سعدیہ فاطمہ عبدالخالق 

 ناندیڑ مہاراشٹر 

8485884176

     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*قرآن دستور حیات*


*سماجی ، تعلیمی ، معاشی ، سیاسی ، عدالتی ، حکومتی*


تمام تعریفیں اللّٰہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں اشرف المخلوقات میں پیدا کیا اور ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں ، اللہ تعالی کی ایک ایک منصوبہ بندی بیان کرنے کے لیے بہت زیادہ طویل تحریر درکار ہے ، اس مختصر سی تحریر میں اگر اللّٰہ کے طرف سے کچھ ہدایت مل جائے اور قلم و ذہن بھی ساتھ دے دیں تو کچھ بتانے کی کوشش کی جائے گی ، اللّٰہ تعالی کی منصوبہ بندی میں کسی کی ذرہ برابر بھی شرکت نہیں ہے ، کائنات کی تخلیق میں اللہ تعالی کے حسن کی حمد و ثناء ہے ، خالق حقیقی نے زمین پر انسانوں کے لئے ہوا ، پانی ، روشنی ، کھانے پینے کا انتظام کیا اور اسی کے ساتھ زندگی گزارنے کے اُصول و ضوابط بھی دیے ، ہر قوم اور ہر امت کے لئے رسولوں کا آنا اور انسانوں کو فرسودہ نظریات اور بتوں کی گندگی سے بچا کر خدائے واحد کی بندگی کا درس دینا اسی کا حصّہ ہے ، انبیاء علیہ السلام نے ایسے طریقے سے زندگی کی دعوت دی جس میں عبادات ، معاملات ، اخلاقیات ، معاشیات ، معاشرت ، سیاست و حکومت غرض ہر شعبہء زندگی میں مکمل رہنمائی ملتی ہے ، انسانی زندگی کو راہ مستقیم پر رکھنے اور دین فطرت کی اقامت کے لیے اقتدار حکومت ایک ضروری امر تھا چنانچہ قران مجید میں انبیاء کے مقصد بعثت کو یوں واضح کیا گیا ہے ,, وہی ہے جس نے اپنے رسولوں کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اس دین کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کر دے ، اگرچہ مشرکین کو کتنا ہی ناگوار گزرے ( سورہ صف: 9 ) خشک و تر میں ( یا خشکی و تری میں ) جو کچھ ہے وہ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے ، ( سورہ انعام 59 ) اس کھلی کتاب کو Planing book یا کتاب التقدیر بھی کہا جا سکتا ہے جو ہمارے زندگی کے لئے ہدایت اور رہبری کے لئے اتاری گئی ، جسے قرآن مجید ، قران کریم ، کہا گیا ہے ، قرآن کریم دنیا کی ایک ایسی واحد کتاب ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالی نے لی ہے اور اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے ، ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ,, بلاشبہ اس قرآن کو ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں (سورہ حجر)  

*قرآن ہمارے لئے دستور حیات ہے جو سماجی تعلیمی معاشی سیاسی عدالتی حکومتی ہر پہلو میں نمایاں واضح ہیں*

*سماجی*:--- اسلام کے نزدیک تمام انسان برابر کے حقوق رکھتے ہیں خواہ ان کا تعلق کسی نسل سے ہو وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں اور کسی بھی خطے کے رہنے والے ہوں ان کی اساس یہ ہے کہ سب کا خدا ایک ہے اور سب ایک آدم کی اولاد ہیں ، عربی کو عجمی پر فضیلت ہے اور نہ عجمی کو عربی پر ، نہ گورے کو کالے پر نہ کالے کو گورے پر ، سوائے تقوی کے ، اسلام کمزوروں کے حقوق کا محافظ بن کر سامنے آیا وہ تفصیل سے ان کے حقوق بیان کرتا ہے اور انہیں ادا کرنے کی تاکید کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ حقوق اللہ تعالی نے لازم کیے ہیں اس لیے اگر کسی نے ان کی ادائیگی میں کوتاہی کی یا انہیں پامال کیا تو اللہ تعالی کے ہاں اس پر سخت باز پرس ہیں ،

قرآن مجید کی ایک اہم عطاء جس سے پورا عالم انسانیت مستفید ہوا اور ہو رہا ہے انسانی وحدت اور مساوات کا وہ واضح تصور دو ٹوک اعلان ہیں جو قرآن مجید کے ذریعے پہلی بار دنیا کو عطاء ہوا ، قرآن مجید سے قبل دنیا کی ہر قوم میں نسلی ، لسانی ، لونی ، جغرافیائی بنیادوں پر امتیازی سلوک اور اونچ نیچ عام تھی ایسے عوامل و عناصر کی بنیاد پر جو انسان کے اپنے اختیار میں نہ تھے انسانوں کے مابین تخلیق اور دشمنوں کی دنیا کسی نظریہ عقلی مصلحت کی بجائے رنگ نسل زبان جغرافیہ کے امتیازات تھی جو انسان کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں ، کوئی انسان نسل خود منتخب نہیں کرتا ، خود شخص اپنا رنگ خود پسند نہیں کرتا ، کسی شخص کی مادری زبان کا انتخاب اس کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتا ، یہ چیزیں وہ پیدائش کے وقت اپنے ساتھ لاتا ہے ، ان غیر اختیاری امور کی بنیاد پر گروہوں اور قوموں کی تشکیل کو ، قرآن مجید ایک وجہہ تعارف کے طور پر تو تسلیم کرتا ہے لیکن وہ ان چیزوں کو وحدت انسانی اور مساوات آدم میں مخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا ، زمین و آسمان کی ہر ذی روح اور یہ ذی عقل مخلوق کی ذات باری تعالی کے روبرو صرف ایک ہی حیثیت ہے اور وہ ہے ,, عبدیت ،، اور اس عبدیت میں نہ صرف تمام انسان ، بلکہ تمام ملائکہ اور جنات ایک دوسرے کے شریک ہیں اس اشتراک عبدیت میں نہ کسی قبیلے کو دوسرے قبیلے کے مقابلے میں کوئی برتری یا تقدس حاصل ہے نہ کسی نسل کو دوسری نسل کے مقابلے میں اور نہ کسی قوم کو دوسری قوم کے مقابلے میں حتی کہ دانہ سبل ختم الرسل مولائے کل صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل قوم کو بھی دوسروں پر کوئی فضیلت یا برتری حاصل نہیں ، مذہب کو بانٹنا نہیں ہے سمیٹ کر رکھنا ہے ، سماج میں زندگی گزارنے پہ ہر ایک پہلو کو قران نے اجاگر کیا ہے ، سماج کے ہر رشتے کو نبھانے کے لیے دلائل پیش کیا ہے ، 

ماں باپ ، بھائی بہن ، شوہر بیوی ، بیٹا بیٹی ، دوست احباب ، پڑوسی ، مسلم ، غیر مسلم ، دوست ، دشمن ان سب کے لیے الگ الگ پہلو بتائے گئے ہیں ، ہر سچائی اور ہر غلطی کے جواز کا جواب ، سماج کے لئے قرآن میں موجود ہے ، رہن سہن ، اسراف ، رضائیت اٹھنا بیٹھنا ، ملنا جلنا ، ادب قاعدہ ، تہذیب و تمدن کو اس انداز میں بتایا گیا ہے کہ عمل کر لیں تو سماج میں اس سے زیادہ پاکیزگی نہیں ہوگی ، صلح صفائی کا گریڈ تو بہت زیادہ رکھا گیا ہے ، بندے کو ہر دوسرے بندے کے لیے ادب کا دائرہ رکھا گیا ہے ، بغیر اجازت کے سوئی کی نوک سے میوے کے رس کو چکھنے سے لے کر ایکڑ سے زمین جائیداد کی تقسیم ، ناپ تول کی کمی اور غلط میزان کی سزا بتائی گئی ہے ، یہ سماجی پہلو ہی ہے ، سچائی پر ناپ تول کا عمل ہو تو رواداری میں محبت اخلاق عزت رہے گی اللہ کی مدد آئے گی تخت و تاج بھی مل جائے تو بھی خالی ہاتھ ہی جانا ہے ، جس کے عشق میں دنیا بنائی گئی ہے ، ان ہی (رسول صلی اللہ علیہ وسلم) کی زندگی کو سماجی پہلو میں دیکھیں تو نہ سامان گن سکتے ہیں نہ تولنے کے لیے غذائیں ہیں ، نہ کپڑوں کی فراوانی ، نہ پختہ گھر کی تعمیر ، پھر یہ سماج کس کے لیے جمع منفی کے چکر میں ہیں ، جب زمین پر بادشاہ ، شہنشاہ دو عالم ، سرکار و سردار کو ہی خالی ہاتھ بتایا گیا تو سماج میں ہم کیا سمیٹ رہے ہیں ، مالک و آقا ، تو ہمیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی طرح نفس مطمئنہ والے لوگوں میں شامل رکھنا ، آمین ، قیامت کے دن ان سب باتوں پر عمل پیرا ہونے کے لئے تعلیم کو راستہ بنایا کہ جہالت کی وجہ سے جو رکاوٹیں ہیں وہ تعلیم سے دور ہوں ،

*تعلیمی*:--- علم کے لغوی معنی دانش ، دانائی واقفیت اور آگاہی کے ہیں ، اللہ تعالی نے انسان کو سماعت ، بصارت ، زبان اور عقل و فہم عطا کر کے علم کی اس بیش بہا نعمت سے اس وقت نوازا جب زمین پر خلیفہ ارض بنا کر بھیجا ، اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو ساری چیزوں کے نام سکھائے ، (البقرہ :31 ) بعض ازاں فرشتوں سے ان چیزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے نہ صرف اپنی کم علمی کا اعتراف کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ، انسان کی عظمت ، کے بھی معترف ہوئے ، اسی علم کی بنیاد کو انسان کو فرشتوں کے ساتھ ساتھ باقی مخلوقات پر شرف حاصل ہوا اور اشرف المخلوقات کہلایا ، علم و حکمت کا یہ سلسلہ آدم علیہ السلام سے لے کر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم تک اور بعد میں صحابہ ، تابعین ، طبع تابعین اور اولیاء اللہ اور علماء کرام کے توسط سے تا ایں دم ایست جاری ہے ، اسی عدیم المثال دولت سے تقریبا تمام انبیاء و رُسل کو سرفراز کر کے اپنے اپنے مشن روانہ کیا گیا ، کسی کو صحیفوں ، تو کسی کو براہ راست کلام کے ذریعے ، تو کسی کو جبرائیل امین کے توسط سے ، یہ نعمت بخشی گئی اور یہی وہ نور ہے جو جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکے ہوئے بے شمار راہگیروں کو راہ راست پر گامزن کر کے اپنی اپنی منزلوں تک پہنچا دیتا ہے ، اللہ تعالی نے اپنے رسول پر پہلا لفظ,, اقراء ،، ( العلق :1) یعنی پڑھو ، نازل کیا ، ظاہر ہے جس امتی کے لئے پہلا ہی حکم علم حاصل کرنے کے متعلق ہو اس میں علم ، عالم اور طالب علم کا مقام وہ مرتبہ کیا ہوگا ، اللہ تعالی نے کلام پاک کے ذریعے انسانیت ، بالخصوص امت مسلمہ کو نہ صرف علم حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے بلکہ انسان کو وہ علم سکھایا گیا جو وہ نہ جانتا تھا ،( العلق :5 ) یہ علم اب قران کریم کی سورت میں محفوظ ہے ، اللہ تعالی نے علم کے ابلاغ و ترسیل ، تعلیم و تعلم اور تفہیم و تفسیر کی راہیں ہموار کرنے کے لئے انسان کو فنی کتابت علم البیان (الرحمٰن :4 ) اور فنی کتابت ( الذی با تعلم :العلق 4 ) سکھایا ،علم کی اہمیت و افادیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرضیت کا اعلان کرتے ہوئے ,, فرمایا علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے ،، ( صحیح حدیث ) ، یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہاں بلا امتیاز رنگ و نسل اور ذات ، جنس ، ہر فرد پر حصول علم لازم قرار دیا گیا ہے ، یہاں پر کسی خاص علم دینی یا مادی کی تخصیص نہیں کی گئی بلکہ اس زمرے میں ہر وہ علم آتا ہے جو انسانیت کے لیے نفع بخش ہو ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں یہودیوں کی تحریر سیکھ لوں ( سنن ابو داؤد :3645 ) اس کے علاوہ جنگ بدر میں کچھ مشرکین قیدیوں کو فدیہ ادا کرنے کے بجائے مسلمانوں کی تعلیم و تربیت پر مامور کیا گیا تھا ، جسے ہم عصری علوم سے موسوم کر سکتے ہیں ، طالب علم کی عظمت سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ,, تم میں سے سب سے بہترین شخص وہ ہے جو علم سیکھے( طالب علم ) اور سکھائے (عالم ) :- بخاری شریف ، علم دو طرح کا ہوتا ہے ایک صرف علم کا حاصل کرنا اور دوسرا معرفت حق حاصل کرنا ، آج ساری دنیا اور ہر قوم ہر مذہب کے لوگ علم کے پیچھے دوڑ رہے ہیں لیکن وہ صرف علم حاصل کر رہے ہیں ، علم ہی بتائے گا کہ معاشرہ کیا ہے ، سماج کیا ہے ، علم سوچنے سمجھنے کے اقتدار کو بڑھائے گا ، قبول کرنے کی صلاحیت کو صحیح کرے گا ، نفی کرنے کے معاملے میں صحیح رہنمائی کرے گا ، رہن سہن کی تبدیلی بتائے گا ،ںسلوک اور رواداری میں مدد کرے گا ، تہذیب میں صحیح رد عمل پیش کرے گا ، صلاحیتوں کو پروان چڑھائے گا دنیاوی معاملات کو دین پر پرکھنے کی صلاحیت دے گا ، کاروبار میں علم ہی راستہ بتائے گا غور طلب امر یہ ہے کہ کل اور آج میں ایسا فرق آگیا ہے کہ جن کی اخلاقی اقدار انسانی معاشرے کا تاج فخر تھی اب ان پر اطمینان تک نہیں رہا ، پہلے مدارس میں دین کی تعلیم کا اہتمام تھا ، نصابِ تعلیم کا غالب عنصر دنیا پر مشتمل تھا ، اساتذہ کا رہن سہن ان کا دینی مزاج ان کی نشست و برخاست ، ان کا ایثار ، طلبہ کے لئے ان کے درد مندی ، ان کے مستقبل کو تابناک بنانے کی فکر اور تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت اور خصوصی توجہ قابل رشک حد تک پائی جاتی تھی ، لیکن اب ایسا نہیں ہے ، اب تدریس خدمت سے زیادہ پیشہ ہو گیا ہے ، تذکرہ جنت کا ہو یا دوزخ کا اس پر کسی قسم کے تاثر ختم نہیں ہوتے ، ملک و ملت کے مسائل گفتی ہو یا نہ گفتی ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں ہوتا ، اللہ رب العزت ہمارے علم و عمل میں برکت دے اور ہمارے رول ماڈل ، رہبر معلم نمونہ معلم ، جسے زمین پر نائب بنا کر بھیجا گیا ہے ، ان کی تعلیم کو ہماری روح میں سما دیں اور ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے لئے حلال رزق کے دروازے کھول دیں ، آمین ۔ 

*معاشی*:--- ,, زمین پر رینگنے والے کا رزق اللہ پر ہے ،، ( ہود: 6 ) بلاشبہ اللّٰہ تعالٰی نے بہت سے وسائلِ پیداوار ، انسان کے قبضہ قدرت میں دیئے ہیں ، لیکن ان سے کہیں زیادہ اس نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں ، زمین سے معدنیات ، سمندر سے لعل و گوہر اور تروتازہ گوشت (لحم تری ) ، حصول فصلوں کے لئے مناسب حرارت ، وقت پر بارش دھوپ اور ہوا ، خاطر خواہ مقدار میں اور وقت پر نہ ہو تو انسان کا سب کیا کرایا دھرا رہ جاتا ہے ، علم معاشیات میں نظریہ پیداوار کے ضمن میں قوانین کی پیدائش کی بڑی اہمیت ہے انہیں قوانین فطرت بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ قوانین عمل پیدائش کی فطری صفات اور جبلی خصوصیات پر ہوتے ہیں ، معاشی پیداوار کے بارے میں قرآن و سنت سے کچھ اصول باتیں مستنبط کی جا سکتی ہیں ، مثلاً یہ کہ عملی پیداوار سے فرض کفایہ کی ادائیگی مقصود ہو ، پیداوار میں ترجیح ضروریات کو دینا چاہیئے ، پھر حاجیات اور تحسینیات کو دینا چاہیئے ، مضر اور حرام چیزوں کی پیدائش سے پرہیز کرنا چاہیئے اور پیداواری عمل میں اسراف ضیاع سے بچنا چاہیئے ، شب و روز کی آمد و رفت اور لیل ونہار النہار کی گردشیں پیداواری عمل کو ممکن بنانے میں اور جاری و ساری رکھنے میں بڑی اہمیت رکھتی ہے تقسیم دولت کے سلسلے میں قرآن کریم میں بیان کردہ احکام میں زکوۃ کا نظام سب سے اہم اور موثر ہے ، یہ عبادت بھی ہے اور مالی فریضہ بھی ہے ، تفصیل احادیث میں ہے کہ زکوۃ وصیت کا عمل ، مال غنیمت ، تقسیم وراثت ، مالی کفارہ ، روزے کا فدیہ ، صدقہ فطر ، نفقات واجبہ ، اوقاف کا ادارہ ، حرام ممنوع ، مجتبیٰ رضائے الہٰی ، بخل کی مذمت ، حرس و طمع کی ممانعت ،فضول خرچی سے اجتناب ، سود پر پابندی واضح طور پر بتائی گئی ہے ، قرآن مجید میں بہت سے تفصیلی معاشی احکام کا تذکرہ ملتا ہے ، 

*سیاسی*:--- اللہ تعالی نے اپنے ہر بندے کے لیے یکساں اصول رکھے ہیں ، صاف شفاف پہلوؤں کے ذریعے ہر چیز کو نمایاں ظاہر کیا ہے ، قرآن کی ہدایت پر زندگی گزارنے کے لئے راستے اور ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک ، ہر طریقے کار میں کامیابی بتائی گئی ہے ، ملکی معاملات حکومت کے نشیب و فراز ، جہان داری اور جہان بانی آئین و قوانین کو حرف عام میں سیا ست کہتے ہیں ، جس طرح شرف انسان کی تکمیل کے لئے حرف علم کا جاننا ضروری ہے اسی طرح علمی اور فکری حیثیت سے سیاست کی رموز اوقاف سے واقف ہونا ، ملک و ملت کی بھلائی کے لیے سیاست میں عملی طور پر حصہ لینا ، کوئی بری بات نہیں ہے لیکن اس مقصد کے لئے فکر و نظر کی پختگی اور آزمودہ کاری شرائط ، اولین ہیں ، لارڈ برنارڈ شاہ نے کہا تھا کہ میں جب قرآن پڑھتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ اس سے بہتر کتاب کوئی نہیں ہے اور جب مسلمانوں کو دیکھتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ ان سے زیادہ ذلیل و خوار قوم کوئی نہیں ہے جبکہ 23 سال کی قلیل مدت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہمہ جہت زبردست انقلاب کی کشمکش میں گیارہ ہزار تین سو تیرہ نفوس کام میں آئے ، ( اور اس کے بعد آج تک اور آگے تک یہ قافلہ لاتعداد اور بے گنتی بنتا چلا آرہا ہے ، اور قیامت تک یہ قافلہ پھیلتا رہے گا ) ۔۔۔۔۔۔۔۔ 

 یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت تدابیر اور فراست کا بھی بھرپور دخل ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذہب کی تبلیغ کی ، ایک مملکت کی بنیاد رکھی ، قوم کی تعمیر کی ، ایک ضابطہ اخلاق نافذ کیا ، بے شمار سماجی و سیاسی اصلاحات لائے اور ایک ایسا طاقتور و حرکاتی معاشرہ تشکیل دیا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل آوری ہوتی رہی اور ہوتی رہے گی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رہتی دنیا تک کے لئے انسانی فکر اور رویہ میں انقلاب برپا کر دیا ، 

*عدالتی*:--- اسلام میں عدل وانصاف کی بہت اہمیت ہے ، اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہیکہ اے ایمان والوں تم اللّٰہ کے حق پر قائم رہنے والے ، انصاف کی گواہی دینے والے بنو ، اور کسی قوم کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کر کے عدل نہ کرو ، تم عدل کرو ، تم عدل کرو کیونکہ یہ بات تقوی کے زیادہ قریب ہے ، (المائدہ :5 ) اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قاضی اور جج کے لئے عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا ضروری ہے اور اسے اپنی پسند وہ ناپسند کے مطابق فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے ، اسی طرح کسی کو اختیار نہیں کہ وہ عدلیہ کی بالادستی کو متاثر کرے اور اپنی مرضیت کو پابند بنائیں ، اسلام میں ایسی کئی مثالیں ہیں جس میں عدل و انصاف ظاہر ہے ، بنی مخزوم کی ایک عورت کی چوری کا قصہ ، جس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم تھا ، سفارش کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاریخی جملہ کہا تھا کہ بخدا اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی ایسا کرتی تو میں اس کو ضرور سزا دیتا ( ابو داؤد حدیث نمبر : 4373 ) ،ں حضرت عمر رض کا دور خلافت ، گھوڑے کا واقعہ ، فیصلہ حضرت عمر رض کے خلاف ہوا مگر وہ ذرہ برابر بھی ملول نہیں ہوئے ، حضرت عمر فاروق کے عدلیہ کی مثالیں رہتی دنیا تک قائم رہے گی ، اسلام میں آئین کی بالادستی ہے ، قانونی حکمرانی ہے ، اس کی زد میں جو شخص بھی آئے گا ، بادشاہ ہو یا رعایا ، حاکم ہو یا محکوم ،ں آقا ہو یا غلام ، مرد ہو یا عورت ، شریف ہو کہ حقیر ، ہر ایک پر قانون کا نفاذ برابر طور پر ہوتا ہے ، چودہ سو پچاس صدیاں گزرنے کے باوجود اسلامی قوانین کی معنویت آج بھی قائم و دائم ہیں ، انشاءاللہ رہتی دنیا تک قائم رہے گی قرآن نے جو باتیں بتائی اس میں حق تلفی ، ظلم ، جبر ، بے رحمی ، زور و زیادتی کے لئے واضح الفاظ میں راستہ بتایا ہے ، صحیح معنوں میں رہبری کی ہے ، ان ہی اصولوں کو لے کر زندگی کو سنوارا جا سکتا ہے ، عدالتی نظام کی سب سے بڑی عدالت قیامت کے دن اللہ تعالی کی رہے گی ، باریک سے باریک ذرہ برابر باتوں کی جواب دہی رہے گی ، وہ بہت اہم پکڑ رہے گی ، اس وقت کے انصاف میں صرف موجود نیکیوں کا ازالہ رہے گا ، ہمارے نیکیوں کے اکاؤنٹ خالی ہوتے رہیں گے ، انصاف میں خیر خواہی منتقل ہوتے رہے گی ، اس عدالتی نظام کی پکڑ سے بچنے کے لیے بہت سے احتیاط اور عمل قرآن کے ذریعے بتائے گئے ہیں ، اللہ رب العزت قیامت کے دن ہماری اور ہماری نیکیوں کی حفاظت فرمائے اور پرسکون اور بے خوف والے لوگوں میں کھڑا کرے اور جنت کے لیے فیصلے کے حق میں نام شامل رہے آمین ثم آمین ۔

*حکومتی* :--- قران کریم اور احادیث پاک میں ایسی معتدد ہدایت موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام روئے زمین پر ایک ایسی آئینی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے جہاں حکمران اور رعایا دونوں کسی بالاتر قانون کے پابند ہو ، جہاں قانون ، حکمران طبقے کے لیے بازیچہ اطفال نہ بنیں ، جہاں انسانوں کی مرضی سے نہیں بلکہ رب العالمین کے مقرر کردہ اصول و کلیات کی روشنی میں نظام العمل مرتب ہو سکے ، جس پر کسی خاص طبقہ یا ٹولے کی جاگیرداری نہ ہو اور جس کے انتخاب سے لے کر انتظام تک میں ارباب حل و عقد اور اصحاب دانش کی آراء سے استفادہ کیا جائے ، دنیا میں حکمرانی کی اب تک کی تاریخ دو الگ الگ انتہاؤں کو چھو رہی ہے یا تو وہ آمریت کے ذہن سے جنم لیتی ہے یا عوامی آزادی کے بطن سے ، دوسرے لفظوں میں حکومت یا تو ایک فرد یا طبقے کی غلام ہو جاتی ہے یا پھر کسی نہ کس وہ ناقص کے خیالات کی پابند تمام اختیارات کسی فرد یا ٹولے کو مل جانا اتنا خطرناک ہے جتنا ہر بو الہوس کو قابل اختیار بنانا اس سے بھی زیادہ خطرناک اور

 مشکل ہے ، اسلام ان دو انتہاؤں کے درمیان ایسی حکومت کا طرفدار ہے جہاں اختیار کسی ایک فرد یا خاندان تک محدود نہ ہو اور نہ ریاست کے ہر فرد کو شریک کرنے کی پابندی ہو ، عدالت و اجتہاد ، فقہ و مالکیہ ، شافعہ و حنابلہ کے نزدیک امیر کے لئے عادل ہونا شرط ہے ، یعنی ایسا شخص جو امانت و دیانت اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہو صادق القول ہو ، گناہوں سے بچتا ہو ، اعتماد اور وقار رکھتا ہو ، رضا اور غضب ، ہر حال میں قابل بھروسہ ہو ، اس کے دینی اور اخلاق حالت لوگوں میں معروف اور مسلم ہو ، اور صاحب اجتہاد یعنی اتنا علم و فہم مختلف مسائل و واقعات میں کسی نتیجے تک پہنچنے کی اس میں صلاحیت ہو اسی لئے ان کے نزدیک صاحب عدل و اجتہاد شخصیت کے رہتے ہوئے کسی فاسق یا غیر مجتہد کو امیر بنانا درست نہیں ہے ، حنیفہ کی رائے میں امیر میں یہ صفات بطور شرط صحت نہیں بلکہ بطور الویت مطلوب ہیں یعنی اگر عادل وہ مجتہد شخصیت کی موجودگی میں کسی ایسے شخص کو یہ ذمہ داری دی جائے جو ان صفات سے محروم ہو تو یہ انتخاب کا غیر مناسب طریقہ تو ہوگا مگر منتخب شدہ امیر کی عمارت باطل نہیں ہوگی (حاشیہ ابن عابدین عابد 3/305/٫1/38 )

ہمارے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم صادق و امین نے جو حکومت 1450 سال پہلے کی ہے قرآن کی ہدایت کی روشنی کو پھیلایا ہے ، ان کے سینے کو چاک کیا گیا تھا ، اللہ تعالی کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریعے اللہ کا پیغام ملا کہ دنیا میں حکومت کے انداز محبت ، اخوت ، ہمدردی ، صلہ رحمی ، انصاف ، بھائی چارگی ، غیروں کی قدر ، ہر لفظ میں سچائی ، نرمی ، اس طرح ہوں کہ رہتی دنیا تک ، قیامت تک مثال رہے ، ہر انداز قرآن کے پہلو سے جڑا ہو ، اگر انسان ان تعلیمات کو فالو کر لیں تو قیامت کے دن مطمئن کھڑا رہے گا اسلامی ، نظامِ سیاست میں منافقت اور چال بازی نہیں ہے ، غرض کے نمونے بندگی کی یہ آخری کڑی رکھ دی گئی ، اللہ تعالی سورہ توبہ میں ہمارے رسول محمد عربی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنا کر مبعوث فرمائے جانے اور آپ کے حقیقی مشن کی طرف نشاندہی فرما رہے ہیں ، ارشاد باری تعالی یوں ہوا ,, وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے دین پر غالب کرے ،، دشمنان اسلام کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مصائب وہ الام کا متناہی سلسلہ جاری رہا اس دین رحمت کی خاطر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پتھر کھائے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت میں ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے ، اس کی اولادوں نے بہت زیادہ تکلیفیں دی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی واپس غلط عمل نہ کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکومت کی سب سے بڑی مثال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد دشمنوں کو معاف کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے کو دشمنوں نے ناکام کرنے کی کوشش کی لیکن لوگ سننے کے منتظر تھے کہ آخر کیا کہا جانے والا ہے اور اثر یہ ہوا کہ ایمان لانے والوں کی تعداد بڑھتی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل خلفائے راشدین نے جوں کا تو دہرایا ، لوگ متاثر ہوتے گئے ، چاروں خلیفہ کے حسن سلوک اور حکومت کے پہلو کی مثال نہیں ملتی ، ان کا حسن سلوک رہتی دنیا تک رہے گا ، اللہ تعالی ہم سب کو قرآن بار بار پڑھنے اور عمل کرنے والا بنائے اور قیامت کے دن نیک لوگوں کی صف میں کھڑا کریں ، اللّٰہ ہم سب سے راضی ہوجائے ، اللّٰہ ہمیں علم و عمل کی توفیق عطاء فرمائے ، آمین ۔