امام طحاوی نے لیث بن سعد سے روایت کی کہ میں امام صاحب کا ذکر سنتا تھا، تو مجھے امام صاحب کو دیکھنے کی تمنا ہوئی اچانک میں نے دیکھا کہ لوگ ایک شخص کے پاس لگائے ہوئے ہیں، میں ادھر متوجہ ہوا تو ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا اے ابو حنیفہ! میں سمجھ گیا کہ یہ وہی ابو حنیفہ ہے اس ادمی نے کہا کہ میں مالدار ادمی ہوں، میرا ایک لڑکا ہے، میں اس کی شادی کرتا ہوں اور بہت سارا مال خرچ کرتا ہوں، مگر وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے اور اس طرح میرا مال برباد ہو جاتا ہے، اس کی کوئی تدبیر ہے امام صاحب نے فورا فرمایا اس کو غلاموں کے بازار میں لے جاؤ، جب وہ کسی باندھے کو دیکھنے لگے کہ تم اس باندی کو اپنے لیے خرید کر اس کے ساتھ نکاح کرا دو، اگر وہ طلاق دے گا تو تمہاری ملک میں رہے گی اور اگر ازاد کرے گا تو اس کا علم جائز نہ ہوگا لیث بن سعد کہتے ہیں کہ خدا کی قسم! ان کا یہ صحیح اور برجستہ جواب دینا مجھے بہت پسند آیا
( تذکرۃالنعمان صفحہ:٢٤٤)