بے حیائی کا بڑھتا ہوا رجحان—دین، اخلاق اور مشرقی تہذیب کے لیے لمحۂ فکریہ

 قاری محبوب الحسن مظفرنگری

کسی بھی معاشرے کی پہچان صرف اس کی بلند و بالا عمارتوں، جدید لباس، ترقی یافتہ ٹیکنالوجی یا مادی خوش حالی سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کی اصل شناخت اس کے اخلاق، کردار، تہذیبی اقدار اور حیا سے ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں شرم و حیا، پاکیزگی، عفت، احترامِ انسانیت اور خاندانی اقدار زندہ رہیں، وہ معاشرہ بظاہر کم وسائل کے باوجود اندر سے مضبوط ہوتا ہے؛ اور جہاں حیا رخصت ہونے لگے، وہاں بگاڑ صرف لباس تک محدود نہیں رہتا بلکہ آہستہ آہستہ سوچ، کردار، خاندان اور معاشرتی زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں بعض تقریبات، شادی بیاہ، تہواروں اور خصوصی پروگراموں میں لباس اور پردے کے حوالے سے جو تبدیلیاں دکھائی دے رہی ہیں، وہ سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتی ہیں۔ کہیں سر سے دوپٹہ غائب ہوتا دکھائی دیتا ہے، کہیں جسم کی نمائش کو فیشن کا نام دیا جاتا ہے، اور کہیں ایسی محفلوں میں بے تکلفی بڑھتی جارہی ہے جہاں شرعی اور تہذیبی حدود کی رعایت ضروری تھی۔ افسوس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ بعض عمر رسیدہ خواتین تو پردے کا اہتمام کرتی ہیں، لیکن انہی گھروں میں جوان بیٹیوں اور بہنوں کے لباس اور پردے کے معاملے میں وہ حساسیت دکھائی نہیں دیتی۔

یہ کسی ایک فرد یا صرف عورت کا مسئلہ نہیں؛ حیا مرد اور عورت دونوں کی ذمہ داری ہے۔ اسلام نے دونوں کو پاکیزگی، نگاہوں کی حفاظت اور کردار کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔

حیا کیا ہے؟

حیا کے لغوی معنی وقار، متانت، سنجیدگی اور شرم کے ہیں۔ حیا بے شرمی اور فحاشی کی ضد ہے۔ یہ انسان کے اندر ایک ایسی اخلاقی قوت پیدا کرتی ہے جو اسے بہت سے برے کاموں سے خود ہی روک دیتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«الحياءُ لا يأتي إلا بخير»
یعنی: حیا خیر ہی لاتی ہے۔
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

حیا صرف لباس کا نام نہیں۔ نگاہ میں حیا، گفتگو میں حیا، چلنے میں حیا، میل جول میں حیا، لباس میں حیا اور دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف یہ سب حیا کے مختلف مظاہر ہیں۔

اسلام نے حیا کا حکم صرف عورت کو نہیں دیا

بعض اوقات پردے اور حیا کی گفتگو صرف خواتین تک محدود کردی جاتی ہے، حالانکہ قرآن مجید نے سب سے پہلے مردوں کو بھی پاکیزگی اور نگاہ کی حفاظت کا حکم دیا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿قُلْ لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ﴾
"مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔"
(سورۃ النور: 30)

اس کے فوراً بعد مومن عورتوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے اور پاکدامنی کی حفاظت کا حکم دیا گیا۔ (سورۃ النور: 31)

اس سے واضح ہے کہ اسلام کا نظامِ حیا یک طرفہ نہیں بلکہ مرد و عورت دونوں کے لیے ہے۔

پردہ صرف کپڑے کا نہیں، کردار کا بھی ہے

قرآن مجید نے مومن عورتوں کو اپنے بناؤ سنگھار کی نمائش سے بچنے اور اپنی زینت کو چھپانے کی ہدایت فرمائی ہے۔ اسی طرح سورۃ الاحزاب میں نبی کریم ﷺ کی ازواج، بیٹیوں اور مومن عورتوں کو باہر نکلتے وقت اپنی چادریں اپنے اوپر ڈالنے کی ہدایت دی گئی۔ (الاحزاب: 59)

یہ احکام عورت کی تذلیل کے لیے نہیں بلکہ اس کی عفت، وقار اور معاشرتی احترام کے تحفظ کے لیے ہیں۔

پردہ عورت کو معاشرے سے کاٹنے کا نام نہیں؛ بلکہ یہ اس کے لباس، اختلاط، نگاہ اور معاشرتی برتاؤ میں شرعی حدود کی حفاظت کا نام ہے۔

فیشن کب فکری غلامی بن جاتا ہے؟

لباس انسان کی ضرورت بھی ہے اور تہذیب کی علامت بھی۔ ہر نیا لباس یا ہر جدید چیز لازماً غلط نہیں، لیکن جب فیشن کے نام پر ستر، وقار اور شرعی حدود نظر انداز ہونے لگیں تو سوال صرف لباس کا نہیں رہتا، بلکہ تہذیبی شعور کا بن جاتا ہے۔

مغربی معاشروں کی ہر چیز قابلِ تقلید نہیں اور مشرقی معاشرے کی ہر چیز بھی لازماً درست نہیں۔ اسلام ہمیں اندھی تقلید نہیں بلکہ حلال و حرام، پاکیزگی، اخلاق اور وقار کا معیار دیتا ہے۔

مردوں کے مخصوص لباس کی مشابہت اختیار کرنا ہو یا ایسا لباس پہننا جس سے جسم کی نمائش ہو، مسلمان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کا لباس اسلامی احکام اور باوقار معاشرتی اصولوں سے متصادم تو نہیں۔

سب سے بڑا سوال گھر کے دروازے پر کھڑا ہے

معاشرے کی اصلاح سڑک سے نہیں، گھر سے شروع ہوتی ہے۔

اگر ماں اپنی بیٹی کو حیا سکھائے، باپ اپنی بیٹی اور بیٹے دونوں کی تربیت کرے، بھائی اپنی بہن کے لیے محافظ اور خیرخواہ بنے، اور گھر کا ماحول قرآن و سنت، ادب اور پاکیزگی سے معمور ہو تو باہر کے فتنوں کا مقابلہ آسان ہوجاتا ہے۔

یہ بھی درست نہیں کہ والدین صرف بیٹی کے لباس پر نظر رکھیں اور بیٹے کی نگاہ، زبان اور لباس کی اصلاح نہ کریں۔ اسلام میں پاکیزگی کا تقاضا دونوں سے ہے۔

شادی بیاہ اور تقریبات: خوشی کے ساتھ حدود بھی ضروری ہیں

شادی خوشی کا موقع ہے، مگر خوشی کے نام پر شریعت کی حدود بھلا دینا مناسب نہیں۔ شادی بیاہ اور تہوار ہماری تہذیب اور معاشرتی زندگی کا حصہ ہیں، لیکن ان مواقع پر لباس، موسیقی، اختلاط، تصاویر، ویڈیوز اور بے تکلفی کے معاملات میں احتیاط کی ضرورت ہے۔

ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر کسی تقریب میں چند گھنٹوں کی خوشی کے لیے حیا اور شرعی حدود کو قربان کردیا جائے تو ہم اپنی اگلی نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟

بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ بڑوں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

بے حیائی کے اسباب

بے حیائی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیچھے کئی عوامل ہوسکتے ہیں:

• اسلامی تعلیمات اور دینی تربیت سے دوری۔
• سوشل میڈیا پر غیر مناسب مواد کی کثرت۔
• مغربی طرزِ زندگی کی اندھی تقلید۔
• مخلوط محفلوں اور بے تکلف میل جول کا بڑھنا۔
• جسم کی نمائش کو فیشن اور ترقی سمجھنا۔
• والدین کی طرف سے تربیت میں غفلت۔
• گھر میں دینی ماحول اور عملی نمونے کا کمزور ہونا۔

اس مسئلے کا علاج صرف تنقید نہیں بلکہ صحیح تربیت، حکمت اور عملی نمونہ ہے۔

کیا حیا صرف عورت کا زیور ہے؟

نہیں! حیا مرد کا بھی زیور ہے۔

جس طرح عورت کے لباس اور کردار میں حیا مطلوب ہے، اسی طرح مرد کی نگاہ، لباس، گفتگو اور رویے میں بھی حیا مطلوب ہے۔ بازار میں عورت کو دیکھنے والی نگاہ اگر بے لگام ہے تو صرف عورت کے لباس کو موردِ الزام ٹھہرانا اسلامی تعلیمات کی مکمل تصویر نہیں۔

قرآن نے پہلے مرد کو نگاہ کی حفاظت کا حکم دیا، پھر عورت کو بھی۔

لہٰذا ہمیں بیٹیوں کو حیا سکھانے کے ساتھ بیٹوں کو بھی نگاہ کی حیا سکھانی ہوگی۔

مشرقی تہذیب اور شرم و حیا

برصغیر کی روایتی تہذیب میں بھی حیا، بڑوں کا احترام، خاندان کا وقار، لباس کی شائستگی اور خواتین کا احترام بنیادی اقدار میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ دوپٹہ، چادر اور باوقار لباس صرف کپڑے نہیں بلکہ ہماری تہذیبی شناخت کے مظاہر بھی رہے ہیں۔

لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مسلمان کے لیے اصل معیار محض "مشرقی" یا "مغربی" ہونا نہیں، بلکہ قرآن و سنت کے مطابق درست اور پاکیزہ ہونا ہے۔

مشرق کی اچھی روایت کو اسلام کی روشنی میں محفوظ کرنا اور غلط رسم و رواج کو چھوڑ دینا ہی متوازن راستہ ہے۔

بے حیائی کا نقصان صرف فرد کو نہیں پہنچتا

جب معاشرے میں حیا کمزور ہوتی ہے تو اس کے اثرات خاندان پر بھی پڑتے ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان اعتماد، بچوں کی تربیت، باہمی احترام اور خاندانی وقار متاثر ہوسکتے ہیں۔ نوجوان نسل کے سامنے اگر ہر طرف جسمانی نمائش، بے تکلفی اور بے حیائی کو کامیابی اور جدیدیت کے عنوان سے پیش کیا جائے تو ان کے لیے پاکیزہ کردار کو اختیار کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

اسی لیے حیا دراصل خاندان کی حفاظت کرنے والی ایک اخلاقی دیوار ہے۔

ہمیں اپنی بیٹیوں پر نہیں، اپنی نسل پر فکر کرنی ہے

بیٹی ہماری عزت ہے تو بیٹا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ بیٹی کے لباس پر گفتگو کرتے ہوئے اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا چاہیے اور بیٹے کی تربیت کرتے ہوئے اسے یہ سکھانا چاہیے کہ عورت کو صرف جسم نہیں بلکہ ایک محترم انسان سمجھا جائے۔

ہمیں ڈانٹ، طعنہ اور تحقیر سے زیادہ محبت، حکمت، دینی تعلیم اور عملی نمونے کے ذریعے اصلاح کرنی ہوگی۔

اگر ماں باپ خود حیا دار گفتگو کریں، نگاہوں کی حفاظت کریں، لباس میں وقار اختیار کریں اور گھر میں قرآن و سنت کی تعلیم کو زندہ کریں تو اولاد پر اس کا گہرا اثر پڑے گا۔

آخری بات

آج ضرورت کسی فرد، جنس یا طبقے کو برا بھلا کہنے کی نہیں بلکہ اپنے پورے معاشرے کا محاسبہ کرنے کی ہے۔

ہمیں اپنے گھروں میں دوبارہ حیا کا چراغ روشن کرنا ہوگا۔ مسجد، مدرسہ، اسکول، گھر، میڈیا اور سوشل میڈیا—ہر جگہ یہ پیغام پہنچانا ہوگا کہ حیا پسماندگی نہیں، انسانی وقار کی علامت ہے۔

حیا انسان کو کمزور نہیں کرتی، اسے اپنے نفس پر قابو پانا سکھاتی ہے۔ حیا زندگی کو محدود نہیں کرتی، اسے پاکیزہ اور باوقار بناتی ہے۔

آئیے ہم اپنی بیٹیوں کو پردہ صرف حکم کے طور پر نہیں، وقار کے طور پر سمجھائیں؛ اپنے بیٹوں کو نگاہ کی حفاظت صرف نصیحت کے طور پر نہیں، کردار کی بنیاد کے طور پر سکھائیں؛ اور اپنے گھروں کو ایسے ماحول میں تبدیل کریں جہاں حیا پرانی چیز نہیں بلکہ زندہ اخلاقی قدر ہو۔

کیونکہ جس دن معاشرے سے حیا رخصت ہوجاتی ہے، اس دن صرف لباس نہیں بدلتا، انسان کی سوچ، کردار اور معاشرتی ترجیحات بھی بدلنے لگتی ہیں۔

اور جس معاشرے میں حیا زندہ ہو، وہاں پاکیزگی، احترام، خاندان اور انسانیت کے لیے بھی زندگی باقی رہتی ہے۔