محروم اساتذہ، زوالِ مدارس اور نبوی پیشین گوئی: منتظمین کے ضمیر پر دستک
دینی مدارس اسلام کے وہ مضبوط قلعے رہے ہیں جنہوں نے ہر دور میں دین کے چراغ کو روشن رکھا۔ لیکن آج مدارس کا وہ بنیادی ستون، جس کے دم سے یہ بزم قائم تھی—یعنی مدرسہ کا معلم اور استاذ—جس بے بسی، کسمپرسی اور معاشی جبر کے دہانے پر کھڑا ہے، اس نے ہمارے تعلیمی اور ملی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔
سنگ مرمر کی دیواریں اور سسکتا ہوا معلم
آج ہمارے مدارس کی فلک بوس عمارتیں، خوبصورت گنبد و مینار، چمکتے ہوئے سنگ مرمر کے فرش اور ائرکنڈیشنڈ دفاتر دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے، لیکن اسی عمارت کے ایک چھوٹے سے حجرے میں بیٹھ کر بخاری اور ہدایہ پڑھانے والے شیخ الحدیث اور مفتی کا مشاہرہ دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ پچیس اور تیس سال تک ایک ہی ادارے میں زندگیاں گھلا دینے والے مخلص اساتذہ آج بھی آٹھ، دس یا بارہ ہزار روپے پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ کیسا نظامِ عدل ہے جہاں اینٹ، گارے اور رنگ روغن کے لیے لاکھوں روپے کے فنڈز موجود ہیں، مگر جس استاد نے انسانوں کے اخلاق اور دین کی عمارت بنانی ہے، اس کے لیے ادارہ تہی دست نظر آتا ہے؟
"صبر اور توکل" کے نام پر معاشی استحصال
جب کوئی استاد جائز ضرورت اور مہنگائی کا واسطہ دے کر مشاہرے میں اضافے کی بات کرتا ہے، تو اکثر ناظمین کا روایتی جواب ہوتا ہے: "مولانا! یہ کارِ ثواب ہے، صبر اور اخلاص سے کام لیں، اللہ اجر دے گا۔" بلاشبہ دین کی خدمت عبادت ہے، لیکن کیا استاد کے بچے راشن، دوا، علاج اور کپڑوں کے محتاج نہیں؟ کیا دکاندار اور ڈاکٹر صبر کے بدلے سودا دیتے ہیں؟ اخلاص کی تمام تر پابندی صرف مفلوک الحال استاد پر کیوں لاگو ہوتی ہے، کیا ناظمین کے عالی شان سفر، مدرسے کے پرتعیش اخراجات اور بڑے بڑے سیمیناروں پر یہ اخلاص لاگو نہیں ہوتا؟
محرومی کا تلخ ردِ عمل: علماء کی بے وفائی یا بقا کی جنگ؟
اسی معاشی گھٹن کا نتیجہ ہے کہ آج باصلاحیت علماء کرام مدارس کی چہار دیواری کو خیرباد کہہ رہے ہیں۔ جنہوں نے قال اللہ اور قال الرسول کے موتی بکھیرنے تھے، آج وہ فکرِ معاش میں رنگ روغن (پینٹ) کے ڈبے اٹھائے نظر آتے ہیں، کوئی الیکٹرانک دکانوں پر وائرنگ کر رہا ہے تو کوئی پردیس جا کر معمولی نوکریوں کے دھکے کھا رہا ہے۔ المیہ دیکھیے کہ خود علماء کرام اب اپنے بچوں کو مکمل عالم بنانے کا رسک لینے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ اپنے لختِ جگر کو بنیادی دینی تعلیم اور حلال و حرام کی تمیز سکھا کر کالجوں اور دنیاوی یونیورسٹیوں میں داخل کروا رہے ہیں، تاکہ جو تذلیل اور فاقہ کشی انہوں نے دیکھی، ان کی اگلی نسل اس سے محفوظ رہ سکے۔
ادھورے نصاب اور ختم ہوتے فقہاء
نوجوان طلبہ کی ایک بڑی تعداد اب فراغت سے پہلے ہی مدرسہ چھوڑ رہی ہے۔ ان کی کھلی دلیل یہ ہے کہ "جب اٹھارہ سال پڑھ کر، مفتی اور محدث بن کر بھی دس بارہ ہزار روپے میں ہی ذلیل ہونا ہے، تو دس سال ضائع کرنے کی کیا ضرورت؟ ہم نے فرض علوم سیکھ لیے، حلال و حرام جان لیا، اب آگے پیٹ پالنے کے لیے ہنر سیکھیں گے۔" اس کا ہولناک نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ آج مدارس میں گہری اور دقیق کتابیں پڑھانے والے ماہر اساتذہ کا قحط پڑ چکا ہے، اور وہ دن دور نہیں جب محراب و منبر پر خطابت کے لیے ڈھنگ کا امام اور کتاب سمجھانے والا جید عالم تلاش کرنے سے نہیں ملے گا۔
رفعِ علم کی نبوی پیشین گوئی اور ہماری غفلت
رسول اللہ ﷺ کا وہ فرمان یاد رکھیے جس کا مفہوم ہے کہ: "اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ بندوں کے سینوں سے کھینچ لے، بلکہ علماء کے دنیا سے اٹھ جانے کے ذریعے علم کو اٹھا لے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنا لیں گے"۔
کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ علم کے اٹھنے کا کیا یہی راستہ تو نہیں بن رہا؟ جب آپ معاشی بدحالی سے جید اہل علم کو توڑ دیں گے، جب علماء قلم اور مسند چھوڑ کر دنیاوی مزدوری میں لگ جائیں گے، اور نئی نسل علمِ دین سے متنفر ہو کر معاش کے پیچھے بھاگے گی، تو مسندیں خود بخود خالی ہو جائیں گی۔ اس رفعِ علم کا وبال کس کے سر ہوگا؟
وقت کی ناگزیر پکار
مدارس کے اربابِ حل و عقد اور ناظمین کو خوابِ غفلت سے بیدار ہونا پڑے گا۔ اگر آپ واقعی دین کی بقا اور مدارس کا تحفظ چاہتے ہیں تو:
* تعمیراتی نمائش کو روک کر بجٹ کا بڑا حصہ اساتذہ کے معقول مشاہرے کے لیے مختص کریں۔
* اساتذہ کی تنخواہ کا ایک باقاعدہ معیار بنائیں جس میں ہر سال مہنگائی کے تناسب سے لازمی اضافہ ہو۔
* استاد کو "ملازمِ بے بس" نہیں بلکہ ادارے کا اصل معمار سمجھ کر اس کی عزتِ نفس بحال کریں۔
خدا کے لیے اس طبقے پر رحم کیجیے جو اپنی خودداری کے سبب خاموش ہے، مبادا کہ ان کا یہ ضبط ٹوٹے اور ملت کے پاس عالی شان عمارتیں تو باقی رہ جائیں، لیکن ان میں قال اللہ اور قال الرسول کی صدا لگانے والا کوئی مخلص باقی نہ بچے۔