*سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ*
*✍🏻 محمد پالن پوری*
*ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
یہ مصرعہ انسان کی پوری زندگی کے غرور کو ایسے کاٹ کر رکھ دیتا ہے جیسے کسی تیز دھار چھری سے ریشمی دھاگا کٹ جائے۔ انسان اپنے اردگرد کے مال و اسباب دیکھ کر سمجھتا ہے کہ یہ سب اس کی ملکیت ہے، اس کی کمائی ہے، اس کی محنت کا ثمر ہے مگر موت کا قافلہ جب بانسری بجاتا ہوا آتا ہے تو سارے ٹھاٹھ، ساری دولت، ساری کرسی، سارے منصب، ساری انا سب دھول ہو جاتے ہیں اور انسان ایک ایسی مسافت کی طرف روانہ ہوتا ہے جہاں اس کے ساتھ نہ بینک بیلنس جاتا ہے، نہ سوشل اسٹیٹس، نہ شہرت کی گرد، نہ کامیابیوں کے ہار بس فقط اعمال کا مختصر سا توشہ ساتھ جاتا ہے۔
زندگی کا عجیب میلہ ہے کہ ایک طرف تاجدار ہیں جو اپنی سونے کی مسند پر بیٹھے اپنی انا کی مشعلیں جلا رہے ہیں اور دوسری طرف گدا ہیں جو اپنے پیالے میں خوابوں کے ٹکڑے جمع کر رہے ہیں۔ دونوں کو لگتا ہے کہ وہ بہت کچھ رکھتے ہیں مگر جب بنجارہ لاد لیتا ہے اور آخری قافلہ روانہ ہوتا ہے تو دونوں کی منزل ایک ہی ہو جاتی ہے اور وہ ہے مٹھی بھر زمین اور دو گز کفن۔
کتنی عجیب بات ہے نا کہ انسان اپنے گھروں کی اینٹیں گنتا ہے، اپنی گاڑیوں کا حساب رکھتا ہے، اپنے کپڑوں کے رنگوں تک کی ترتیب طے کرتا ہے مگر موت جو اسے اپنے دو ہاتھوں سے اٹھا کر لے جائے گی اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کرتا۔ دنیا کی چند ساعتوں کے لیے ہم لڑتے، بھڑتے، جلتے، بھڑکتے رہتے ہیں۔ کسی کی ذرا سی بات ہماری انا کو آگ لگاتی ہے، کسی کا معمولی سا فائدہ ہمیں حسد کی کھائی میں گرا دیتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ سب کچھ ہمارے اختیار میں ہے مگر حقیقت؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم خود اپنے اختیار میں نہیں۔۔۔۔۔
کبھی کبھی کسی جنازے کے پیچھے چلتے ہوئے دل پر ایسا دھچکا لگتا ہے جیسے وقت کسی بچے کی طرح ہمارا گریبان پکڑ کر کہہ رہا ہو کہ چل! تیری باری بھی آنے والی ہے۔ اور ہم پھر بھی اپنے ٹھاٹھ پاتھ کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔۔۔۔
آج جن محلات میں ہم اپنی کامیابیوں کی کہانیاں سجاتے ہیں، چند دہائیوں بعد انہی محلات میں کوئی ہمیں جانتا تک نہیں ہوگا۔ آج جن زمینوں پر ہم ملکیت کے پرچم گاڑتے ہیں کل انہی زمینوں کے نیچے ہماری شناخت مٹی ہو جائے گی۔ آج جن لوگوں کی واہ واہ ہمیں خود پر ناز دلاتی ہے انہی لوگوں کے سامنے ہم کل ایک لکڑی کے تابوت میں خاموش لیٹے ہوں گے اور وہ چند لمحے افسوس کرکے واپس اپنی دنیا میں مشغول ہو جائیں گے۔۔۔۔
زندگی کا اصل المیہ یہ نہیں کہ ہم مر جائیں گے بلکہ زندگی کا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم زندگی کو مرنے کے بعد سمجھتے ہیں۔ جب وقت کی ریڑھی آتی ہے، بنجارہ پکارتا ہے اور ہماری سانسیں اپنی سیڑھیاں اترنے لگتی ہیں تب انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اصل دولت وہ لمحے تھے جو اس نے اللہ کی یاد میں، مخلوق کی بھلائی میں اور دل کی صفائی میں گزارے تھے۔ باقی سب محض ہجومِ ہوس تھا جو قبر کے دہانے پر آکر ریت کے ذروں کی طرح بکھر جاتا ہے۔۔۔۔۔
اس لیے اے انسان! ذرا تھم جا، ذرا رک جا، ذرا سوچ لے کہ یہ ٹھاٹھ پاتھ تیرے نہیں، تیرے ساتھ نہیں جائیں گے۔ تیرے ساتھ تو وہ آنسو جائیں گے جو کسی مظلوم نے تیری وجہ سے پونچھ ڈالے تھے، وہ دعا جائے گی جو کسی غریب نے تیری محبت میں دی تھی، وہ نیکی جائے گی جو تو نے چھپا کر کی تھی، وہ معافی جائے گی جو تو نے دل بڑا کرکے دی تھی۔
باقی سب ؟ سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔