تمہیں مجھ سے اتنا عشق نہیں ہونا چاہیے

✍️ ایم ایس انجم دربھنگوی

رات کا آخری پہر اپنے عروج پر تھا۔ گھڑی کی سوئیاں دو کے ہندسے پر آ کر یوں ٹھہر سی گئی تھیں، جیسے وقت نے خود اپنی نبض تھام لی ہو۔ کمرے کی تنہائی نے اپنے پرسکون مگر گہرے سائے ہر سو پھیلا رکھے تھے۔ باہر سناٹے کا ایسا افسردہ راج تھا کہ دل کی دھڑکنیں بھی کسی اجنبی آہٹ کی طرح محسوس ہوتی تھیں۔ بستی کا ہر در، ہر دیوار اور ہر کھڑکی نیند کے بوجھ تلے خاموش تھی؛ مگر اس خاموش بستی میں ایک چراغ اب بھی روشن تھا، اور وہ چراغ میں تھا—تنہا میز کے پاس بیٹھا، ہاتھ میں کاغذ اور پرانا قلم لیے، ماضی کی جمی ہوئی تہوں کو کرید رہا تھا۔
کاغذ کے سفید ورق پر روشنائی کا پہلا قطرہ گرا تو ماضی کے دریچے یکایک وا ہو گئے۔
وہ راتیں بھی کیا راتیں تھیں! جب وقت ہماری خواہشوں کا پابند معلوم ہوتا تھا، جب اس کی قربت میں بیٹھ کر دنیا کی ہر فکر بھول جایا کرتے تھے۔ غمِ روزگار، کل کی فکر اور زمانے کی تلخیاں جیسے کہیں دور رہ جاتی تھیں۔ بس اس کی باتوں کی مٹھاس تھی، اس کی موجودگی کا سکون تھا، اور دل پر اتر جانے والی وہ کیفیت تھی جسے آج یاد کرتا ہوں تو خواب محسوس ہوتی ہے۔
اس وقت کہے گئے الفاظ آج بھی اس سناٹے میں یوں گونجتے ہیں جیسے وہ لمحے ابھی کہیں آس پاس ٹھہرے ہوئے ہوں۔
مجھے وہ رات آج بھی یاد ہے، جب چاند کی مدھم روشنی میں اس نے میری طرف دیکھ کر دھیرے سے پوچھا تھا:
"تمہیں مجھ سے اتنا عشق کیوں ہے؟"
میں نے اس کی شفاف آنکھوں میں دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا تھا:
"کیونکہ تمہاری محبت کے بغیر میری دنیا ادھوری محسوس ہوتی ہے۔"
وہ کچھ دیر خاموش رہی، پھر ایک اداس سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی تھی:
"پگلے! تمہیں مجھ سے اتنا عشق نہیں ہونا چاہیے کہ جدائی کا تصور بھی تمہاری روح کو زخمی کر دے۔"
میں نے بے فکری سے کہا تھا:
"تو پھر جدائی کا خیال ہی کیوں؟ ہم تو ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔"
کاش! انسان اپنے کہے ہوئے لفظوں کا مستقبل بھی جان سکتا۔
اس کی وہ ہنسی، وہ لہجہ، وہ مختصر سی گفتگو—آج بھی اس اداس کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر میرے دل میں اتر جاتی ہے۔
وہ دن بھی کیا دن تھے، جب ہر صبح ایک امید لے کر آتی تھی اور ہر شام اس کی ایک جھلک کی منتظر رہتی تھی۔ کبھی اس کی گلی سے بے مقصد گزرنا، کبھی دیر تک اس کے آنے کا انتظار کرنا، اور کبھی دور سے اس کی ایک جھلک مل جانا—یہ معمولی سے لمحے بھی اس وقت پوری دنیا کی خوشی محسوس ہوتے تھے۔
مگر انسان لاکھ تدبیریں کرے، تقدیر کے فیصلوں کے سامنے آخر کس کا زور چلتا ہے؟
شاید ہماری کہانی کے حصے میں وصل سے زیادہ جدائی لکھی تھی؛ سو وہ مجھ سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئی۔
آج نہ وہ گلی ویسی رہی، نہ وہ دن، نہ وہ بے فکری، اور نہ وہ شخص جس کے ساتھ زندگی کبھی مکمل محسوس ہوتی تھی۔
باقی رہ گیا ہے تو بس یہ آدھی رات کا سناٹا، یہ اداس کمرہ، چند بکھری ہوئی یادیں، اور کاغذ پر لکھا ہوا وہ جملہ—جو آج بھی دل کے کسی گوشے میں تازہ زخم کی طرح موجود ہے:
"تمہیں مجھ سے اتنا عشق نہیں ہونا چاہیے..."
میں نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے قلم ایک طرف رکھ دیا۔
کچھ جدائیاں انسان کو رُلاتی نہیں، خاموش کر دیتی ہیں۔ کچھ یادیں مٹتی نہیں، بس انسان انہیں اپنے اندر دفن کرنا سیکھ لیتا ہے۔
میں نے بھی آج ماضی کے اس باب کو بند کرنے کی کوشش کی ہے؛ مگر دل جانتا ہے کہ کچھ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں، صرف ان کے کردار خاموش ہو جاتے ہیں۔
اور شاید محبت کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ جسے دل نے اپنی دنیا سمجھا ہو، اسے تقدیر کے فیصلے کے سامنے خاموشی سے چھوڑ دینا پڑے۔
وہ چلی گئی، مگر اس کا ایک جملہ آج بھی میرے دل کی خاموش دیوار پر لکھا ہے—
"تمہیں مجھ سے اتنا عشق نہیں ہونا چاہیے..."