مفتی محمد اسجد صاحب بہٹوی
استاذ جامعہ مظاہر علوم سہارنپور
کائنات کے خاموش افق پر جب انسان تدبر کی نگاہ ڈالتا ہے تو اسے ذرّے ذرّے میں قدرتِ خداوندی کی جلوہ سامانیاں دکھائی دیتی ہیں۔ فلک کی وسعتیں، ستاروں کی کہکشائیں، سورج کی درخشانی، چاند کی لطافت، سمندروں کی گہرائیاں، ہواؤں کی سرگوشیاں، پہاڑوں کی ہیبت اور زمین کی رنگا رنگ نعمتیں—سب اپنے خالقِ حقیقی کی عظمت، حکمت اور ربوبیت کا اعلان کرتی محسوس ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذاتِ اقدس کو “ربُّ العالمین” کے عظیم الشان لقب سے متعارف فرمایا۔
لفظ “عالمین”، “عالَم” کی جمع ہے۔
“عالَم” کے معنی ہیں: نشان، کیونکہ کائنات کی ہر چیز اپنے خالق کی قدرت و وحدانیت کی نشانی ہے۔ اسی نسبت سے تمام مخلوقات کو “عالَم” کہا گیا۔ جب کہ “عالمین” سے مراد بے شمار جہان اور لاتعداد مخلوقات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے پیدا فرمایا۔
مفسرینِ کرام نے ان عوالم کی تعداد مختلف انداز سے بیان فرمائی ہے۔ علامہ وہب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
> لِلّٰہِ ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ أَلْفَ عَالَمٍ
“اللہ تعالیٰ کے اٹھارہ ہزار عالم ہیں۔”
(تفسیر روح البیان)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ عوالم کی تعداد چالیس ہزار ہے، اور یہ دنیا مشرق سے مغرب تک صرف ایک عالم ہے، اس کے علاوہ بے شمار جہان اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر ہیں۔
اسی طرح امامِ تفسیر حضرت مقاتل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عوالم کی تعداد اسی ہزار ہے، جن میں آسمان و زمین، چاند و سورج، سیارگانِ فلک، ہوا و فضا، فرشتے، جنات، انسان، حیوانات، نباتات اور جمادات؛ سب شامل ہیں۔
(معارف القرآن، ص: 81)
گویا یہ پوری کائنات ایک ایسا عظیم الشان دفترِ قدرت ہے جس کا ہر ورق ربِّ کائنات کی عظمت کا آئینہ دار ہے۔ مگر ان تمام مخلوقات میں اللہ تعالیٰ نے جس ہستی کو سب سے زیادہ شرف، عزت اور فضیلت عطا فرمائی، وہ انسان ہے۔ یہی وہ مخلوق ہے جسے تاجِ کرامت پہنایا گیا، اور جس کے بارے میں ربِّ کریم نے فرمایا:
> وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ
(سورۃ الإسراء: 70)
“اور بے شک ہم نے اولادِ آدم کو عزت و عظمت عطا فرمائی۔”
انسان اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا وہ شاہکار ہے جس کے لیے زمین کے خزانے کھول دیے گئے، سمندروں کو مسخر کر دیا گیا، فضاؤں کو رام کر دیا گیا، اور کائنات کی ہر چیز کو اس کی خدمت اور منفعت کے لیے پیدا فرمایا گیا۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
> هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا
(سورۃ البقرۃ: 29)
“وہی ذات ہے جس نے زمین کی تمام چیزوں کو تمہارے لیے پیدا فرمایا۔”
یہی حقیقت حدیثِ مبارکہ میں نہایت بلیغ انداز میں بیان ہوئی ہے۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ ایک صحابی کے واسطہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبۂ جمعہ میں یہ فرمایا کرتے تھے:
> فَإِنَّكُمْ خُلِقْتُمْ لِلْآخِرَةِ وَالدُّنْيَا خُلِقَتْ لَكُمْ
(شعب الإيمان للبيهقي، رقم: 10581)
“تمہیں آخرت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اور دنیا تمہارے لیے پیدا کی گئی ہے۔”
پس انسان اس کائنات کی ہر نعمت سے فائدہ اٹھاتا ہے؛ کبھی براہِ راست اور کبھی بالواسطہ۔ کبھی اس کی عقل ان حکمتوں تک رسائی حاصل کر لیتی ہے، اور کبھی قدرتِ الٰہی کے اسرار اس کی فہم سے ماورا رہتے ہیں۔ مگر قرآنِ کریم بار بار انسان کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ ان نعمتوں کے پیچھے کارفرما ربِّ کریم کو پہچانے، اور اپنی زندگی کو معرفتِ الٰہی سے منور کرے۔
پھر یہی انسان دو مختلف راہوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔
ایک وہ سعادت مند انسان جو کائنات کے منتشر اوراق میں اپنے ربّ کی معرفت تلاش کرتا ہے، نعمتوں کے سمندر میں ڈوب کر بھی منعمِ حقیقی کو فراموش نہیں کرتا، اور زمین و آسمان کی ہر نشانی میں قدرتِ خداوندی کا جلوہ دیکھ کر ایمان کی دولت سے مالا مال ہو جاتا ہے۔ یہی شخص شریعت کی اصطلاح میں مومن کہلاتا ہے۔
اور دوسرا وہ محروم انسان ہے جو انہی نشانیوں کو دیکھنے کے باوجود غفلت کی تاریکیوں میں بھٹکتا رہتا ہے؛ نعمتوں سے لطف اندوز تو ہوتا ہے مگر نعمت عطا کرنے والے ربّ کو بھول جاتا ہے۔ یہی شخص کافر کہلاتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ
(سورۃ التغابن: 2)
“وہی ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر تم میں کوئی کافر ہے اور کوئی مومن۔”
جب انسان ایمان کی دولت سے سرفراز ہو جاتا ہے تو پھر وہ محض ایک آزاد مخلوق نہیں رہتا، بلکہ احکامِ الٰہی کا پابند اور شریعتِ ربانی کا مخاطب بن جاتا ہے۔ اگرچہ قرآنِ کریم کی ہدایات تمام انسانوں کے لیے ہیں، مگر اوامر و نواہی کی اصل ذمہ داری اہلِ ایمان پر عائد کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں خواہشات اور جذبات رکھے ہیں، مگر اسلام نے ان خواہشات کو بے لگام نہیں چھوڑا۔ بلکہ ان کی تکمیل کے لیے ایسا پاکیزہ، مہذب، متوازن اور باوقار نظام عطا فرمایا جس میں انسان اپنی فطری ضروریات پوری کرتے ہوئے بھی عبادت، تقربِ الٰہی، پاکدامنی اور دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔
اسلام یہ نہیں چاہتا کہ انسان خواہشات کا اسیر بن کر حیوانیت کی وادیوں میں سرگرداں پھرے، جہاں چاہے، جیسے چاہے اور جس سے چاہے اپنی خواہش پوری کرتا رہے؛ بلکہ اسلام نے اس کے لیے عفت، محبت، سکون، وفاداری اور خاندانی استحکام پر مبنی ایک مستقل نظام قائم فرمایا، جسے نظامِ نکاح کہا جاتا ہے۔
نکاح محض ایک سماجی معاہدہ نہیں، بلکہ انسانی شرافت کی حفاظت، نسلِ انسانی کے بقا، قلبی سکون، روحانی پاکیزگی اور صالح معاشرے کی تعمیر کا مقدس ترین بندھن ہے۔ یہی وہ پاکیزہ رشتہ ہے جس کے ذریعے انسان اپنی فطری خواہشات کی تکمیل بھی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا و قرب بھی حاصل کرتا ہے۔
لہٰذا آئندہ صفحات میں اسی عظیم نظامِ نکاح کی شرعی حیثیت، حکمتیں، فضائل، مقاصد اور متعلقہ احکام پر قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی گفتگو پیش کی جائے گی۔
کن عورتوں سے نکاح حلال اور کن سے حرام؟
انسانی زندگی کی تعمیر میں جس قدر اہمیت عقائد و عبادات کو حاصل ہے، اسی درجہ معاشرت و معاملات کو بھی حاصل ہے؛ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک صالح اور پاکیزہ معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا ہے جب انسانی خواہشات کو حدودِ شریعت کا پابند بنا دیا جائے۔ اسلام چونکہ دینِ فطرت اور مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس لیے اس نے انسانی جذبات، نفسانی میلانات اور طبعی خواہشات کو نہ تو کلیتاً دبایا ہے اور نہ بے مہار آزادی عطا کی ہے، بلکہ ان کے لیے ایسا معتدل، پاکیزہ اور حکیمانہ نظام مرتب فرمایا ہے جس میں عفت بھی محفوظ رہے، نسل بھی باقی رہے، خاندان بھی مستحکم رہے اور روحانیت بھی مجروح نہ ہو۔
چنانچہ مرد و عورت کے باہمی تعلق کو محض شہوانی جذبے کی تسکین کا ذریعہ قرار نہیں دیا گیا، بلکہ اسے انسانی شرافت، خاندانی وقار اور معاشرتی پاکیزگی کی بنیاد بنایا گیا۔ اسی لیے شریعتِ اسلامیہ نے نکاح کو عبادت کا درجہ دے کر اس کے دائرے، حدود اور شرائط کو نہایت وضاحت اور دقتِ نظر کے ساتھ بیان فرمایا۔
فقہاءِ امت نے قرآن و سنت کی روشنی میں یہ اصول متعین فرمایا کہ اصل کے اعتبار سے عورت مرد کے لیے محلِّ نکاح ہے، البتہ بعض عورتیں ایسی ہیں جن سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام قرار دیا گیا، اور بعض سے وقتی طور پر۔ ان احکام میں جہاں شرعی مصالح پوشیدہ ہیں، وہیں انسانی فطرت، خاندانی نظام اور معاشرتی عفت کی حفاظت بھی مضمر ہے۔
*محرماتِ ابدیہ*
شریعت کی اصطلاح میں وہ عورتیں جن سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو، “محرماتِ ابدیہ” کہلاتی ہیں۔ ان سے حرمت کبھی زائل نہیں ہوتی، نہ زمانے کے بدلنے سے اور نہ کسی حال کے پیدا ہونے سے۔
قرآنِ کریم نے نہایت جامع انداز میں ان عورتوں کا ذکر فرمایا ہے:
> حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ
(سورۃ النساء: 23)
یعنی
“تم پر تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، بھتیجیاں اور بھانجیاں حرام کر دی گئی ہیں۔”
یہ سات عورتیں نسب کے اعتبار سے حرام ہیں، اور ان کی حرمت ابدی اور دائمی ہے۔
1۔ ماں، دادی اور نانی
ماں وہ مقدس ہستی ہے جس کے قدموں تلے جنت رکھی گئی۔ شریعت نے اس رشتے کے احترام کو اس درجہ بلند فرمایا کہ نہ صرف حقیقی ماں، بلکہ دادی، پردادی، نانی اور اوپر تک تمام اصول مرد پر حرام قرار دیے گئے۔
فقہی اصطلاح میں اسے اصول کہا جاتا ہے؛ یعنی وہ عورتیں جن کی طرف انسان کی ولادت کا سلسلہ اوپر کو منتهی ہو۔
2۔ بیٹی، پوتی اور نواسی
اسی طرح اپنی بیٹی، پوتی، پڑپوتی، نواسی اور نیچے تک جتنی نسل چلی جائے، سب عورتیں حرام ہیں۔
یہ سب فروع میں داخل ہیں؛ یعنی وہ عورتیں جو انسان سے پیدا ہونے والی نسل میں شمار ہوں۔
3۔ بہن
خواہ حقیقی بہن ہو، یا صرف باپ شریک جسے فقہ کی اصطلاح میں علاتی بہن کہتے ہیں، یا صرف ماں شریک جسے اخیافی بہن کہا جاتا ہے، ہر صورت میں اس سے نکاح حرام ہے۔
کیونکہ بہن کا رشتہ محبت، تعاون، شفقت اور خاندانی اعتماد کا مرکز ہے، اور شریعت نے اس تقدس کو ہمیشہ کے لیے محفوظ فرمایا۔
4۔ پھوپھی
پھوپھی درحقیقت باپ کے قائم مقام شفقت و محبت کا مظہر ہوتی ہے، اسی لیے شریعت نے باپ کی بہن کو بھی ہمیشہ کے لیے محرم قرار دیا، خواہ وہ حقیقی ہو یا کسی جہت سے رشتہ رکھتی ہو۔
5۔ خالہ
حدیثِ مبارکہ میں خالہ کو بمنزلۂ ماں قرار دیا گیا ہے:
> الخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الأُمِّ.
سنن الترمذی ۔ باب ما جاء في بر الخالة۔حدیث نمبر: 1904
اسی نسبتِ شفقت کی بنا پر خالہ سے نکاح بھی ہمیشہ کے لیے حرام قرار دیا گیا۔
6۔ بھتیجی
بھائی کی بیٹی، خواہ بھائی حقیقی ہو یا علاتی یا اخیافی، ہر صورت میں اس کی بیٹی سے نکاح جائز نہیں۔
کیونکہ یہ رشتہ نسبی احترام اور خاندانی طہارت کے منافی ہے۔
7۔ بھانجی
اسی طرح بہن کی بیٹی بھی ہمیشہ کے لیے حرام ہے، کیونکہ بہن کا جزو ہونے کی وجہ سے اس میں بھی وہی نسبی حرمت پائی جاتی ہے۔
المحرمات النسبی وھن الامہات والبنات والاخوات والعمات والخالاتو بنات الاخ و بنات الاخت (فتاویٰ ہندیہ ص 339. الباب الثالث فی المحرمات)
الدرالمختار علی رد المحتار باب المحرمات ج4, ص 100 زکریا
ان تمام رشتوں کی حرمت میں شریعت کی عظیم حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ خاندان کے اندر احترام، محبت، اعتماد اور پاکیزگی کے جذبات باقی رہیں، اور قریبی رشتے شہوانی میلانات کی آلودگی سے محفوظ رہیں۔ اگر ان حدود کو ختم کر دیا جائے تو خاندانی نظام درہم برہم ہو جائے، معاشرتی اعتماد مجروح ہو، اور انسانی شرافت حیوانی خواہشات کے سیلاب میں بہہ جائے۔
پس شریعتِ اسلامیہ نے جن رشتوں کو حرام قرار دیا، وہ محض ایک قانونی پابندی نہیں، بلکہ انسانی عظمت، خاندانی استحکام اور معاشرتی طہارت کے تحفظ کا ایک عظیم ربانی نظام ہے۔