ہے، منہ پر آکسیجن لگی ہوئی ہے، جسم میں حرکت کی سکت نہیں، لیکن پھر بھی وہ بندہ اپنے رب کے حضور لیٹے لیٹے نماز ادا کر رہا ہے۔
سبحان اللہ! یہ منظر ہم سے سوال کر رہا ہے کہ میں اور آپ کہاں جا رہے ہیں؟
ہمیں اللہ رب العزت نے تندرستی دی، صحت دی، کوئی بیماری نہیں، ہم اچھی طرح چل پھر سکتے ہیں، مسجد تک جا سکتے ہیں، لیکن ہمیں نمازوں کی کتنی فکر ہے؟ ہم دن بھر کی پانچ نمازوں میں سے کتنی پڑھتے ہیں اور کتنی بے پرواہی سے چھوڑ دیتے ہیں؟
*ذرا 1400 سال پیچھے چلیں اور صحابہ کی زندگی دیکھیں*
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو معارف القرآن میں بھی منقول ہے کہ صحابہ کرام کا نماز کے معاملے میں یہ حال تھا کہ ہر شخص نماز باجماعت کا پابند تھا۔ اگر کوئی بیمار ہوتا تو دو آدمیوں کے سہارے اسے مسجد میں لا کر صف میں کھڑا کر دیا جاتا، صف سے پیچھے نہیں رہنے دیا جاتا۔
*نبی کریم ﷺ کی آخری زندگی کا حال دیکھیں*
آپ ﷺ اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہیں، سخت بخار ہے، چلنا دشوار ہے، قدم اٹھ نہیں رہے، لیکن اس حال میں بھی آپ ﷺ دو صحابہ کے سہارے، پاؤں زمین پر گھسیٹتے ہوئے مسجد کی طرف تشریف لا رہے ہیں۔ کیوں؟
اس لیے کہ آپ ﷺ اپنی امت کو یہ سبق دینا چاہتے تھے کہ اے میری امت! موت تک نماز نہ چھوڑنا۔
*آج ہمارا حال کیا ہے؟*
ساری باطل طاقتیں اسلام کو مٹانے کے لیے بر سرِ پیکار نظر آرہے ہیں ، اور مسلمان ابھی تک غفلت کی نیند سو رہا ہے۔
اسی لیے شاعر نے کہا تھا:
*سوئی ہوئی قومیں جاگ اٹھیں، بیدار مسلماں سوتا ہے*
*گہوارۂ قلب میں جذبۂ ایماں سوتا ہے*
اے اللہ کے پیارے بندو! اے نبی پاک ﷺ کے امتیو! کب تک ہم سستی، کاہلی اور غفلت کی زندگی گزارتے رہیں گے؟
اللہ کے لیے بیدار ہو جاؤ اور پانچ وقت کی نماز کو اپنی زندگی پر لازم کر لو۔
دل میں یہ بات بٹھا لو کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز ہی کا حساب ہوگا۔
یاد رکھو! صحابہ نے اپنے ہر مسئلے کا حل نماز میں تلاش کیا تھا۔
میرے دوستو! یہ تو سوچو کہ ہم نے دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا، ایک نہ ایک دن قبر میں جانا ہے۔ اگر ہم نے دنیا کی زندگی اللہ کے احکام اور نبی پاک ﷺ کی سنتوں کے مطابق گزاری تو ہم خوشی خوشی اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے۔
اور اگر اسی غفلت میں ہماری موت آگئی تو ہم کس منہ سے اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے؟ نبی پاک ﷺ کے سامنے کون سا چہرہ لے کر جائیں گے؟
خدارا اپنی زندگی کو سنواریے، احکامِ الٰہی کے پابند رہیے اتباعِ سنت کو جزوِ حیات بنالیں اور ہر وقت اللہ سے یہی مانگتے رہیے:
*"اے پیارے اللہ! ہمیں ایسا بندہ بنا لیجیے جیسا بندہ آپ کو پسند ہے۔"*
~محمد امین حنفی~ ✍️