مضمون (52)

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

بابری مسجد — ایک تاریخی المیہ اور ہندوستانی ضمیر کا امتحان

_______________

برصغیر کی سرزمین نے صدیوں سے مختلف تہذیبوں، مذاہب اور عقائد کو اپنے دامن میں سمیٹا ہے۔ ہندوستان کی شناخت ہمیشہ تکثیریت، رواداری اور ہم آہنگی رہی ہے۔ لیکن کچھ سانحات ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں بلکہ انسانیت کی اجتماعی سماعت میں ایک ایسا زخم چھوڑ جاتے ہیں جو برسوں بعد بھی تازہ محسوس ہوتا ہے۔

بابری مسجد کا انہدام بھی ایسا ہی سانحہ ہے—ایک مذہبی مقام کی تباہی نہیں، بلکہ ایک ریاستی وعدے، آئینی انصاف اور سماجی ہم آہنگی کی بنیادی روح کا انہدام۔

ذیل میں اس المیے کا مکمل تاریخی تسلسل پیش ہے، تاکہ آنے والی نسلیں یہ جان سکیں کہ تاریخ کس طرح بنتی اور بگڑتی ہے۔

بابری مسجد سے متعلق اہم واقعات — تاریخ کے مطابق

1528:

ایک ایسے مقام پر مسجد کی تعمیر جو کچھ ہندو تنظیموں کے دعویٰ کے مطابق ’رام‘ کی جائے پیدائش تھی۔

1853ء:

ایودھیا کے پہلے مذہبی فسادات۔

1859ء:

برطانوی نوآبادیاتی حکومت کی جانب سے عبادت کی جگہ کی تقسیم کر دی گئی۔

1949ء:

مسجد کے اندر سے ’رام‘ کی مورتی کی دریافت۔ حکومت نے متنازع مقام قرار دے کر مسجد بند کروا دی۔

1984ء:

وشوا ہندو پریشد کی جانب سے ’رام‘ کی جائے پیدائش کو آزاد کروانے کے لیے تحریک کا اعلان۔ بی جے پی کے رہنما لعل کرشن ایڈوانی نے اس تحریک کی قیادت سنبھال لی۔

1986ء:

ضلعی عدالت کی جانب سے ہندوؤں کو متنازع مقام پر پوجا کی اجازت۔ مسلمانوں کی جانب سے بابری مسجد ایکشن کمیٹی کا قیام۔

1989ء:

وشوا ہندو پریشد نے مسجد سے ملحقہ زمین پر رام مندر کی بنیاد رکھ دی۔

1990ء:

وشوا ہندو پریشد کے حامیوں نے مسجد کو جزوی طور پر نقصان پہنچایا۔ بھارتی وزیرِاعظم کی جانب سے مسئلے کے حل کی کوشش۔

1991ء:

ریاست اتر پردیش میں بی جے پی حکومت کا قیام۔

1992ء:

وشوا ہندو پریشد کے حامیوں کی جانب سے بابری مسجد کی شہادت۔ ہندو مسلم فسادات، تین ہزار افراد ہلاک۔

2001ء:

انہدام کے 9 برس مکمل ہونے پر وشوا ہندو پریشد کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کا عزمِ نو۔

جنوری 2002ء:

وزیرِاعظم واجپائی کے دفتر میں ’ایودھیا سیل‘ کا قیام۔

فروری 2002ء:

بی جے پی کی جانب سے انتخابی منشور میں سے رام مندر کی تعمیر کی شق خارج۔ ایودھیا سے واپس آنے والے ہندوؤں کی ٹرین پر حملہ، 58 ہلاک۔ وشوا ہندو پریشد کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کے آغاز کے لیے 15 مارچ کی تاریخ کا اعلان۔

مارچ 2002ء:

گجرات مسلم کش فسادات میں دو ہزار افراد ہلاک۔

اپریل 2002ء:

ایودھیا کے متنازع مقام کی ملکیت کے بارے میں مقدمے کی سماعت کا آغاز۔

جنوری 2003ء:

ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی جانب سے عدالت کے حکم پر متنازع مقام کے جائزے کا آغاز۔

اگست 2003ء:

ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی جانب سے مسجد کے نیچے مندر کی موجودگی کے شواہد کا اعلان۔ مسلمانوں کی جانب سے اعتراضات۔

ستمبر 2003ء:

عدالت کی طرف سے بابری مسجد کے انہدام پر اکسانے کے الزام میں سات ہندو رہنماؤں پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ۔

اکتوبر 2003ء:

مسلم تنظیموں کی جانب سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا مطالبہ۔

دسمبر 2003ء:

انہدام کی گیارہویں برسی پر حیدرآباد دکن میں فسادات۔ پانچ افراد ہلاک۔

جولائی 2004ء:

شیو سینا کے رہنما بال ٹھاکرے کی جانب سے مسئلے کے حل کے لیے متنازع مقام پر قومی یادگار کی تعمیر کی تجویز۔

اکتوبر 2004ء:

لال کرشن ایڈوانی کی جانب سے مندر کی تعمیر کے عزم کا اعادہ۔

نومبر 2004ء:

الہٰ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بابری مسجد معاملہ میں لال کرشن ایڈوانی کو نوٹس۔

اکتوبر 2010ء:

الٰہ آباد عدالت نے فیصلے میں بابری مسجد کی زیادہ تر زمین ہندوؤں کے دو فریقوں کو دے دی۔ تاہم سابقہ مسجد کی زمین کے ایک تہائی حصے پر مسجد کی بازتعمیر کی گنجائش رکھی گئی۔

دسمبر 2015ء:

بڑے پیمانے پر تعمیری پتھروں کو بابری مسجد کی زمین پر وشوا ہندو پریشد کی جانب سے بھیجا گیا۔

9 نومبر 2019ء:

سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے بارے میں تمام شواہد قبول کرلیے — پھر بھی، ہندوستانی جمہوریت سے انکار کرتے ہوئے، بابری مسجد کی سرزمین کو عقیدے کی بنیاد پر ہندوؤں کے حوالے کر دیا گیا۔

22/جنوری 2024 کو وزیراعظم نریندر مودی کے ہاتھوں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا افتتاح پران پرتشٹھا یعنی روح پھونکنے کا عمل ہوا 

بابری مسجد کا یہ المیہ صرف ایک عمارت کی تباہی نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے ملک کا تذکرہ ہے جو اپنی سیکولر شناخت پر فخر کیا کرتا تھا۔

یہ فیصلہ صرف ایک مقدمہ نہیں تھا بلکہ ایک نظریے کی جیت تھا—ایسا نظریہ جو آئینی مساوات سے زیادہ اکثریتی دباؤ کو فوقیت دیتا ہے۔

تاہم تاریخ کا انصاف جلد یا بدیر ضرور ہوتا ہے۔

اس سانحے نے یہ سکھایا کہ:

ایمان اور انصاف کے راستے میں ثابت قدم رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔

ملک کی اصل طاقت اس کے دستور، اس کے انصاف اور اس کی ہم آہنگی میں ہے۔

اور سب سے بڑھ کر، سچ کبھی دفن نہیں ہوتا—وہ ہمیشہ اپنے وقت پر انکشاف کرتا ہے۔

بابری مسجد کی تاریخ ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ انصاف کی جستجو جاری رکھنا ہی انسان کی اصل ذمہ داری ہے، اور یہی کسی قوم کے زندہ ہونے کی پہچان ہے۔

بقلم محمودالباری

mahmoodulbari342@gmail.com