انسان: زمین پر اللہ کا ذمہ دار خلیفہ
اللہ تبارک وتعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے ارشاد فرمایا: ﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾ — ’’میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔‘‘ فرشتوں نے عرض کیا کہ کیا آپ ایسی مخلوق کو پیدا فرمائیں گے جو زمین میں فساد کرے گی اور خون بہائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ — ’’میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اشیاء کے ناموں کا علم عطا فرمایا، جس سے انسان کی ایک نمایاں خصوصیت یعنی علم و معرفت کی قدر و منزلت ظاہر ہوئی۔
حضرت آدم علیہ السلام کو زمین میں خلیفہ بنائے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو بے لگام آزادی دے دی گئی، بلکہ اسے ذمہ داری، جواب دہی اور امانت کے ساتھ زمین پر بھیجا گیا۔ اسے اپنے رب کو پہچاننا، اس کی عبادت کرنا، حلال و حرام کی رعایت رکھنا، عدل و انصاف قائم کرنا اور زمین میں فساد کے بجائے اصلاح کا ذریعہ بننا ہے۔ انسان کے پاس علم ہو مگر اخلاق نہ ہوں، طاقت ہو مگر عدل نہ ہو، مال ہو مگر شکر نہ ہو، تو یہی نعمتیں اس کے لیے وبال بن سکتی ہیں۔
آج کے انسان کو اس واقعے سے سب سے بڑا سبق یہی ملتا ہے کہ ہم اپنی حیثیت اور مقصدِ زندگی کو نہ بھولیں۔ ہم جس علم پر فخر کرتے ہیں، جس منصب کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں اور جس طاقت کو اپنا کمال سمجھتے ہیں، سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ لہٰذا حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ انسان دنیا میں کتنا بڑا بن گیا، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے کتنا کامیاب ثابت ہوا اور زمین پر اپنے وجود سے کتنی خیر پھیلائی۔ ہمیں اپنے علم کو خدمت، اپنی صلاحیت کو اصلاح، اپنی زبان کو خیر اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ یہی انسان کے منصبِ خلافت کا حقیقی تقاضا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے، فساد سے بچنے اور زمین پر خیر و اصلاح کا ذریعہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔