*علم، ہنر اور نکاح: عورت کے لیے اسلام کا متوازن راستہ*
ہمارے معاشرے میں ایک عجیب صورتِ حال عام ہوتی جارہی ہے۔ بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلائی جاتی ہے، اس کی قابلیت، ذہانت اور ڈگری کو اس کے رشتے کی خوبی بنایا جاتا ہے، نکاح کے وقت تقاضا بھی یہ آتا ہے کہ لڑکی پڑھی لکھی ہو، فلاں شعبے میں ماہر ہو، فلاں ہنر جانتی ہو؛ لیکن شادی کے بعد بعض اوقات یہی تعلیم اور صلاحیت اس کے لیے بوجھ بن جاتی ہے۔ جس علم کو نکاح سے پہلے خاندان کی عزت سمجھا جاتا تھا، نکاح کے بعد اسے بے فائدہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ جس لڑکی کے لیے کبھی کہا جاتا تھا کہ ’’ *ہماری بیٹی اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے‘‘،* شادی کے بعد اسی سے کہا جاتا ہے کہ *’’اب تمہیں ان چیزوں کی کیا ضرورت ہے؟‘‘*
یہ سوال محض عورت کے حصولِ علم یا ملازمت کا نہیں، بلکہ علم کے مصرف، صلاحیت کے احترام، بلکہ خاندانی اصول، ازدواجی حقوق پر بھی منحصر ہے۔
اسلام نے عورت کو علم سے محروم نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خواتین نے خود یہ احساس ظاہر کیا کہ مرد حضرات آپ ﷺ سے زیادہ استفادہ کر لیتے ہیں، اس لیے ہمارے لیے بھی ایک مخصوص دن مقرر فرما دیجیے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی بات قبول فرمائی اور ان کے لیے الگ وقت مقرر فرمایا جس میں آپ ﷺ انہیں تعلیم و نصیحت فرماتے تھے۔
یہ واقعہ صرف عورت کے دینی علم حاصل کرنے کی اجازت نہیں بتاتا بلکہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ صحابیات رضی اللہ عنہن اپنے علمی حق اور ضرورت کو سمجھتی تھیں، سوال کرتی تھیں اور اس کے لیے باقاعدہ مطالبہ بھی کرتی تھیں۔
اسی طرح ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا علمی مقام تو اسلامی تاریخ کا روشن باب ہے۔ بڑے بڑے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ان سے مسائل دریافت کرتے تھے۔ حضرت ام سلمہ کی فقہی روایات پر مستقل ایک رسالہ تیار کیا جاسکتا ہے۔
اسکے علاوہ خواتین بھی اپنے مخصوص مسائل پوچھنے میں جھجھکتی نہیں تھیں۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک نہایت حساس مسئلہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا اور آپ ﷺ نے اس کا جواب دیا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے عورت کی علمی شخصیت کو کسی رشتے میں لاکر ختم نہیں کیا۔
یہاں ایک بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عورت کی تعلیم اور صلاحیت کو صرف ’’نوکری‘‘ کے ساتھ وابستہ کرنا درست نہیں۔ ایک عالمہ اپنے علم سے خواتین کی تعلیم و اصلاح کرسکتی ہے، لیڈی ڈاکٹر خواتین کے علاج کا ذریعہ بن سکتی ہے، ایک استاد بچیوں کو پڑھا سکتی ہے، ٹیکنالوجی کے استعمال میں ماہر خاتون گھر بیٹھ کر جائز کام کرسکتی ہے، ایک ہنرمند عورت سلائی، ڈیزائننگ، تحریر، ترجمہ یا دوسرے جائز کام کرسکتی ہے۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ *’’علم و ہنر سیکھنے کے بعد عورت کو کمانا چاہیے یا نہیں؟‘‘* بلکہ یہ ہے کہ اس کی صلاحیت کو کس طریقے سے، کس مقصد کے لیے اور کن شرعی حدود کے اندر استعمال کیا جاسکتا ہے؟
رسول اللہ ﷺ کے عہد میں بھی خواتین نے ضرورت اور مصلحت کے مطابق مختلف خدمات انجام دیں۔ صحیح مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا اور بعض انصاری خواتین غزوات میں ساتھ جاتیں، عام صحابیت پانی پلاتیں، سپاہیوں کے لیے کھانا بناتی، جبکہ علم طب میں ماہر صحابیات زخمیوں کا علاج کرتی تھیں۔ اور عقل و تجربہ رکھنے والی صحابیات جنگی تدبیریں بنانے میں مرد حضرات کو صلح و مشورے دیتی تھی، نبی اور صحابہ کرام اس پر عمل بھی فرماتے تھے۔ تیر اور تلوار چلانے والی خواتین میدان جنگ میں اتر کا دشمن کا مقابلہ بھی کرتی تھی ، حضرت ام عمارہ نے جنگ احد میں جس طرح سے مقابلہ کیا وہ تاریخ کا روشن باب ہے ۔
لیکن یہ مثال اس بات کی دلیل نہیں کہ ہر عورت ہر قسم کا کام بلا قید کرسکتی ہے؛ بلکہ یہ ضرور بتاتی ہے کہ عورت کا گھر سے باہر کسی مفید خدمت میں حصہ لینا بذاتِ خود ایسا تصور نہیں جسے اسلام نے ہر صورت میں ممنوع قرار دیا ہو۔ *اصل مسئلہ کام کی نوعیت، شرعی حدود، ضرورت، ماحول خاندانی اصول اور ازدواجی حقوق کا ہے* ۔
*شادی عورت کی شخصیت کا اختتام نہیں*
نکاح کے بعد عورت بیٹی سے بیوی بنتی ہے،بیوی سے ماں بنتی ہے، گھر کے نظام میں شریک ہوتی ہے؛ لیکن اس سفر میں اسکے علم و فن اور ہنر کی شخصیت ختم نہیں ہوجاتی ہے۔
البتہ شادی کے بعد زندگی کی ترجیحات ضرور بدل سکتی ہیں۔ اگر کسی عورت کے بچے چھوٹے ہیں اور انہیں اس کی مکمل توجہ درکار ہے، اگر اس کا کام گھر کے بنیادی حقوق کو متاثر کررہا ہے، اگر ماحول شرعی حدود کے خلاف ہے، یا اس کی مصروفیت سے شوہر کے واجب حقوق متاثر ہوتے ہیں تو اس صورتِ حال کا ازسرِنو جائزہ ضروری ہوگا۔
لیکن اس کے برعکس اگر عورت گھر کے بنیادی فرائض اور خاندانی ذمہ داریوں کو مناسب طور پر ادا کررہی ہے، اور اس کے پاس ایسا علم یا ہنر ہے جسے وہ کسی جائز، محفوظ اور باوقار طریقے سے استعمال کرسکتی ہے، تو محض اس وجہ سے کہ ’’اب تم شادی شدہ ہو‘‘ اس کی ہر صلاحیت کو ختم کردینا ایک متوازن رویہ نہیں۔
اسلام نہ یہ کہتا ہے کہ عورت ہر حال میں گھر سے باہر نکل کر ملازمت کرے، اور نہ یہ کہ عورت کی تعلیم شادی کے بعد کسی کام کی نہیں رہتی۔
*شوہر کی اجازت*
یہاں شرعی حکم کو جذبات سے الگ کرکے سمجھنا ضروری ہے۔ فقہِ حنفی میں عورت کا گھر سے باہر جاکر ملازمت کرنا شوہر کے حقوق سے متعلق ہے، اس لیے شوہر کی اجازت کا مسئلہ معتبر ہے۔ دارالافتاء دارالعلوم دیوبند نے بھی لکھا ہے کہ عام حالات میں عورت کو باہر جاکر ملازمت نہیں کرنی چاہیے، البتہ ضرورت کی صورت میں شرعی پردے اور دیگر شرائط کے ساتھ کام کی گنجائش ہے، اور اگر کام کے لیے گھر سے نکلنا ہو تو شوہر کی اجازت ضروری ہے۔
اسی طرح دارالعلوم دیوبند کے فتاویٰ میں شرعی پردے اور غیر محرم مردوں کے ساتھ غیر ضروری اختلاط سے بچنے کی تاکید کے ساتھ ملازمت کی بعض صورتوں کو بالکل جائز قرار دیا گیا ہے۔
لہٰذا اگر عورت ایسی ملازمت کرنا چاہتی ہے جس کے لیے اسے گھر سے نکلنا پڑتا ہے اور شوہر اس پر راضی نہیں، تو چھپ کر ملازمت شروع کرنا مسئلے کا درست حل نہیں۔ راز داری، دھوکا اور ازدواجی اعتماد کو نقصان پہنچانا کسی اچھے مقصد کو بھی درست طریقے سے حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
لیکن یہاں ایک دوسری زیادتی سے بھی بچنا ضروری ہے: شوہر اپنے حقِ اجازت کو اس معنی میں نہ لے کہ وہ بیوی کی ہر علمی، فکری یا ذاتی صلاحیت پر بلا وجہ مکمل قبضہ کرلے۔ شوہر کے حقوق اپنی جگہ ہیں، اور بیوی کی انسانی شخصیت اور مالی ملکیت اپنی جگہ۔
آج کے دور میں کام کا مطلب لازماً دفتر جانا نہیں رہا۔ ایک معلمہ اپنے گھر کے ایک کمرے میں بچیوں کو پڑھا سکتی ہے۔ ایک عالمہ آن لائن قرآن و حدیث پڑھا سکتی ہے۔ ایک خاتون گھر بیٹھ کر تحریر، ترجمہ، ڈیزائننگ، کمپیوٹر یا مصنوعی ذہانت سے متعلق جائز کام سیکھ اور کرسکتی ہے۔ ایک خاتون ڈاکٹر مناسب شرعی، قانونی اور طبی تقاضوں کے تحت خواتین کے لیے خدمات فراہم کرسکتی ہے۔
اسلیے شوہر یا والد کو اگر بیوی، بیٹی ، بہن کا گھر کے باہر کام نکلنا پسند نہیں تو وہ گھر کا ایک کمرہ خواتین کیلیے مختص کردے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو فروغ میں لاسکے۔
*اہم بات* آن لائن ہونے کی وجہ سے ہر کام خود بخود جائز یا ناجائز نہیں ہوجاتا۔ انٹرنیٹ ایک ذریعہ ہے؛ اس کا حکم اس بات سے متعلق ہوگا کہ اسے کس کام کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، کس قسم کے لوگوں سے رابطہ ہے، گفتگو کی نوعیت کیا ہے، پردے اور حیا کی رعایت ہے یا نہیں، اور کیا اس کے نتیجے میں والدین ، شوہر، بچوں یا گھر کے ضروری حقوق متاثر ہورہے ہیں۔
جس طرح بازار بذاتِ خود نہ حلال ہے نہ حرام، اسی طرح انٹرنیٹ بھی بذاتِ خود نہ ’’فتنہ‘‘ ہے نہ عبادت؛ اس کا استعمال اسے جائز یا ناجائز بناتا ہے۔
*عورت کی کمائی عورت ہی کی ہے*
ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ شادی کے بعد بیوی جو کچھ کمائے، وہ خود بخود شوہر کی ملکیت بن جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔
قرآن مجید فرماتا ہے:
لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ
یعنی مردوں کے لیے ان کی کمائی میں حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کی کمائی میں حصہ ہے۔
(النساء: 32)
چنانچہ عورت کی اپنی جائز آمدنی پر اس کی ملکیت باقی رہتی ہے۔ شوہر صرف اس وجہ سے اس کا مالک نہیں ہوجاتا کہ وہ اس کا شوہر ہے۔ دارالافتاء کے فتاویٰ میں بھی یہی اصول بیان کیا گیا ہے کہ بیوی مالی اعتبار سے مستقل حیثیت رکھتی ہے اور اس کی آمدنی پر شوہر کا خود بخود حقِ ملکیت نہیں بنتا۔
اگر عورت اپنی خوشی سے شوہر کی مدد کرے، گھر کے اخراجات میں حصہ ڈالے، بچوں کی تعلیم پر خرچ کرے یا شوہر کی کسی ضرورت میں اپنی رقم استعمال کرے تو یہ تعاون، محبت،احسان اور ایثار ہے؛ اسے اس بنیاد پر لازم نہیں کیا جاسکتا کہ ’’تمہیں کمانے کی اجازت دی ہے تو خرچ بھی کرنا ہوگا۔‘‘
اسی طرح اگر شوہر، باپ، بھائی کم آمدنی والا ہے مگر اپنی استطاعت کے مطابق محنت کررہا ہے، اور گھر کی خواتین کا رضاکارانہ تعاون ایک خوب صورت شراکت بن سکتا ہے۔ مرد کی عزت اس بات میں نہیں کہ وہ خواتین کو ہر حال میں کمانے سے روکے، اور عورت کی عزت بھی اس بات میں نہیں کہ وہ اپنی آمدنی کی وجہ سے گھر کے مرد حضرات کو کمتر سمجھنے لگے۔
اصل عزت تقویٰ، کردار، ذمہ داری اور باہمی احترام میں ہے۔
*معاشرے کا تضاد*
ہمارے معاشرے میں ایک قابلِ غور تضاد بھی پایا جاتا ہے۔ بعض مرد کہتے ہیں کہ ہمیں ایسی بیوی چاہیے جو پڑھی لکھی ہو، بچوں کی تعلیم اچھی طرح کرسکے، ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر سے بہتر طبی سمجھ رکھتی ہو، گھر کے معاملات سمجھ سکے، انگریزی اور کمپیوٹر جانتی ہو؛ لیکن جب وہی عورت کہتی ہے کہ میں اپنی تعلیم کو آگے بڑھانا چاہتی ہوں، تدریس کرنا چاہتی ہوں یا خواتین کے لیے ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں تو جواب آتا ہے: *’’شادی کے بعد ان چیزوں کی کیا ضرورت ہے؟‘‘*
اسی طرح بہت سارے لوگ اپنی بیٹی، بیوی، بہن کی تعلیم کیلیے ایسے مراکز ڈھونڈتے ہیں ، جہاں درس و تدریس کی خدمات معلمات انجام دیں۔
یا بیماری کی صورت میں خواتین کیلیے لیڈی ڈاکٹر لازمی تلاش کی جاتی ہے، تاکہ بے پردگی نہ ہو یا جو بھی وجہ ہو، اور یہ درست بھی ہے۔
لیکن سوال یہ ہیکہ یہ لیڈی ڈاکٹرز، معلمات، کہاں سے دستیاب ہونگی؟
*یہ سوچ غور طلب ہے۔*
اگر معاشرے کو خواتین ڈاکٹرز، خواتین معلمات، خواتین عالمات اور خواتین ماہرین کی ضرورت ہے تو یہ شعبے صرف ’’دوسروں کی بیٹیوں‘‘ کے لیے کیوں ہوں؟ اپنی بیٹیوں اور بیویوں کی صلاحیتوں کو بھی اسی احترام کے ساتھ کیوں نہ دیکھا جایے؟
*ازدواجی زندگی میں مسائل*
سب سے بڑا مسئلہ اکثر شادی کے بعد پیدا نہیں ہوتا؛ وہ شادی سے پہلے واضح نہ کیے جانے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔
ایک لڑکی برسوں تعلیم حاصل کرتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ وہ اپنی علم و ہنر کی صلاحیت استعمال کرنا چاہتی ہے۔ دوسری طرف ایک مرد بنیادی طور پر ایسا شوہر بننا چاہتا ہے جس کی بیوی گھر سے باہر کام نہ کرے۔
یہ دونوں اپنی اپنی جگہ غلط نہیں، لیکن اگر دونوں کی بنیادی ترجیحات متضاد ہیں تو صرف یہ سوچ کر نکاح نہیں کرنا چاہیے کہ ’’شادی کے بعد اسے بدل دیں گے۔‘‘
نکاح زندگی بھر کی رفاقت ہے، تربیتی تجربہ نہیں کہ ایک فریق دوسرے کی شخصیت کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالتا رہے۔
نکاح سے پہلے ان مسائل پر غور کرنا چاہیے۔ لڑکی اور لڑکے والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد سے واضح طور پر معلوم کرلے کہ بطورِ شریکِ حیات وہ اپنے ہمسفر کی کن چیزوں کو قبول کرسکتے ہیں، کن پر وقتِ ضرورت کمپرومائز کرسکتے ہیں، کونسی چیزیں بالکل ناقابلِ قبول ہوگی۔یہ گفتگو بدگمانی نہیں بلکہ آئندہ اختلاف سے بچنے کی حکمت ہے۔
اگر کسی مرد کو بنیادی طور پر یہ پسند نہیں کہ اس کی بیوی گھریلو امور کے علاوہ کسی بھی معاملے میں آگے بڑھے تو وہ اپنے رشتہ ایسی ہی کم پڑھی لکھی خواتین میں لے جائے۔ خصوصا ڈاکٹر، انجینئر، معلمہ، یا کسی بھی فن کی ماہر خواتین میں اپنے رشتے نہ پیش کریں کیونکہ کبھی نہ کبھی یہ اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرنا چاہے گی۔
اسی طرح اگر کوئی عورت اپنے کیریئر یا تعلیم کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ سمجھتی ہے تو اسے بھی یہ بات چھپانی نہیں چاہیے۔
بعض دفعہ نکاح کے وقت کوئی خاتون واقعی صرف گھریلو ذمہ داریاں ادا کرنی چاہتی ہے، اسے اپنی علم و فن کے میدان سے کؤیی دلچسپی نہیں ہوتی، لیکن نکاح کے بعد کبھی خالی وقت کی وجہ سے ذہن اس طرف جاتا ہے یا گھریلو معاشی حالات یا اولاد کو اعلی تعلیم دلانے کا خواب عورت کو ان معاملات میں سونچنے پر مجبور کرتا ہے ، تو ایسے وقت آپسی مشورے سے گھریلو حالات کو پیش نظر رکھ کر مشورہ کرنا چاہیے نہ کہ اپنے اپنے فیصلوں پر اڑ جانا چاہیے۔
کیونکہ جو حالات نکاح کے وقت ہو وہی بعد میں بھی رہے یہ ممکن نہیں ۔
اسلیے تعلیمی مطابقت کے ساتھ ساتھ ذہنی مطابقت دیکھ لینا ضروری ہے۔
یہ مضمون عورت کو صرف اپنے حقوق یاد دلانے کے لیے نہیں۔ شوہر پر بھی شریعت نے ذمہ داریاں رکھی ہیں۔ بیوی کا نان نفقہ بنیادی طور پر شوہر کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے کسی عورت کو اس بنیاد پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ ’’تم بھی کماؤ، ورنہ گھر نہیں چلے گا‘‘ جبکہ شوہر اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی قدرت رکھتا ہو۔
البتہ اگر مرد واقعی کم آمدنی رکھتا ہے، پوری کوشش کررہا ہے اور گھر کے حالات مشکل ہیں، اور گھر کی خواتین اپنی مرضی سے مناسب حدود میں اس کا ساتھ دینا چاہتی ہے، تو اس تعاون کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنا بھی درست نہیں۔
گھر میں مرد اور خواتین اگر ایک دوسرے کے حریف بن جائیں تو گھر میدانِ مقابلہ بن جاتا ہے؛ اور اگر ایک دوسرے کے معاون بنیں تو سکون کے ساتھ گزاری جاسکتی ہے۔
اگر کسی عورت کی اپنی جائز آمدنی یا ذاتی مال ہے اور وہ اپنی کسی جائز ضرورت یا خواہش کو پورا کرنا چاہتی ہے تو صرف شادی ہوجانے سے اس کا مال شوہر کی ملکیت نہیں ہوجاتا۔
ہاں، اگر اس خواہش کے حصول کا طریقہ ایسا ہے جس کے لیے گھریلو کام متاثر ہوسکتے ہیں، گھر سے باہر نکلنا لازم ہو اور اجازت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہو، تو اس کے لیے شرعی احکام الگ سے دیکھے جائیں گے۔
یعنی مال کی ملکیت اور مال کمانے کے طریقے کو ایک مسئلہ نہ سمجھا جائے۔
عورت اپنے مال کی مالک ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ گھریلو واجب حقوق کو نظر انداز کرسکتی ہے۔ اسی طرح مرد حضرات کا اجازت کا حق معتبر ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ گھر کی خواتین کا مال خود بخود اس کی ملکیت بن گیا۔
یہی توازن اسلامی نظام کی خوب صورتی ہے۔
اصل مطلوب یہ نہیں کہ ہر تعلیم یافتہ عورت لازماً ملازمت کرے۔ بعض خواتین کے لیے گھر، شوہر، اولاد اور خاندان ہی ان کی زندگی کا بہترین میدان ہوسکتا ہے۔ بعض خواتین اپنی تعلیم کا سب سے خوب صورت استعمال اپنے بچوں کی تربیت میں کرتی ہیں۔ بعض خواتین گھر کے ساتھ ساتھ بچیوں کو پڑھاتی ہیں۔ بعض گھر سے کام کرتی ہیں۔ بعض کو واقعی ضرورت کی وجہ سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔
ہر عورت کی صورتِ حال ایک جیسی نہیں۔
لیکن دوسری طرف یہ تصور بھی درست نہیں کہ عورت کی ڈگری، علم اور برسوں کی محنت شادی کے دن ختم ہوجاتی ہے۔ علم کو استعمال نہ کیا جائے تو اس کا دائرۂ اثر محدود ہوجاتا ہے۔
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے متعلق صحیح مسلم میں آتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرتی تھیں اور اپنی کمائی صدقہ کرتی تھیں۔ یہ ایک واضح تاریخی مثال ہے کہ صحابیات کے زمانے میں عورت کے لیے کسی جائز محنت اور اس کی آمدنی کا تصور موجود تھا۔
حضرت خدیجہ کے مالِ تجارت کو نبی نے سنبھالا بوقت ضرورت استعمال کرنا یہ شرعی طریقوں کی واضح تصویر ہے۔
لہٰذا سوال یہ ہونا چاہیے کہ صلاحیت کو شرعی، باوقار اور مفید طریقے سے کیسے استعمال کیا جائے؟ نہ یہ کہ شادی کے بعد ہر صلاحیت کو دفن ہی کردیا جائے۔
بعض دفعہ قناعت کا نام دیا جاتا ہیکہ جتنی کمائی ہے اس پر اکتفاء کیا جایے،
قناعت اسلام کی خوبصورت تعلیم ہے، مگر قناعت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان جائز اسباب اختیار کرنا چھوڑ دے۔
شوہر اگر اپنی پوری استطاعت کے مطابق محنت کررہا ہے تو بیوی کو اس کی قدر کرنی چاہیے، اس کی آمدنی کا دوسروں سے موازنہ کرکے اسے احساسِ کمتری نہیں دینا چاہیے۔
لیکن اگر اللہ نے بیوی کو علم، ہنر اور کام کرنے کی صلاحیت دی ہے تو اس صلاحیت کو صرف اس لیے دفن کردینا کہ ’’قناعت کرو‘‘ بھی قناعت کا درست مفہوم نہیں۔
*قناعت وسائل سے بے نیازی ہے، صلاحیت سے بے نیازی نہیں۔*
یہاں ایک نہایت حساس توازن ضروری ہے۔ شوہر کے شرعی حقوق کا انکار درست نہیں، لیکن ہر اختلاف کو ’’شوہر کا حق‘‘ کہہ دینا بھی درست نہیں۔
لیکن اگر اصل مسئلہ صرف یہ ہو کہ ’’میری بیوی مجھ سے زیادہ پڑھی لکھی نہ لگے‘‘، ’’اس کے پاس اپنی صلاحیت کیوں ہو‘‘، ’’وہ خود کچھ کیوں کرسکتی ہے‘‘ یا ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ *تو یہ مرد کی قوامیت نہیں بلکہ انا کا مسئلہ ہے۔*
*قوامیت ذمہ داری کا نام ہے، ملکیت کا نہیں۔*
اسی طرح عورت کے لیے بھی یہ درست نہیں کہ وہ اپنی تعلیم یا آمدنی کو شوہر پر برتری کا ذریعہ بنائے، شوہر کی کم آمدنی کا مذاق اڑائے، گھر کی ذمہ داریوں کو حقیر سمجھے یا ہر معاملے میں اپنی ڈگری کو دلیل بناکر ازدواجی نظام کو کمزور کرے۔
تعلیم انسان کو بہتر بنائے، مغرور نہیں۔
آمدنی گھر کو سہارا دے، رشتے کو کمزور نہ کرے۔
*صلاحیت خدمت بنے، مقابلہ نہیں* ۔
*موجودہ دور میں نئی سوچ کی ضرورت*
آج کی دنیا اس سے بہت مختلف ہے جس میں ملازمت کا مطلب صرف دفتر، اسکول یا بازار جانا تھا۔ ایک خاتون گھر بیٹھے دنیا کے دوسرے حصے کی طالبہ کو پڑھا سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر، ترجمہ، تحریر، تدریس اور دیگر شعبوں میں گھر سے جائز کام کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
اس لیے ہر مسئلے کا حل یہ نہیں کہ ’’زمانہ خراب ہے، کچھ نہ کرو۔‘‘ بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ زمانے کے نئے ذرائع کو شرعی حدود کے اندر کیسے استعمال کیا جائے۔
اگر باہر جانے میں شرعی یا خاندانی رکاوٹ ہے تو گھر سے کام کی صورت دیکھی جائے۔ اگر آن لائن کام میں غیر ضروری اختلاط ہے تو اس سے بچا جائے۔ اگر کسی کام میں حرام مواد ہے تو اسے چھوڑ دیا جائے۔ اگر کسی کام سے بچوں یا شوہر کے ضروری حقوق متاثر ہوتے ہیں تو اوقات بدلے جائیں۔ اگر کام جائز ہے اور گھر کے حالات اجازت دیتے ہیں تو مناسب راستہ تلاش کیا جائے۔
اسلامی مزاج ’’سب کچھ حلال‘‘ یا ’’سب کچھ حرام‘‘ کے دو انتہاؤں کا نام نہیں؛ بلکہ حلال و حرام، حقوق و ذمہ داری، ضرورت و مصلحت اور حدود و آداب کے درمیان توازن کا نام ہے۔
ہمیں اپنی بیٹیوں کو صرف یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ ’’تم بہت پڑھو تاکہ اچھا رشتہ ملے‘‘، بلکہ یہ بھی سکھانا چاہیے کہ علم شخصیت بناتا ہے، ذمہ داری بڑھاتا ہے اور انسان کو ایک دوسروں کے لیے نفع بخش بناتا ہے۔
اور اپنے بیٹوں کو بھی صرف یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ ’’بیوی گھر سنبھالے‘‘، بلکہ یہ بھی سکھانا چاہیے کہ بیوی ایک مکمل انسان ہے؛ اس کی اپنی علمی شخصیت، صلاحیت، عزت اور مال ہے۔ شوہر کو اس کے حقوق کا محافظ اور شریکِ زندگی بننا ہے، اس کی شخصیت کا مالک نہیں بننا۔
اسی طرح لڑکیوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ تعلیم اور روزگار آزادی کا ایسا نعرہ نہیں جس کے نام پر شوہر کے حقوق، بچوں کی تربیت یا گھر کے سکون کو قربان کردیا جائے۔ اگر عورت اپنی صلاحیت استعمال کرتی ہے تو اسے ذمہ داری کے ساتھ کرنا ہوگا، اور اگر شوہر کی آمدنی کم ہے تو تعاون محبت کے ساتھ کرنا چاہیے، احسان جتا کر نہیں۔
اور مردوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بیوی کی قابلیت شوہر کی ناکامی نہیں، گھر کی قوت ہوسکتی ہے۔
نکاح میں اصل کامیابی یہ نہیں کہ کون کس پر غالب آگیا؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ دو انسان اپنی اپنی صلاحیتوں، ذمہ داریوں اور حقوق کو سمجھ کر ایک دوسرے کے لیے سکون کا ذریعہ بن جائیں۔
قرآن کا اصول ہے:
وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ
’’اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی گزارو۔‘‘
(النساء: 19)
اور فرمایا:
وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ
’’اور عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے کے مطابق ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر ذمہ داریاں ہیں۔‘‘
(البقرۃ: 228)
اسی ’’ *معروف* ‘‘ میں باہمی احترام، مشاورت، ذمہ داری، ایک دوسرے کی صلاحیتوں کی قدر، حالات کی رعایت اور زندگی کے بدلتے تقاضوں کو سمجھنا شامل ہے۔
عورت کو نہ بے لگام آزادی کی طرف دھکیلنا اسلام کا مزاج ہے، نہ اس کی شخصیت، علم اور صلاحیت کو شادی کے بعد بالکل بے مصرف سمجھ لینا اسلام کا مزاج ہے۔
صحیح راستہ وہ ہے جہاں حیا بھی باقی رہے، گھر بھی محفوظ رہے، شرعی حدود بھی قائم رہیں، شوہر کے حقوق بھی ادا ہوں، عورت کی صلاحیت بھی ضائع نہ ہو اور میاں بیوی ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون بنیں۔
کیونکہ ایک صالح گھر وہ نہیں جہاں صرف ایک شخص کے فیصلے چلتے ہوں؛ بلکہ وہ ہے جہاں حق، ذمہ داری، محبت، مشاورت اور انصاف کے ساتھ زندگی آگے بڑھتی ہو۔