`مفتی محمد ابراہیم غفاری`
بانی و مہتمم مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ 
abzghifariedu@gmail.com

انسان بظاہر ایک مستقل وجود ہے، مگر حقیقت میں اس کی شخصیت اس کی صحبتوں میں تشکیل پاتی ہے۔ وہ جن لوگوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا ہے، ان کے خیالات، عادات اور اخلاق کا رنگ آہستہ آہستہ اس کے اندر اترنے لگتا ہے۔

جمالِ ہمنشیں در من اثر کرد

یعنی ہمنشین کی خوبی، پاکیزگی اور کردار نے میرے اندر بھی اثر پیدا کر دیا۔

تربیت ہمیشہ الفاظ سے نہیں ہوتی۔ کبھی کسی صالح کی عبادت دل کو جگا دیتی ہے، کبھی اس کا اخلاق ہمیں اپنی اصلاح کا آئینہ دکھاتا ہے، اور کبھی اس کی خاموشی ہماری غفلت پر دستک بن جاتی ہے۔

اسی لیے قرآن کریم فرماتا ہے:

﴿وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾
"سچوں کے ساتھ رہو۔"

یہ صرف سچ بولنے کی دعوت نہیں، بلکہ سچوں کی صحبت اختیار کرنے کا حکم بھی ہے۔ کیونکہ صحبت ایک خاموش مدرسہ ہے؛ یہاں انسان بہت کچھ بغیر کہے سیکھ لیتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ»

نیک ساتھی مشک فروش کی مانند ہے؛ اس کے پاس بیٹھو گے تو خوشبو ضرور ملے گی۔ برا ساتھی بھٹی کی طرح ہے؛ اس کے دھوئیں سے بچنا مشکل ہے۔

آج اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کس کے ساتھ بیٹھتے ہیں؟ بلکہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر ہم کیا بن رہے ہیں؟

کیا اللہ کی یاد بڑھ رہی ہے؟
کیا نماز کی فکر پیدا ہو رہی ہے؟
کیا گناہ سے نفرت اور نیکی سے محبت بڑھ رہی ہے؟
کیا ہمارے اخلاق سنور رہے ہیں؟

اگر نہیں، تو ممکن ہے مسئلہ علم کی کمی کا نہیں، صحبت کی خرابی کا ہو۔

آج صحبت صرف مجلس تک محدود نہیں۔ جنہیں ہم موبائل پر روز دیکھتے، سنتے اور فالو کرتے ہیں، وہ بھی ہماری فکری صحبت کا حصہ ہیں۔ ہم جسے بار بار سنتے ہیں، اس کے خیالات ہماری سوچ اور اس کے انداز ہماری زندگی میں اترنے لگتے ہیں۔

اسی لیے والدین کو بھی صرف اچھا اسکول نہیں، اچھی صحبت اور پاکیزہ ماحول دینا ہوگا۔ بچے کے مستقبل پر اس کے دوست کا اثر کبھی کبھی نصیحتوں سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔

صالحین وہ ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آئے، جن کے پاس بیٹھ کر آخرت کی فکر بڑھے اور جن کے کردار کو دیکھ کر انسان اپنے آپ کو بہتر بنانے پر آمادہ ہو۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔ انہیں نبی کریم ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی، تو ان کی زندگیاں بدل گئیں؛ اور جب وہ بدلے تو دنیا کی تاریخ بدل گئی۔

اس لیے اپنی صحبت کا محاسبہ کیجیے۔

جن کے ساتھ ہم بیٹھتے ہیں، کیا ان کے ساتھ قیامت کے دن بھی اٹھنا چاہیں گے؟

اگر جواب ہاں ہے تو اس صحبت کو غنیمت جانیے، اور اگر نہیں تو ابھی وقت ہے—مجلس بدل لیجیے، ساتھی بدل لیجیے، کیونکہ زندگی بہت مختصر ہے۔

کبھی انسان کو بدلنے کے لیے کسی بڑی تقریر کی ضرورت نہیں ہوتی؛ ایک صالح انسان کی صحبت ہی کافی ہوتی ہے۔

جمالِ ہمنشیں در من اثر کرد

صالحین کی صحبت نے مجھے صرف کچھ سکھایا نہیں؛
مجھے بدل دیا۔

https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H