قسط نمبر ۳

*محدثِ ہند حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے مزار پر حاضری*

✍🏻 *محمد عادل ارریاوی*
28 ربیع الاول 1448ھ
______________________________

11 ستمبر 2026ء بروز جمعہ عصر سے قبل میری حاضری دہلی کے تاریخی مہدیان قبرستان میں ہوئی۔ یہ وہ مبارک قبرستان ہے جہاں برصغیر ہند کی بے شمار عظیم علمی دینی اور روحانی شخصیات آسودۂ خاک ہیں۔ یہاں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ان کے والد حضرت شاہ عبد الرحیم دہلوی ان کی والدہ محترمہ اہلِ خانہ اور سینکڑوں جلیل القدر علماء و محدثین مدفون ہیں۔

قبرستان میں داخل ہوتے ہی دل پر ایک عجیب روحانی کیفیت طاری ہوگئی۔ یوں محسوس ہوا جیسے تاریخ اسلامِ ہند کے وہ روشن ابواب میری آنکھوں کے سامنے زندہ ہو گئے ہوں جنہوں نے اس سرزمین کو علمِ نبوت کی روشنی سے منور کیا۔

سب سے پہلے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے مزارِ مبارک پر حاضر ہوا فاتحہ اور قرآن کریم کی چند سورتوں کی تلاوت کرکے ایصال ثواب کیا۔ پھر حضرت شاہ صاحب ان کے والدین اہل خاندان اور مہدیان قبرستان میں مدفون تمام علماء و صالحین کے لیے مغفرت بلندیٔ درجات اور رحمتِ الٰہی کی دعا کی۔ میرے نزدیک اپنے اکابر کے مزارات پر حاضر ہو کر ان کے لیے دعا کرنا صرف ایک فریضہ نہیں بلکہ اہل علم کی ایک عظیم ذمہ داری اور قلبی سعادت ہے۔ 

ویسے تو حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آپ کا اصل نام قطب الدین احمد اور مشہور لقب شاہ ولی اللہ ہے۔ آپ برصغیر کے وہ نابغۂ روزگار شخصیت ہیں جنہوں نے علمِ حدیث فقہ تفسیر اور اصلاح امت کے میدان میں ایسا انقلاب برپا کیا جس کے اثرات آج بھی پوری دنیا میں نمایاں ہیں۔

آپ کے والد حضرت شاہ عبد الرحیم دہلوی اپنے زمانے کے عظیم محدث و فقیہ تھے اور مدرسۂ رحیمیہ کے بانی بھی تھے۔ اسی علمی ماحول میں حضرت شاہ ولی اللہ کی تربیت ہوئی۔ بعد ازاں آپ حجازِ مقدس تشریف لے گئے جہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے اکابر محدثین سے حدیثِ نبوی کی اعلیٰ اسناد حاصل کیں۔ جب وطن واپس لوٹے تو ہندوستان میں علمِ حدیث کی تجدید کا ایسا مبارک سلسلہ شروع فرمایا کہ پورا برصغیر اس سے فیض یاب ہوا۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی سب سے نمایاں خدمت یہ ہے کہ برصغیر میں علمِ حدیث کی مضبوط سندی روایت کو عام کیا۔ آج ہندوستان، پاکستان بنگلہ دیش نیپال اور برصغیر کے دیگر علاقوں کے اکثر علماء کرام کی سندِ حدیث کسی نہ کسی واسطے سے حضرت شاہ صاحب تک پہنچتی ہے اور پھر یہی مبارک سلسلہ رسولِ اکرم حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے جا ملتا ہے۔

یہ نسبت ہم تمام علماء اور طلبۂ علومِ دینیہ کے لیے بہت بڑی سعادت ہے کہ ہمارے علمی سلسلے کی ایک مضبوط کڑی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں حدیث کی خوشبو جس انداز سے عام ہوئی اس میں حضرت شاہ صاحب کا احسان ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

حضرت شاہ ولی اللہ نے صرف کتابیں نہیں لکھیں بلکہ ایک ایسی علمی تحریک چھوڑ کر گئے جس نے آنے والی نسلوں کو نئی زندگی عطا کی۔ آپ کی تصنیفات افکار اور اصلاحی خدمات نے علماء کی ایسی جماعت تیار کی جس نے دینِ اسلام کی صحیح تعبیر اور سنتِ نبوی کی اشاعت کو اپنا مقصد بنایا۔

اسی مبارک خاندان سے آگے چل کر حضرت شاہ رفیع الدین دہلوی حضرت شاہ عبد القادر دہلوی حضرت شاہ اسماعیل شہید اور حضرت شاہ محمد اسحاق دہلوی جیسے جلیل القدر علماء پیدا ہوئے جنہوں نے برصغیر کی دینی و علمی روایت کو مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھایا۔ آج بھی مدارسِ اسلامیہ میں جو سندِ حدیث پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے اس کی روشن کڑی حضرت شاہ ولی اللہ سے وابستہ نظر آتی ہے۔

مہدیان قبرستان سے واپسی کے وقت دل بار بار یہی سوچ رہا تھا کہ اللہ ربّ العزت نے ہمیں کتنے عظیم اسلاف عطا فرمائے ہیں۔ اگر ہم ان کی کتابوں ان کے اخلاص ان کی سنت سے محبت اور علمِ حدیث کی خدمت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو یقیناً ہماری علمی و عملی زندگی میں ایک نئی روح پیدا ہو سکتی ہے۔

اللہ رب العزت حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ان کے والد حضرت شاہ عبد الرحیم دہلوی ان کے تمام اہلِ خاندان اور مہدیان قبرستان میں مدفون تمام اکابرینِ امت پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔