*کچھ ہم سے کہا ہوتا ،کچھ ہم سے سنا ہوتا* 

✍🏻گل رضا راہی ارریاوی


 اسلام ایک پاکیزہ مذہب ہے،ہمیشہ انسانیت کا درس دیتا ہے ، یہ پورے عالم انسانیت کے لیے ہدایت کا پیغام ہے ،اس کی واضح پیغام فطرت کو جھنجھوڑتا ہے ، راہ حق کی دعوت دیتا ہے، اس کے قانون عدل وانصاف پر مبنی ہے -

اسلام نے انسان کی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کی ہے، ہر ایک کو مکمل حقوق دیاہے ،وہ حقوق جو دیگر مذاہب نے نہیں دیے یا پھر ہلکا ہاتھ رکھا، ،ہر ایک شعبے میں اسلام کا پیغام موجود ہے کوئی ساقی تشنہ لب نہیں ہوگا ،جب اسلام آیا تو لوگ اس کی آفاقی شان اور بلند وپاکیزہ کردارکو دیکھ کر جوق در جوق حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے ، اسلام کی صداقت وامانت سے متاثر ہو کر قبول اسلام خاطر دربار نبوت میں حاضری دینے لگے کیوں کہ یہاں سب کو اس کے حقوق مل رہے تھے ،مظلوم کی بات سنی جارہی تھی -

 جو لوگ اسلام کو مکمل طور پر پڑھتے ہیں ،صحیح نظریے سے مطالعہ کرتے ہیں ،ہدایت کے غرض سے سمجھتے ہیں ، وہ اسلام کے قریب آتے ہیں، اس کو جانتے ہیں ،اس کو سمجھتے ہیں پھر وہ اسلام کو قبول کرتے ہیں ،کیوں کہ یہ میکدہ ایسا ہے ساقی کہ کوئی پیاسا نہیں رہتی -
حق وباطل کی معرکہ قدیم روایت ہے اسی لیے جب کبھی اسلام کی نشر و اشاعت ہوتی ہے حق واضح ہوتا ہے ،حق کا پیغام لوگوں کے تک جاتا ہے تو باطل پرست طاقت دندنا اٹھتا ہے کیوں کہ یہ گروہ ہمیشہ سے اسلام کے مخالف رہی ہے اور اسلام کی ترقیات میں رکاوٹ بنی ہے ،انہیں یہ بات کیسے ہضم ہوسکتی ہے کہ اسلام ترقی کرے تو یہ مختلف طریقے مختلف چالبازی سے اسلام کو روکنے کی کوشش کرتی ہے ،غلط افواہ جھوٹی خبریں پھیلاتی ہے ،جیساکہ حضرت عثمان کے شہادت کےبارے میں ہوا اور عزوۂ احد آپ کی وفات خبر پھیلائی گئی یہ گروہ ہمیشہ کرتی ہےکہ حق کے متلاشی کبھی اس کے قریب نہ جائیں جیساکہ ابو جہل عتبہ شیبہ ابو لہب کرتاتھا -

 نوح علیہ السلام سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء نے حق کا پیغام دیا، رب کا پیغام پہنچایا، انسانوں کی تربیت کی، نفسیات کی اصلاح کی اور باطن کی کج روی کو درست کیا،لیکن جو ہٹ دھرم تھے،مکر وفریب جس کی سرشت میں تھی ، جو قبول حق کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے ، اپنی زندگی اندھیروں میں گزارنا چاہتے تھے، اسلام نے کھٹکتا تھا ،اس لیے وہ اسلام رل کو نہیں مانتے اور تکبر و عناد میں رہتے ہیں اسلام ان کی خواہشات میں رکاوٹ بنتا ہے،انہیں ہرایسی چیز سے دور کرتاہے جو انسان کےلیے نقصان دہ ہے جس کی وجہ سے انہیں اسلام کا پیغام پسند نہیں آتا،وہ نہیں چاہتا کہ اسلام کا پیغام دور تک پہنچے ،اسکی نشر اشاعت ہو ،تو وہ اس لیے مختلف راستوں سے اسلام کو بدنام کرنے، اسلام کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں، دیگر انبیاء کے ساتھ اس کی بد فطرت وبدطینت قوم نے کیا نہیں کیا؟ظلم وستم کے پہاڑ توڑے یہ تاریخ کی سچی کتابوں اوراسلامی کتابوں میں واضح طریقے پر موجود ہے -
حالانکہ انبیاء اس روۓ زمین کے سب سے مقدس ہستی ہوتے ہیں مگر نادانوں نے ان پر زمین تنگ کردی -

  اسلام کی تعلیمات لے کر پیغمبر آخر الزماں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے- انسانوں کو اسلام کی دعوت دیا ،قران کا پیغام پہونچایا، انسانیت سکھلائی، غلط باتوں سے روکا تو معاندین اسلام کی ایک جماعت نے(جو اپنے اباؤ اجداد کے دین و مذہب کو حق گردانتاہے) اسلام کو نشانہ بنایا اور پیغمبر آخر الزماں کے ساتھیوں کو طرح طرح سے پریشان کیا ،ظلم و ستم کو روا رکھا ،ہر ناجائز کام میں حصہ لیا ،کتنی معصوم جانوں کو شہید کیا ، کتنے ہی صحابہ جاں بحق ہوئے اور جام شہادت نوش کیا ،یہ اسلام کی ایک لمبی داستان ہے،حتی کہ مسلمان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور وہ مکہ چھوڑ کر مدینہ آگیے، یہاں سکون سے رہنا چاہتے تھے؛ مگر انہوں نے مدینے میں بھی مسلمانوں کو سکون سے رہنے نہیں دیا تو مقابلہ آرائی شروع ہوگئی ، اسی کے نتیجے میں کتنے غزوات ہوۓ، یہود و نصاری اور کفار و مشرکین مل کر اسلام کو مغلوب کرنے کی کوشش کی، کتنی لڑائیاں لڑی گئیں ؛ مگر حق غالب ہونا تھا سو ہوا ، حق کا پیغام عام ہوا ،باطل مغلوب ہوا حتی جہ باطل مٹ گیا ـ

    قران کریم نے یہ واضح کر دیا کہ باطل چاہتا ہے اللہ کے نور کو اپنے پھونکوں سے بجھا دے اور اللہ اپنے نور کو مکمل کر کے رہے گا اگرچہ یہ بات منکرین کو ناگوار گزرے 
(سورہ توبہ )
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن 
پھونکوں سے یہ چراغ بھجایا نہ جاۓ گا

    اسلام کا پیغام لوگوں تک پہنچا عام ہوا کیوں کہ حق واضح ہوکر رہتا ہے -

 ہر زمانے میں اسلام کے خلاف معرکہ آرائی کی گئی ہے، اس کے خلاف جنگیں ہوئی، اسلام جسمانی حملے کے ساتھ فکری حملے ہمیشہ ہوۓ، مختلف طریقوں سے باطل کی یورش جاری رہی ،کبھی تلوار کے ذریعے، کبھی زبان وبیان کے ذریعے کبھی نظر وکفر کے غلط نظریے ذریعےانہیں روکنے کی کوشش کی گئی؛ لیکن اس کے ماننے والے روز بروز بڑھتے گئے ،یہود و نصاری کی گروہ تو پہلے سے ہی اسلام کے مخالف رہی ہےلیکن جب سے کفار اس کے ہم نوا ہوئے اور یہود و نصاری نے کھل کر ان کی مدد کی تو اسکے بھی پر نکل آۓ انہوں نے خود طرم خاں سمجھا اور یہ میدان میں محاذ آرائی کےلیے آگئی، منکرین کی یہ جماعت جو ہمارے ہند میں تخت نشیں وہ بھی برسر پیکار ہے اندیشہ یہ ہے کہ ہو نہ ہو انہی کی جماعت کا حصہ ہو جیسا کہ بچھڑے کے بارے میں سامری کےتعلق سے واقعہ قران میں موجود ہے وہ ان کی عبادت کرتے تھے، موجودہ مقتدر جماعت اور اس کے ہمنوا لوگ بھی اس کی عبادت کرتی ہے ،تو ہو نہ ہو کسی شکل میں یہ لوگ اس سے متعلق ہیں ،چونکہ وہ 12 قبیلوں میں سے دو قبیلے غائب ہوگیے تھے، جس کی تلاش اس وقت نہیں ہوسکی تھی، اس کے تحقیق نہ ہو سکی لیکن یہ بھی صورت ہو سکتی ہے کہ وہ جماعت اسی شکل میں موجود ہو، کیوں کہ فطرت وتہذیب میں یکسانیت کلی طور پر نہ بھی ہو مگر تقریباً کلیۃ پائی جاتی ہے-

بہرحال ! اگر موجودہ مقتدر گروہ اس قبیلے سے تعلق نہ رکھتا ہو تب بھی اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اسی کے مارگ (راستہ) پہ چل رہی ہے ، اسی کے نقوش پر عمل کر ہورہاہے 
ملک شام میں شیعوں نے اہل حق کو قتل کیا اور ان پر ظلم وجبر کیا ،حجاز کی سرزمین پر سلطنت عثمانیہ کو ختم کر کے اپنے ہم نواؤں اور ہم نوالوں کو وہاں بٹھایا تاکہ وہ اپنے منشا کے مطابق حجاز کی مقدس سرزمین پر کام کر سکے کچھ سالوں میں وہاں کے شاہی فیصلے یہودی فکر عکاسی کرتی ہے، پھر دیگر ممالک میں یہود و نصاری نے اپنا سکہ جمایا اور کوشش یہ کیا کہ ساری قوم ہمارے غلام بن جائے؛ لیکن اسلام نے غلامی کو کبھی قبول نہیں کیا اور ہمیشہ اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے ، بے یار و مددگار سہی بے اسباب سہی ؛لیکن وہ اس کے نظریے پر کبھی اتفاق نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے فلسطین کی زمین پر شورش برپا رہی ہے اور معاندین اسلام نے محبین نے اسلام کو ناحق قتل کیا ،ظلم و جبر کیا دار و رسن کو آباد کیا ،ان نفوس قدسیہ کے خون سے ان کی زمین سرخ کیا،بچوں کو یتیم اور ماؤں کی گود کو خالی کیا ،ایسے تشویشناک حالات میں بھی ہمارے وطن عزیز کے کچھ لوگوں نے ان کی جانوں پر ماتم کرنے کے بجائے جشن کرکے شیطانی کارندے ہونے کا ثبوت پیش کیا ،یہ ہونا بھا تھی کیوں کہ نور وظلمت علم وجہل،صالح و طالع کبھی بھی ایک دوسرے کے ہمدرد نہیں ہوسکتے-
 
 آج بھی یہ کوشش جاری ہے کہ دو اسلامی ممالک آپس میں متحارب ہوں، ان کے اختلافات و تنازعات بڑھے، یہی وجہ ہے کہ 57 اسلامی ممالک ہونے کے باوجود کبھی بھی یہ سربراہان مملکت مسلمانوں کے تحفظ و بقا کےلیے جمع نہیں ہوۓ اور ان علاقوں میں جہاں ان کے مسلمان بھائی کم تعداد میں ہے اور ان پر ظلم و ستم ہوتا ہے، اس کےلیے کھڑے نہیں ہوۓ، اندلس کا کیا حال ہوا؟ کیسے وہاں پہ مسلمانوں پر جبر کے پہاڑ توڑے گیے؟آٹھ سو سالہ حکمرانی کو کیسے کچھ ہی سالوں کی سازش تہس نہس کردیاگیا ، آج عبادت گاہیں بہت خاموش ہیں وہ چرچ گاہوں میں تبدیل کردیاگیا، وہ آج شیطانی چیلوں سے آباد ہے، مساجد ویران ہے، قرطبہ کی وہ شاندار بلند وبالاعمارت آج رو رو کے اپنی دہائی دے رہا ہے کہ ایک وقت تھا جب ذکر الہی کا مرکز اور یاد الہی کا محور تھی اور آج یہ ہے باغیان خدا کا مرکز ہوں -

موجودہ دور میں ہمارے وطن عزیز میں بھی آج وہی کچھ ہو رہا ہے جو اندلس میں ہوا کیسے وہاں پہ علماؤں کے خلاف محاذ آرائییاں کی گئی، یہاں بھی رسوا کرنے کی کوشش ہے، وہاں علماء سے متنفر کرنے کےلیے مختلف حیلوں سے زہر اگلےگئے ،وہ یہاں بھی ہورہاہے ،علماء اور امام کی موت کی خبر آۓ دن خبروں کی زینت بن رہی ہے، اسلام کے قانون پر اعتراضات کیے گئے اور اسلام کو ایک انسانیت سے دور مذہب قرار دے کر وہاں کے لوگوں کو باطل مذہب میں تبدیل کیا گیا،آج یہاں وہی ہورہاہے ،سیاسی شعور ختم کیا یہاں سیاسی وجود ختم ہونے کے آخری ڈگر پہ ہے،عبادت سے دور کرنے کےلیے وہاں کی مساجدوں کیا گیا تو یہاں قدیم مساجد صدیوں سے آباد ہے جھوٹی باتیں کرکے راتوں رات مساجد شہید کردیا گیا -

آج بھی وطن میں مخالفین اور معاندین کے ایک جماعت جو اسلام سے نفرت کرتی ہے اس نے اسلام کےقانون کو غلط بتانے کی کوشش کرتی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ اسلام ایک بےبنیاد مذہب ہے اور ہم جس مذہب کے ماننے والےہیں وہ ایک سچا مذہب ہے- حالانکہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے بلکہ معاملہ برعکس ہے، ایک غلط نظریے قائم ایک سانچہ ہے اور یہ بھی غلط فہمی پھیلا نے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اسلام 1400 سال پرانا مذہب ہے جو تلوار کی زور پر پھیلاہےحالانکہ یہ صحیح نہیں ہے-
 اسلام اس وقت سے ہے جب سے دنیا آباد ہے چونکہ پوری تاریخ اس کی روداد بیان کرتی ہے، اسی آڑ میں یہ بھی کہاجاتاہے اسلام جنگ چاہتا ہے اور تلوار کی زور پر پھیلا ہے اسکی بھی کوئی حقیقت نہیں جب آپ خود تاریخ پڑھیں گے تو معلوم ہوگا اسلام پر جنگ مسلط کیا گیا تو جنگ ہوئی ورنہ اسلام ہمیشہ امن کا پیغام دیتا ہے ، آج جب کہ ہرطرف مسلمان کمزور ہے پھر بھی اسلام پھیل رہاہے حالانکہ اگر دعویٰ صحیح ہوتاتو آج اسلام نہ پھیل رہا ہوتا،اسلام اپنی سچی تعلیمات ،حقوق انسانیت اور اچھے اخلاق سے پھیلتاہے-
ہمارے وطن عزیز میں آج اسلام پر اور مسلمانوں پر صرف جانی حملہ نہیں ہو رہا ہے بلکہ نظریاتی یورش بھی جاری ہے، جو مسلمان جو سادہ لوح ہیں جنہوں نے کچھ پڑھا نہیں ہے بس نام کے ساتھ مسلمان جڑا ہےاور مسلمانوں کے گھروں میں رہتے ہیں ان کے ذہنوں میں اسلام کے خلاف زہر ڈالا جا رہا ہے تاکہ وہ اسلام سے برگشتہ ہو جائے ،اس کے لیے آج کے زمانے میں ایک آسان حل نکالا گیا ہے وہ اس کی مختلف قسمیں ہیں اور اس کے لیے کئی تنظیمیں کام کررہی ہے ہیں 
جس کا مختصراً ذکر کیے دیتا ہوں 

 ایک گروہ تو وہ ہے جو متشدد ومتعصب ہے یہ دکھانے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ اپنے مذہب پر ہر طرح سے کاربند ہے مگر اس کے آۓ دن کی شکایت اس کی تردید کرتی ہے، وہ شکایت جو انسانیت کو شرمشار کرنے والی ہے ،وہ گروہ جو مختلف دعوے کرتی ہے خانۂ خدا میں صنم خانہ ڈھونڈتی ہے اور محض نفرت کی بنیاد خدا کے گھروں کو زمین دوز کررہی ہے،طرح طرح سے الزامات عائد کرتے ہیں وہ ہے -
اسی گروہ کے کچھ لوگ عوام الناس کو پریشان کرتی ہے،زد و کوب کرتی ہے،ان کے خلاف بیان بازی کرتی ہے ،ان کا قتل کرتی ہے،ان کو مختلف طریقوں سے پریشان کرتی ہیں ،مسلمانوں کو دیکھ کر ایک طرح سے تکلیف ہوتی ہے وہ اس پر کسی طرح کا بھی حملہ کرنے سے کبھی چکتے نہیں اور موقع ملتے ہی قتل کر دیتے ہیں یا پھر پریشان کرنے لگتے ہیں اگر دفاع کیاگیا تو بیچارے پر غدار اور جہادی کہا جاتاہے وہ اس لفظ وظاہری و باطنی معنی سے بھی واقف نہیں -
ایک گروہ وہ ہے جو مقتدر جماعت کا سرغنہ ہے اور وہ باہر تو امن وامان کا پیغام دیتی ہے ؛مگر وہ اپنے ہی وطن کے لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کرتی ہے اور تاریخی ورثے کو مخدوش کرنے کی مکمل کوشش کرتی ہے -
تیسرا وہ ہے جو ٹیلی ویژن پہ آباد ہے بیٹھ مسلمانوں زیر اگلنا اور مسلمانوں کے خلاف پروگرام کرتی ہے اسلامی قوانین پر اعتراضات کرتی ہے اور انہیں غلط بتانے کی کوشش کرتی ہے،اس کے خلاف فلمیں ،موویز بنائی جاتی ہے ، غلط پیغام غلط میسج دینے کی کوشش کرتی ہے اور علماء کرام کے خلاف بیانات دیتے ہیں انہیں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے اور ایسے حقیر اور ذلت آمیز الفاظ سے یاد کیے جاتا ہے جس سے لوگوں کے دلوں میں ان کے خلاف بدگمانی ہو اور دل میں نفرت پیدا کرلے

ایک گروہ تو وہ ہے جو دکھنے میں مسلمان ہے خود کو مسلمان بھی کرتے ہیں لیکن وہ اس میں ناکام ہیں کیوں کہ سچائی خریدے جاتے ہیں اور جھوٹ بیچے ہیں تو یہ لوگ جھوٹ بیچتے ہیں ، ہر حال میں باطل کے ساتھ کھڑے ہیں ان کا ساتھ دیتا ہے اور ہر بات میں مسلمانوں کے خلاف نظر اتا ہے اور ان کی حامی ہمیشہ کرتا ہے، ایک گروہ بین بین ہے وہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش کرتی ہے، تاکہ کچھ مراعات وعنایات حاصل ہوجاۓ پر انہیں رسوا ہونا پڑرہاہے،یہ تواپنے مذہب کے بھی خیر خواہ نہیں ہوئے بلکہ یہ اپنی کرسی، اپنا اقتدار چاہتے ہیں یا اس کے زیر اثر کام کرنے والے لوگ جن کا تذکرہ کیا گیا وہ اپنے اپنے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں اسی وجہ سے، انہیں عوام کی کوئی فکر نہیں ہمیشہ فساد مچانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ، آپ کن حالات سے گزر رہے ہیں ؟آپ کوکیا پریشانی ہے؟ آپ کو کن چیزوں کی ضرورت ہے ؟ اس سے کوئی مطلب نہیں -
تعلیمی حالت اس قدر ناگفتہ بہ ہے کہ ناقابل بیان ہے؟ لوگ جہالت میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ ان کے اندر اب تحقیق کا مادہ ختم ہوگیا ،بس جو انہوں نے ٹیلی ویژن پہ سن لیا، خبروں کے تعلق سے دیکھ لیا بس اسی پر اعتبار کر لیتے ہیں اور اسی کو حتمی فیصلہ مان کر اسی کو حق سمجھتے ہیں جو درست نہیں چونکہ دور ضمیر فروشی کا بھی ہے -
جو اداکاری پہلے کبھی تہذیب و ثقافت کا فروغ دینے کے لیے کی جاتی تھی آج وہ مذہب کا جامہ پہن کر اپنے نظریے کی نشر اشاعت میں لگی ہوئی ہے اور ایک طبقہ کو بد نام کرنے کی کوشش کرتی ہے-

حالیہ دنوں میں کچھ موویز ایسی نشر ہوئی ہے جو ایک طبقے کو نشانہ بناتی ہے اور سادہ لوح مسلمانوں کو یہ بتلانے کی کوشش کرتی کہ اسلام میں یہ چیزیں غلط ہے جو مسلمان نہیں ہے تو انہیں اسلام اور مسلمانوں سے نفرت دلانے کی کوشش کی جاتی ہے ،کچھ فلمیں جو آئی ہیں جن میں کیرلا اسٹوری اور حجاب اور بھی اس طرح کے دیگر موویز جو اسلام کو تشہیر کی جاتی ہے خود وطن عزیز کے ترجمان اعظم ایسے فلموں کو دیکھنے کی ترغیب دیتے ہیں ایسا بہت فارغ ہیں -
کچھ دن پہلےحلالہ نام سے ایک فلم منظرعام پہ آئی کچھ لوگ ایسے دیکھنے ٹکٹ اپنے پیسے دینے کی بات کررہے ہیں حالانکہ کمزوروں کی مدد نہیں کریں گے وہاں پہ ملے گی مگر اسے بددعا چاہیے اس فلم میں یہ بتلانے کی کوشش کی گئی کہ اسلام عورت پر ظلم کرتا ہے ،اسلام میں طلاق کا خیال صحیح نہیں ہے ، زندگی اجڑ جاتی ہے،اسلام میں زنا کاری کی دعوت ہے اور یہ بھی بتلانے کی کوشش کی گئی کہ کہ مسلمان اپنے آبا و اجداد کے نظریے پر قائم ہے اور جومذہب کے جاننے والے جو لوگ ہیں ، جوقرآن و حدیث کو جانتے ہیں ،جو علماء ہیں اگر اس کی زبان میں کہیں تو مولوی کچھ نہیں جانتے اور وہ حلال کو فروغ دینے کے لیے خود کو پیش کرتے ہیں اور اس کے خلاف زبان درازی کی جاتی ہے اور آخر میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ کیسے مولویوں نے حلالہ اپنے حق میں کر لیا ،اور وندے ماترم سے روکتے ہیں حالانکہ اس کی مذہب میں گنجائش ہے، یہ سب بتلانے کی کوشش کرتے علماء نے مسلمانوں کو بے وقوف بنارکھا ہے، یہ سب بددیانتی ،بدتہذیبی اور گمراہ کن بات ہے ،پھر اخیر ایک مسلمان لڑکی شادی ہندو لڑکی محبت کرادی جاتی ہے مذہب کی دیوار توڑ دی جاتی ہے یہ تو بنیادی اصول کے خلاف ہے، وہ لوگ جو کردار ادا کر رہے ہیں مسلمان نہیں ہے کہ جنہیں اسلام کا حقیقی علم ہو اور اس کے قوانین کو جاننے والا ہو جائز و ناجائز باتوں کا مکمل ادراک ہو ،وہ یہ بتلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ طلاق کی اسلام میں کوئی حقیقت نہیں، یہ مولویوں نے گھڑ رکھے ہیں حالانکہ یہ بنیادی بات عقلی اعتبار سے بھی رد نہیں کیا جا سکتا چہ جائے کہ دوسرے طریقے سے رد کیا جائے -

 طلاق قرآن کا مسئلہ ہے اس کی تفصیل احادیث میں بھی موجود ہے قران میں بھی اس کا تذکرہ ہے اور طلاق کب کیوں کیسے دیا جاۓ یہ سب پیغامات بالتفصیل موجود ہے 
بےجا طلاق دیا جائے تو اس کا کیا اثر ہوگا ؟ اگر طلاق دینے کے بعد شرمندگی ہو تو اس صورت میں کیا ہوگا ؟ یہ ہے کہ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق دیے ہیں وہ کسی اور مذہب نے نہیں دیے ہیں طلاق کا ضابطہ مقرر ہے طلاق کسے دے سکتے ہیں؟ کب دے سکتے ہیں ؟کن حالات میں دے سکتے ہیں؟ کتنا دے سکتے ہیں ؟ طلاق کی نوبت آنے سے پہلے کیا کیا جاۓ جس طلاق تک بات نہ پہونچے یہ سارے ضابطے ہیں اگر اس پر عمل کیا جاۓ تو مکمل طلاق تک نوبت نہ آۓ گی ؛لیکن اس حلالہ نامی فلم میں ان سب چیزوں کو نظر انداز کیا گیا اور علماء کو بدنام کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے، اس لیے میں یہ چاہتا ہوں کہ جو لوگ اسلام کے بارے میں نہیں جانتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ ٹیلی ویژن سے اسلام سمجھنے ،خود اس کا مطالعہ کریں، خود اس کو پڑھیں اور اس کے ہر پیغام کو عملی حکمت کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں اور یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اسلام میں حلالہ کو فروغ دینا صحیح نہیں ہے؛ بلکہ اگر کوئی اس شرط کے ساتھ نکاح کرے تو اس پر لعنت کئی گئی ہے، عورت کو آزادی ہے کہ اگر شوہر نےاسے طلاق دے دی وجہ جو بھی ہو دوسری شادی کرے اور خوش رہے پہلے شوہر کے پاس آنے کی ضرورت نہیں ہے-
اسی میں عورت کی عزت ہے، اگر عورت آنا ہی چاہتی ہے تو اس کے ضابطے ہیں کہ وہ عورت عدت پوری کرنے کے بعد دوسرے آدمی سے نکاح کرے ،وہ شوہر اپنی مرضی سے طلاق دے پھر عدت پوری کرکے پہلے شوہر سے نکاح کرے یہ غایت درجہ مجبوری کے وقت ہے، ورنہ ایک یا دو طلاق دینے کی صورت میں عورت کےعدت پوری کرنے سے پہلے شوہر کورجوع کا حکم ہے پھر اگر رجوع نہ کیا گیا اور عدت پوری ہوگئی تو وہ عورت بائنہ ہوگئی مطلب اب شوہر کو دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا دوسرے مرد نکاح کیے بغیر کوشش یہ ہے کہ گھر خراب نہ ہو 
یہ اسلامی ایک طریقہ ہے کہ اس سے دیگر مذاہب کے لوگوں کو کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے لیکن بعض لوگوں کو دوسرے مذاہب کے قوانین پر خلل اندازی کا شوق ہوتاہے اس لیے پوری عورتوں کا غم حالانکہ یہی لوگ عورت کی عزت کو داغدار کرنے پہل کرتے ہیں روزانہ ریپ کے کیس واضح ثبوت ہے بعض ریپ تین سالہ معصوم بچی کے ساتھ کرتے ہیں اور یہ تہذیب کی بات کرتے ہیں ،ایسے لوگوں کے منھ اس طرح باتیں اچھی نہیں لگتی -
حلالہ نامی فلم میں ان سب چیزوں کو چھپایا گیا اسلامی تہذیب مکمل نہیں دکھاگیا کیسے دکھاتے انہیں اسلام کے صاف شفاف آئنیے میں اپنا چہرہ داغدار لگتاہے تو انہوں نے یہ کوشش کی اسلام کے آئینے پر کالک پوت دیاجاۓ

  حلالہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر شوہر نے طلاق دیا تو فورا کسی کے پاس جائے اس سے ساتھ ہمبستری کرکے فورا پرانے شوہر کے پاس آجائے ایسا کچھ نہیں ہے، اس کی دوسرے مرد سے شادی ہوتی ہے اور اس کو یہ بتلایا نہیں جاتا کہ یہ حلالہ ہو رہا ہے اگر عورت کی مرضی ہے کہ وہ پہلے شوہر کے پاس آئے تو دوسرے مرد سے شادی کرنے کے بعدطلاق لے کر عدت پوری کرے پھر پہلے شوہر سے نکاح کرے جیساکہ اور اوپر ذکر کیاگیا اور یہ عورت کی بہتری کے لیے کیا جاتا ہے تاکہ شوہر کی غیرت کوٹھیس پہونچے اور دورباہ طلاق کا خیال ذہن میں نہ لاۓ؛لیکن اس کو غلط طریقے سے دکھایا گیا اور جن لوگوں نے بھی یہ مکر دکھانے کی کوشش کی ہے وہ صحیح نہیں کررہے ہیں بلکہ انہیں اسلام کے پیغام کو درست زاویے سے سمجھنے کی ضرورت ہے-

 جو آج کل کہا جاتا ہے نئی نسل بہت آگے بڑھ گئی ہے،عقل وشعور میں بہت آگے نکل گئی ہے، یہ صحیح نہیں ہے ان کی لیاقت اس قدر سطحی ہوگئی ہے وہ اپنے مذہبی احکام کے حکمت سمجھنے سے قاصر اس کی تفصیل پڑھنے سے عاجز ہے کیوں کہ یہ پڑھتی نہیں، دیکھتی ہے ،ضروری نہیں کہ جو آپ دیکھ رہے ہیں وہ حقیقت میں بھی ایسا ہی ہو اس لیے کہ یہ دور دجل اور تلبیسات کاہے یہاں مکر وفریب بیچے اور خریدے جاتے ہیں 
جب یہ نسل حقیقت شناس نہیں ہے تو دیکھا دیکھی مذہبی زنجیر کوتوڑنا چاہتی ہے تو یہ ہوشیار تو ہے مگر بے وقوف بھی ہے کیونکہ یہ قوم پڑھتی نہیں ہے بلکہ صرف جذبات میں آ کر ک غلط فیصلے لے کر مذہب سے کٹ جاتی ہے اور نتیجہ جو آتاہے یہ سب کے سامنے ہے کہ کچھ ہی مہینے یا سالوں میں وہ لڑکی تنہا رہ جاتی ہے یا پھر لاش یا زندہ لاش بن جاتی ہے ،آۓ دن کے واقعات اس کے شاہد ہیں، یہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے؛بلکہ مذہب ایک مارگ ہے جو لوگوں کو راہ دکھاتا ہے صحیح و غلط کی تمیز سکھاتا ہے-
اس لیے جن لوگوں نے یہ کیا ہے اور اس طرح کی موویز بناتے ہیں اداکار اداکارہ اور اس کے جو ڈائریکٹر ہیں یہ سب اس ملک کے لیے بلکہ کسی بھی مذہب کے لیے نقصان دہ ہیں ،منفی پیغامات سے پرہیز کرنا چاہیے ورنہ نقصان سب کا ہوگا چوں کہ انسان تلون مزاج ہوتے ہیں 
 لوگوں کواس سلسلے میں غور کرنا چاہیے اور اسلامی تاریخ کا مکمل طور پر مطالعہ کرنا چاہیے تب جا کر کے آپ کو پتہ چلے گا کہ اسلام کیا ہے ؟کیا دکھایا جاتاہے اور کیاہے ؟کیا حقیقت کیا افسانہ ہے ؟ ٹیلی ویژن پہ جو چلایا جاتا ہے وہ صحیح نہیں ہے وہ ہر اعتبار سے غلط ہے چونکہ آج دور جھوٹ کا ہے ،نفرت کا ہے برانگیختگی کا ہے، اشتعال انگیزی کا ہے،پھر بھی اعتماد کر لیتے ہیں یہاں آپ کے جذبات کا ننگا ناچ ہر کوئی دیکھتا ہے سب کو اپنی روٹی پکانی ہے-

یہ وطن عزیز جسے ہم اور آپ جمہوری ملک کہہ سکتے ہیں، کہتے ہیں سیکولر ملک بھی کہتے ہیں، قانون اور آئین بھی بظاہرسب کے لیے برابر ہے ؛لیکن آج تک اس پر کبھی عمل ہوا نہیں، ہمیشہ اس قانون کا سہارا لے کر مسلمانوں کو نشانہ بناکر ظلم و ستم کیا گیا، ان کے مذہب کو بدنام کیا گیا ،اکثریت کی بنیاد پر ان کی حمایت کی گئی ہے،ارکان حکومت بھی ایسے لوگوں کی ہم نوائی کرتی رہی ،امن وامان برقرار رکھنے میں مقتدر لوگ اب تک ناکام ہیں قانون کی بالادستی اب تک نہیں ہوسکی -
مسلمانوں سے اگر کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے فورا اس کو سزا دے دی جاتی ہے یا ان پر ایسے کاروائی کی جاتی ہے جیسا کہ وہ واحد مجرم ہو اور اگر اس کے بر خلاف کوئی دوسرا اس طرح کے کاموں میں ملوث ہو تو قانون کو خاموش کردیا جاتاہے اس پر خاطر خواہ کاروائی نہیں ہوتی ،وہ اس سے آزاد ہوتے ہیں -
 بس یہ سمجھتے ہیں کہ آج حکومت ہماری ہے ،ہمیشہ رہے گی ہم ہمیشہ وہ کچھ کرتے رہیں گے جو ہم چاہیں گے حالانکہ ایسا کبھی نہیں ہوا اور نہ ہوگا چونکہ دنیا عدم و جود کےتانے بانے سے بنا ہے اس کے ہر وجود کو عدم مستلزم ہے پر ہرعدم کو وجود مستلزم نہیں کیوں کہ تمام عدم کا علم ہمارے سامنے عدم ہے 
یہ دنیا ہے یہاں حالات بدلتے رہتے ہیں وقت بدلتا رہتا ہے لوگ بدلتے رہتے ہیں نظریات کا اختلاف رہتا ہے ،خدا کا بنایا ہوا یہ نظام ہے یہ کائنات بھی اسی کے زیر نگیں ہے اور اسی کے حکم سے سب کچھ چل رہا ہے تو وہ اپنا پیغام ہمیشہ برقرار رکھے گا اور قیامت تک اسلام کو روشن کرتا رہے گا اور اسلام مکمل طور سے ختم ہو جائے ایسا نہیں ہوگا احادیث اس پر واضح پیغام دیتا ہے اور قران کا پیغام اس سلسلے میں برملا ہے-
یہ سمجھ لیجیے کہ مسلمان اس وطن کے وفادار ہیں ،وطن عزیز سے محبت کرتے ہیں اور یہ فطرت ہے کسی کے فطرت پہ شک کرنا خود اپنے فطرت پہ شک کرنے کے مترادف ہے، جو چیز فطری ہوتی ہے اس کے ثبوت نہیں مانگے جاتے اور اگر کوئی ایسا شخص جو ملک مخالف ہو جس مذہب سے بھی اس کا تعلق ہو تحقیق کے ساتھ پر کاروائی ایسا نہ ہو آپ کا ہاتھ کسی مظلوم کے خون رنگین ہو
میری گزارش ہے کہ خود تحقیق کا مادہ پیدا کریں ہر صاحب معاملہ سے رجوع کیا جاۓ ،دوسروں پر بھروسہ کرنا مناسب نہیں چونکہ آج دور دجل ہے ،جو کسی کو بدنام کے فراق میں ہیں ان سے گزارش ہے وہ سچائی کے راستے پر چلیں، نہ خود غلط کریں ، نہ کسی کو غلط کرنے دیں ،امن سے رہیں امن کا پیغام دیں

ایک شکوہ کے ساتھ بات ختم کررہاہوں 

غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے 
کچھ ہم سے کہا ہوتا، کچھ ہم سے سنا ہوتا