مہندی کے نام پر پردے سے غفلت کیوں؟
🪶از:ح عائش✰
آج کل شادی بیاہ کے موقع پر ایک ایسا رواج عام ہوگیا ہے جس پر ہمیں ذرا سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔
عام دنوں میں بہت سی لڑکیاں اپنی تصاویر اسٹیٹس پر لگانے سے گریز کرتی ہیں، اپنے ہاتھ پاؤں بھی چھپا کر رکھتی ہیں، پردے کا اہتمام کرتی ہیں۔ لیکن جیسے ہی شادی کے دن قریب آتے ہیں، خاص طور پر مہندی کی رات، تو نہ جانے کیوں پردے کی وہ ساری احتیاط کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔
مہندی لگتی ہے تو تصویریں بننا شروع ہوجاتی ہیں۔
پھر کہنیوں تک کھلے ہوئے ہاتھوں کی تصویریں، جن پر مہندی لگی ہوتی ہے۔
کبھی انگلیوں کو نمایاں کرکے...
کبھی دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر...
اور بعض اوقات ٹخنوں تک کھلے ہوئے پاؤں کی تصویریں بھی اسٹیٹس کی زینت بن جاتی ہیں۔
پھر گھر کے ایک فرد کا اسٹیٹس:
"آج ہماری بہن کی مہندی ہے۔"
دوسرے کا:
"آج ہماری فلاں کی مہندی ہے۔"
پھر سہیلیاں، رشتہ دار اور جاننے والے بھی اپنی اپنی طرف سے تصویریں لگانا شروع کر دیتے ہیں۔
اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہی لڑکی کے مہندی لگے ہاتھوں اور پاؤں کی تصویریں نہ جانے کتنے لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں۔
ذرا ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیے.!
کیا واقعی سب کو یہ بتانا ضروری ہے کہ آج فلاں کی مہندی ہے؟
کیا یہ اعلان کرنے کے لیے اپنی وہ چیزیں بھی دکھانا ضروری ہیں جنہیں آپ عام دنوں میں غیر محرموں سے چھپا کر رکھتی ہیں؟
اور سب سے بڑھ کر
ذرا اس بات کو دل میں اتار کر سوچیے:
یہ مہندی آپ نے کس کے لیے لگائی ہے؟
اپنے آنے والے شوہر کے لیے...
لیکن کیا معلوم، آپ کے شوہر کے دیکھنے سے پہلے ہی نہ جانے کتنے غیر محرم مردوں کی نظریں آپ کے مہندی لگے ہاتھوں اور پاؤں پر پڑ چکی ہوں؟
آپ نے شاید تصویر صرف ایک بار اسٹیٹس پر لگائی ہو۔
لیکن آپ نہیں جانتیں کہ اسے کتنے لوگوں نے دیکھا، کس نے محفوظ کیا، کس نے آگے بھیجا اور وہ تصویر کہاں کہاں تک پہنچی۔
آپ کی نظر میں وہ صرف ایک "مہندی کی تصویر" ہے،
لیکن کسی غیر محرم کے لیے وہ آپ کے جسم کا وہ حصہ ہے جسے آپ نے عام دنوں میں چھپا کر رکھا تھا۔
پھر ذرا خود سے پوچھیں:
جس مہندی کو آپ اپنے شوہر کے لیے سجا رہی تھیں، کیا اسے اپنے شوہر سے پہلے اتنی غیر محرم نظروں کے حوالے کرنا واقعی ضروری تھا؟
بات مہندی کی نہیں ہے، بات حیا کی ہے۔
بات خوشی منانے کی نہیں، بات یہ ہے کہ خوشی کے موقع پر بھی اللہ کی حدود نہ ٹوٹیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ
"اور وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں۔"
(سورۃ النور: 31)
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"حیا ایمان کا حصہ ہے۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
تو پھر ہم اپنے آپ سے یہ سوال کیوں نہ کریں کہ:
اگر عام دنوں میں پردہ ضروری ہے تو شادی کے دن کیوں نہیں؟
اگر ہاتھ پاؤں چھپانے کا اہتمام عام دنوں میں ہے تو مہندی کے دن اسے ختم کیوں کر دیا جائے؟
اور ایک بات اکثر دل میں آتی ہے:
"میں نے تو اسٹیٹس سب سے ہائیڈ کیا ہوا ہے، بس فلاں دوست کو دکھایا ہے، وہ تو لڑکی ہے۔"
ارے میری بہن! آپ صحیح سوچ رہی ہیں کہ وہ دوست لڑکی ہے، لیکن کیا آپ کو یقین ہے کہ اس کا فون صرف وہی استعمال کرتی ہے؟
ہر لڑکی کا اپنا ذاتی فون نہیں ہوتا۔ ممکن ہے وہی موبائل اس کا بھائی استعمال کرتا ہو، والد استعمال کرتے ہوں یا گھر کا کوئی اور مرد WhatsApp کھول لے۔
اور اگر وہ آپ کا اسٹیٹس دیکھ لے اور اس میں آپ کے مہندی لگے ہوئے ہاتھ یا پاؤں نمایاں ہوں تو؟
ذرا سوچیے..!
آپ ایسی چیز ہی کیوں لگائیں جسے دیکھ کر بعد میں آپ کو خود شرمندگی محسوس ہو؟
صرف یہ سوچ لینا کہ "میں نے تو لڑکوں کو نہیں دکھایا" کافی نہیں، بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا وہ تصویر واقعی غیر محرم مردوں کی نظر سے محفوظ رہ سکے گی؟
اور گھر والوں سے بھی ایک بہت اہم گزارش ہے۔
آپ اپنی بیٹی یا بہن سے محبت کرتے ہیں، اس کی شادی کی خوشی آپ کی بھی خوشی ہے، لیکن محبت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی تصاویر ہر شخص تک پہنچا دی جائیں۔
اپنی بیٹی، بہن یا بہو کی مہندی کی ایسی تصاویر اسٹیٹس پر نہ لگائیں جنہیں غیر محرم دیکھ سکتے ہوں۔
خود اس کی تصاویر بنانا، پھر اسٹیٹس لگانا، پھر دوسروں کو بھی لگانے دینا۔
ذرا سوچیے، ہم کس چیز کو خوشی سمجھ رہے ہیں؟
اگر دلہن خود پہلے ہی کہہ دے:
"میری تصویر مت بنائیے، اور اگر یادگار کے لیے بن بھی گئی ہو تو اسے اپنے تک ہی رکھیے، براہِ کرم نہ اسٹیٹس پر لگائیے اور نہ ہی کسی دوسرے کو بھیجیے۔"
تو بہت سی خرابیاں وہیں ختم ہوسکتی ہیں۔
کیونکہ حقیقت بہت سادہ ہے:
تصویر بنے گی ہی نہیں تو اسٹیٹس کہاں سے لگے گا؟
اور بہنوں سے بھی محبت بھری گزارش ہے:
آپ کی شادی کا دن آپ کی زندگی کا خوبصورت ترین دن ہوسکتا ہے، مگر اسے خوبصورت بنانے کے لیے خود کو ہر نظر کے سامنے پیش کرنا ضروری نہیں۔
لوگوں کو معلوم نہ بھی ہو کہ
"آج فلاں کی مہندی ہے"
تو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
لیکن اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ لکھا جائے کہ:
"خوشی کے دن بھی اس نے اپنی حیا کی حفاظت کی"
تو اس سے بڑھ کر کامیابی اور کیا ہوگی؟
مہندی لگائیے، خوشی منائیے، خوب مسکرائیے، اپنوں کے ساتھ یادیں بنائیے۔۔
مگر اپنی حیا کو اسٹیٹس کی زینت نہ بنائیے۔
ہر خوبصورت چیز دنیا کو دکھانے کے لیے نہیں ہوتی۔
کچھ خوبصورت چیزیں اپنے شوہر کے لیے محفوظ رکھنے میں ہی ان کی اصل خوبصورتی ہے۔
خدارا..!!
شادی کی خوشی میں پردے کو نہ بھولیے۔
مہندی کی خوشی ضرور منائیے،
مگر حیا کی قیمت پر نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہماری بہنوں کو حیا، پردے اور اپنی رضا کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین