`مفتی محمد ابراہیم غفاری`
مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ 
abzghifariedu@gmail.com

قوموں کی تاریخ میں بعض تاریخیں محض کیلنڈر کا حصہ نہیں ہوتیں؛ وہ آنے والی نسلوں کے ضمیر پر دستک دیتی رہتی ہیں۔ 1947ء بھی ہمارے لیے ایسی ہی ایک تاریخ ہے۔ اس کے ساتھ آزادی، تقسیم، ہجرت، قربانی، امید اور ایک نئے عہد کا آغاز وابستہ ہے۔ ایک ایسا عہد جس میں پرانے سیاسی نقشے بدل گئے تھے اور زندگی کے نئے امکانات سامنے آ رہے تھے۔

مگر آج، کئی دہائیوں کے فاصلے پر کھڑے ہوکر جب ہم اس سفر کو دیکھتے ہیں تو ایک سوال خاموشی سے ہمارے سامنے آ بیٹھتا ہے: *ہم نے تاریخ کو یاد تو رکھا، مگر اس کے بعد اپنی تاریخ کیوں نہ بنائی؟*
یہ سوال کسی ایک جماعت، حکومت یا طبقے سے نہیں؛ یہ سوال ہم سب سے ہے۔ اس کا مقصد ماضی کو رد کرنا بھی نہیں اور حال کی مشکلات سے انکار بھی نہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ ہم اپنے حصے کی ذمہ داری کو پہچانیں۔
کیونکہ قومیں صرف اس بات سے زندہ نہیں رہتیں کہ ان کا ماضی کتنا شاندار تھا؛ ان کی زندگی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس شاندار ماضی سے اپنے لیے کیا سبق اخذ کرتی ہیں اور آنے والے کل کے لیے کیا تعمیر کرتی ہیں۔

ماضی ہمارا سرمایہ ہے، منزل نہیں

ہماری تاریخ میں علم کے ایسے مراکز گزرے ہیں جہاں دور دور سے لوگ علم حاصل کرنے آتے تھے۔ ایسے اہلِ علم پیدا ہوئے جنہوں نے فقہ، حدیث، تفسیر، فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات اور ادب میں اپنی چھاپ چھوڑی۔ ایسے کردار سامنے آئے جنہوں نے نامساعد حالات میں بھی علم اور فکر کے چراغ روشن رکھے۔
اس ورثے پر فخر بجا ہے۔ لیکن ورثہ صرف فخر کے لیے نہیں ہوتا، ذمہ داری کے لیے بھی ہوتا ہے۔
اگر ہمارے بزرگوں نے کتابیں لکھیں تو ہمیں کتابیں پڑھنے کے ساتھ نئی کتابیں بھی لکھنی ہوں گی۔ اگر انہوں نے مدارس اور علمی مراکز قائم کیے تو ہمیں اپنے زمانے کی ضرورت کے مطابق ایسے ادارے کھڑے کرنے ہوں گے جو علم، تحقیق اور کردار کی نئی نسل تیار کریں۔ *صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ہمارے اسلاف بڑے تھے۔*
اصل سوال یہ ہے کہ ان کی عظمت نے ہماری زندگی میں کیا پیدا کیا؟

1947ء کے بعد اصل امتحان شروع ہوا

آزادی کے بعد ہمارے سامنے ایک نیا زمانہ تھا۔ اب سوال صرف بقا کا نہیں تھا؛ سوال تعمیر کا تھا۔ نئی دنیا تعلیم، سائنس، صنعت، معیشت، تحقیق اور ادارہ سازی کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔
یہ وہ مرحلہ تھا جب ہر قوم کو اپنے مستقبل کی بنیادیں مضبوط کرنا تھیں۔
ہم نے بھی سفر کیا، کامیابیاں بھی حاصل کیں، بہت سے لوگوں نے نام پیدا کیا، مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ اس حقیقت کو نظرانداز کرنا انصاف نہیں ہوگا۔
لیکن مجموعی تصویر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہماری اجتماعی صلاحیت اور ہماری اجتماعی پیش رفت کے درمیان اب بھی ایک بڑا فاصلہ موجود ہے۔ یہ فاصلہ صرف حالات نے پیدا نہیں کیا۔
اس میں ہماری اپنی ترجیحات بھی شامل ہیں۔
ہم نے اپنی توانائی کا بڑا حصہ ماضی کی بازیافت، باہمی اختلافات اور شکایات میں صرف کیا، جبکہ دنیا کے بڑے سوالات—تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی، معیشت، روزگار اور ادارہ سازی—ہم سے زیادہ سنجیدہ توجہ چاہتے تھے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ہم سے حساب مانگتی ہے۔

شکایت سے تعمیر تک

کسی قوم کے لیے اپنے مسائل کو پہچاننا ضروری ہے، لیکن ان کا ماتم کرتے رہنا کافی نہیں۔
شکایت انسان کو وقتی سکون دے سکتی ہے، تعمیر اسے طاقت دیتی ہے۔
اگر تعلیم کمزور ہے تو تعلیمی ادارہ بنانا ہوگا۔
اگر نوجوان بے سمت ہیں تو انہیں مقصد، تربیت اور مواقع دینے ہوں گے۔
اگر معاشی مشکلات ہیں تو ہنر، کاروبار اور روزگار کے راستے پیدا کرنے ہوں گے۔
اگر علمی کمزوری ہے تو مطالعہ، تحقیق اور تصنیف کو زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
یہی وہ ذہن ہے جو قوموں کو آگے لے جاتا ہے: کہ مسئلے پر انگلی رکھنے سے زیادہ حل کی بنیاد رکھنے کا ذہن۔
قرآن کا اصول نہایت واضح ہے:
إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ
تبدیلی کا آغاز باہر سے پہلے اندر سے ہوتا ہے۔ قوم کی حالت بدلنے کے لیے اس کے افراد کو اپنی ترجیحات، عادات اور اجتماعی رویوں میں تبدیلی لانا پڑتی ہے۔

تعلیم: مستقبل کی پہلی اینٹ

ہماری آئندہ تاریخ کا سب سے اہم باب تعلیم سے لکھا جائے گا۔
ایسی تعلیم جو انسان کو صرف امتحان پاس کرنے کے قابل نہ بنائے بلکہ اسے سوچنے، سوال کرنے، تحقیق کرنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت دے۔
ہمیں ایسے نوجوان چاہئیں جو اپنے دین سے واقف ہوں اور اپنے زمانے سے بھی؛ جن کے ہاتھ میں قرآن ہو تو دنیا کے علوم سے بے خبر نہ ہوں، اور جو جدید علم حاصل کریں تو اپنی اخلاقی بنیاد سے محروم نہ ہوجائیں۔

ہمیں ایسے علماء کی ضرورت ہے جو علمی روایت کے امین ہونے کے ساتھ عصرِ حاضر کے سوالات سے بھی واقف ہوں۔ ایسے اساتذہ جو نصاب ختم کرنے کے بجائے ذہن تعمیر کریں۔ ایسے ماہرین جو اپنے شعبوں میں صرف ملازمت کے امیدوار نہ رہیں بلکہ نئے امکانات پیدا کریں۔
*تعلیم کا مقصد صرف روزگار نہیں؛ انسان اور معاشرے کی تعمیر ہے۔*
یہی وجہ ہے کہ اگر ہم واقعی آنے والی نسل بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اس کے تعلیمی ماحول کو بدلنا ہوگا۔

افراد سے آگے، اداروں کی طرف

ہماری اجتماعی کمزوریوں میں ایک اہم کمزوری یہ بھی ہے کہ ہم شخصیات پر بہت کچھ قائم کر دیتے ہیں۔
ایک اچھا عالم ہو تو سب کچھ اسی کے گرد گھومنے لگتا ہے۔ ایک صاحبِ خیر ہو تو سارا منصوبہ اسی کی مدد کا محتاج ہوجاتا ہے۔ ایک باصلاحیت استاد ہو تو اس کے بعد نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔
قوموں کی پائیدار ترقی اس طریقے سے نہیں ہوتی۔
شخصیات راستہ دکھاتی ہیں، ادارے راستہ قائم رکھتے ہیں۔
ہمیں ایسے ادارے بنانے ہوں گے جو کسی ایک فرد کے ساتھ ختم نہ ہوں۔ ایسی درسگاہیں جو نسلوں کو تیار کریں، ایسے تحقیقی مراکز جو مسائل پر مستقل کام کریں، ایسی لائبریریاں جو مطالعے کی تہذیب پیدا کریں، ایسے رفاہی منصوبے جو محتاجی کم کرکے خودکفالت پیدا کریں۔
*ہمیں خیرات سے آگے بڑھ کر صلاحیت سازی کی طرف جانا ہوگا۔*
ایک بچے کو ایک دن کا کھانا دینا نیکی ہے؛ اسے ایسا ہنر دینا کہ وہ عمر بھر عزت سے کما سکے، اس سے بڑی اجتماعی خدمت ہے۔

نوجوان: انتظار نہیں، امکان

ہم اپنے نوجوانوں کے بارے میں اکثر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن نوجوان صرف ایک مسئلہ نہیں؛ وہ سب سے بڑا امکان بھی ہیں۔
ان کے پاس توانائی ہے، سیکھنے کی صلاحیت ہے، دنیا تک رسائی ہے، ٹیکنالوجی ہے اور خواب ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ان خوابوں کو سمت ملے۔
ہمیں نوجوان سے صرف یہ نہیں کہنا کہ وقت ضائع نہ کرو؛ اسے یہ بھی بتانا ہوگا کہ وقت کو کس مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔
اسے کتاب دینی ہوگی، استاد دینا ہوگا، میدان دینا ہوگا، رہنمائی دینی ہوگی اور ایسا ماحول دینا ہوگا جہاں محنت کا نتیجہ نظر آئے۔
*قومیں اس وقت بدلتی ہیں جب ان کے نوجوان تماشائی بننے کے بجائے کردار ادا کرنے لگتے ہیں۔*
اور شاید آج ہماری سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ نوجوان اپنے آپ کو حالات کا شکار سمجھنے کے بجائے اپنے عہد کا ذمہ دار انسان سمجھیں۔

تاریخ بنانے کے لیے بڑا منصب ضروری نہیں

تاریخ ہمیشہ بادشاہوں، فاتحوں اور حکمرانوں نے نہیں بنائی۔
ایک استاد جو اپنے شاگرد کے اندر علم کی محبت پیدا کردے، وہ بھی تاریخ بناتا ہے۔
ایک والدین جو اپنی اولاد کو کردار اور تعلیم دے دیں، وہ بھی آنے والے زمانے کی بنیاد رکھتے ہیں۔
ایک صاحبِ حیثیت شخص جو اپنی دولت کا حصہ مستقل تعلیمی منصوبے کے لیے وقف کردے، وہ بھی نسلوں کی زندگی بدل سکتا ہے۔
ایک طالب علم جو معمولی حالات کے باوجود علم کے لیے جدوجہد کرتا ہے، وہ بھی اپنے گھر اور معاشرے کی سمت بدل سکتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس اختیار کتنا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ جو اختیار، وقت، علم اور وسائل ہمارے پاس ہیں، ہم ان سے کیا بنا رہے ہیں؟
*ایک چراغ پورے شہر کو روشن نہ بھی کرے، اندھیرے کے خلاف اپنی گواہی ضرور دے سکتا ہے۔*

ہمیں اپنے بعد کیا چھوڑنا ہے؟

زندگی کا ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب انسان کو اپنے بارے میں کم اور اپنے بعد آنے والوں کے بارے میں زیادہ سوچنا چاہیے۔
ہم اپنے بچوں کے لیے جائیداد چھوڑنے کی فکر کرتے ہیں، اچھی بات ہے؛ مگر کیا ہم ان کے لیے علمی سرمایہ بھی چھوڑ رہے ہیں؟
ہم ان کے لیے گھر بناتے ہیں؛ کیا ایسے ادارے بھی بنا رہے ہیں جہاں ان کے بعد کی نسلیں علم حاصل کرسکیں؟
ہم اپنی نسل کو دنیا میں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں؛ کیا ہم اسے ایسی تربیت دے رہے ہیں کہ وہ دنیا میں مفید بھی ثابت ہو؟
یہی وہ مقام ہے جہاں زندگی ذاتی کامیابی سے نکل کر اجتماعی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
انسان اپنے لیے جیتا رہے تو اس کی زندگی ختم ہوجاتی ہے؛ لیکن اگر وہ کوئی ایسا کام چھوڑ جائے جو اس کے بعد بھی لوگوں کے کام آئے تو اس کی محنت زمانے کے اندر سانس لیتی رہتی ہے۔
اب سوال ہمارے سامنے ہے
1947ء کو گزرے ہوئے ایک طویل عرصہ ہوچکا ہے۔
اب نئی نسل کو ماضی کی داستانیں سنانے کا انداز بدلنا ہوگا۔
اسے صرف یہ نہیں بتانا کہ ہم کبھی کیا تھے؛ اسے یہ بتانا ہوگا کہ ہمیں اب کیا بننا ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کے ہاتھ میں صرف ورثے کی کتاب نہیں، مستقبل کا نقشہ بھی دینا ہوگا۔
ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف جذبات نہیں، علم دینا ہوگا؛ صرف نعرے نہیں، ہنر دینا ہوگا؛ صرف شکایت نہیں، ذمہ داری کا شعور دینا ہوگا۔
اور ہمیں اپنے آپ سے بھی ایک فیصلہ کن سوال پوچھنا ہوگا:
اگر آج سے پچاس سال بعد کوئی ہماری نسل کی طرف پلٹ کر دیکھے تو اسے کیا نظر آئے گا؟
کیا چند تقریریں؟
کچھ شکوے؟
کچھ یادیں؟
یا ایسے ادارے، ایسی کتابیں، ایسے کردار، ایسے علماء، ایسے ماہرین، ایسے معلمین اور ایسی نسل جو گواہی دے کہ اس دور کے لوگوں نے حالات کا انتظار نہیں کیا تھا؛ انہوں نے اپنے حصے کا کام کیا تھا۔

1947ء ہمارے ماضی کا ایک باب ہے۔

ہماری اصل ذمہ داری یہ ہے کہ 2047ء اور اس کے بعد کی تاریخ میں ہمارا بھی کوئی ایسا باب ہو جسے پڑھ کر آنے والی نسلیں صرف فخر نہ کریں، بلکہ راستہ بھی حاصل کریں۔
وقت ہمیں دعوت دے رہا ہے۔ *ماضی ہمارے پیچھے ہے، مستقبل ہمارے سامنے۔ اور تاریخ کا قلم ابھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔*
اب فیصلہ یہ نہیں کہ ہمارے بزرگوں نے کیا کیا؛ فیصلہ یہ ہے کہ ہم ان کے بعد کیا کرنے والے ہیں۔
شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والی نسل ہم سے مانگے گی۔
اور اس جواب کی تیاری کا وقت—
آج ہے۔