کوفہ کا ایک رافضی حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالی عنہ کے خلاف بکواس کرتا تھا، کبھی انھیں کافر کہتا اور کبھی یہودی, امام صاحب کوخبر ہوںٔی تو دفاع صحابہ میں تڑپ اٹھےاور جب تک اس سے ملاقات نہ کرلی بے چین رہے آخر اس رافضی کے پاس تشریف لے گںٔے اور بڑے ادب، محبت نرمی سے کہا! بھائی میں تیری لخت جگر(بیٹی) کے لیے فلاں صاحب کی طرف منگنی کا پیغام لایاہوں، اللہ تعالی نے ان صاحب کو حفظ قران کی دولت سے نوازا ہے ، ان کی تمام رات نوافل اور تلاوت قران میں گزرتی ہے، خدا کا خوف ہما وقت غالب رہتا ہے ، تقوی میں ان کی نظیر نہیں ، رافضی نے کہا بہت اچھا یہ تو میری لڑکی کے لیے نہیں ، بلکہ ہمارے پورے خاندان کے لیے سعادت ہے
امام صاحب نے فرمایا مگر اس میں ایک عیب ہے کہ مذہب یہودی ہے راوزی کا رنگ بدل گیا اور جھلا کر بولا کیا میں اپنی لڑکی کی شادی یہودی سے کر دوں! تب امام صاحب نے فرمایا بھائی آپ تو اپنی لخت جگر کو ایک یہودی کے نکاح میں دینے کو تیار نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نور دل کے دو ٹکڑے یعنی دو بیٹیاں حضرت عثمان جو آپ کے گمان میں یہودی تھا کو کس طرح دے دیا امام صاحب کا یہ ارشاد رافضی کی تنبیہ اور ہدایت کا باعث ہوا وہ اپنے کیے پر نادم اور پشیمان ہوا اور خلوص دل سے توبہ کر کے ہمیشہ کے لئے ایسی حرکتوں سے باز آگیا
عقودالجمان صفحہ (٢٧٣)