زندگی بھی عجب تماشا ہے باہر قدم رکھو تو قرض داروں کی تیز نگاہیں سینے میں خنجر اتار دیتی ہیں اور گھر کے اندر آئیں تو اپنوں کی بے بسی مزید سانس لینا محال کر دیتی ہے 
​اور میں ، ان دونوں جہانوں کے درمیان لٹکا ہوا ایک ایسا بے بس وجود ہوں، جسے نہ موت قبول کرتی ہے اور نہ زندگی معاف کرتی ہے

​زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

*✍️ ایم ایس انجم دربھنگوی*