سعدیہ فاطمہ عبدالخالق 
 ناندیڑ مہاراشٹر 
8485884176

 *صحت مند معاشرہ کے لئے ہماری ذمہ داریاں*

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، انسان کے لئے جس طرح صحت ضروری ہے ، بالکل اسی طرح اطراف کا ماحول بھی صحت مند ہونا ضروری ہے ، قدرتی ماحول کے ساتھ ساتھ انسانوں کے درمیان اخلاقی ماحول بیحد ضروری ہے ، صحت مند معاشرے کے لئے اخلاقی ذمہ داریاں ہر کسی پر لاگو ہے ، ہمارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اخلاق کا نمونہ رہی ، اخلاق ہی صحت مند معاشرے کی تشکیل ہے ،انسان ہمیشہ دوسروں سے سیکھتا ہے اور خود کے تجربات سے سیکھتا ہے ، انسان فطرتاً ایک سماجی مخلوق ہے ، وہ تنہا زندگی گزارنے کے بجائے معاشرے میں رہ کر اپنی ضروریات پوری کرتا ہے ،ایک ایسا معاشرہ جہاں امن، انصاف، محبت، مساوات، رواداری اور اخلاقی اقدار کو فروغ حاصل ہو، اسے مثالی معاشرہ کہا جاتا ہے ، اسلام نے انسانیت کو ایسے ہی مثالی معاشرے کا تصور دیا ہے، جہاں ہر فرد کو عزت، آزادی اور انصاف میسر ہو اور ہر شخص اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو دیانت داری سے ادا کریں ،آج دنیا میں بے شمار مسائل، جیسے بدعنوانی، ناانصافی، فرقہ واریت، نفرت، تشدد اور اخلاقی زوال کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ افراد اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو گئے ہیں اگر ہر فرد اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے تو ایک مثالی معاشرے کا قیام ممکن ہے ،مثالی معاشرے کا صرف تصور ہی نہیں بلکہ مثالی معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہو، ہر انسان کے حقوق محفوظ ہوں، امیر و غریب کے درمیان انصاف ہو، خواتین، بچوں، بزرگوں اور کمزور طبقات کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے، اور تعلیم، صحت اور روزگار کی مساوی سہولتیں فراہم ہوں ، ایسے معاشرے میں مذہبی، لسانی اور ثقافتی اختلافات کے باوجود امن و محبت کی فضا قائم رہتی ہے ،اسلام نے مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کی صورت میں دنیا کو ایک مثالی معاشرے کا عملی نمونہ پیش کیا، جہاں اخوت، مساوات، عدل اور خدمتِ خلق بنیادی اصول تھے ،ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنے کردار کو بہتر بنائے ، سچ بولنا، وعدے کی پابندی کرنا، امانت داری، دیانت داری، دوسروں کے حقوق کا احترام اور قانون کی پابندی ایک اچھے شہری کی بنیادی صفات ہیں ، معاشرے کی اصلاح کا آغاز ہمیشہ فرد کی اصلاح سے ہوتا ہے ، 
اگر ہر شخص اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دے تو معاشرے میں بداعتمادی، دھوکہ دہی اور ناانصافی خود بخود کم ہو جائے گی، اس میں شامل خاندان کے تئیں ذمہ داریاں بھی ہیں ، 
خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے ، والدین کی عزت و خدمت، بچوں کی بہترین تربیت، بزرگوں کا احترام، خواتین کے حقوق کا تحفظ اور باہمی محبت و تعاون مضبوط خاندان کی بنیاد ہیں ، جب خاندان مضبوط ہوگا تو معاشرہ بھی مضبوط ہوگا ،
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اعلیٰ اخلاق، دینی تعلیم، انسان دوستی اور قانون کی پاسداری کی تعلیم دیں تاکہ وہ مستقبل میں معاشرے کے مفید شہری بن سکیں ، اس میں لازمی طور پر 
تعلیم اور شعور کی اہمیت زیادہ ہے ، تعلیم ایک مثالی معاشرے کی بنیاد ہے ،تعلیم یافتہ افراد نہ صرف اپنی زندگی بہتر بناتے ہیں بلکہ دوسروں کی رہنمائی بھی کرتے ہیں ، تعلیم انسان کو اچھے اور برے کی تمیز سکھاتی ہے اور اس میں برداشت، تحقیق اور مثبت سوچ پیدا کرتی ہے ،
اساتذہ، والدین اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف نصابی تعلیم ہی نہ دیں بلکہ طلبہ کی اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں ، تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت اہم ذمہ داری ہے جس میں مساویانہ سلوک کی سوجھ بوجھ رہے ،انصاف کسی بھی مثالی معاشرے کی روح ہے ، جب معاشرے میں امیر اور غریب، طاقتور اور کمزور سب کے ساتھ یکساں انصاف کیا جائے تو امن قائم ہوتا ہے ، ناانصافی معاشرے میں بے چینی، بدامنی اور انتشار کو جنم دیتی ہے ،ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف کا ساتھ دے، جھوٹی گواہی سے بچے، رشوت نہ لے اور نہ دے، اور حق بات کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے۔
ضرورت مندوں کی مدد، بیماروں کی عیادت، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت، غریبوں کی امداد اور مصیبت زدہ افراد کی مدد کرنا ایک مہذب اور مثالی معاشرے کی علامت ہے ، اسلام نے خدمتِ خلق کو عبادت قرار دیا ہے ،اگر ہر صاحبِ حیثیت شخص اپنے وسائل میں سے کچھ حصہ مستحق افراد پر خرچ کرے تو معاشرے سے غربت اور محرومی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے ، اس کے علاوہ 
ہر افراد پر صاف ستھرا ماحول رکھنے کی ذمہ داری عائد ہے ، 
صفائی اور ماحول کا تحفظ ضروری ہے صاف ستھرا ماحول ایک صحت مند معاشرے کی پہچان ہے ، عوامی مقامات کو صاف رکھنا، درخت لگانا، پانی کی حفاظت کرنا اور ماحول کو آلودگی سے بچانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے ،اسلام نے بھی صفائی کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے، اس لیے ہمیں اپنے گھروں، گلیوں اور شہروں کو صاف رکھنے میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے ، یہی وہ چیزیں صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں ، 
اخلاقی فریضہ میں قومی اتحاد اور بھائی چارہ
لسانی، مذہبی اور ثقافتی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا ایک ترقی یافتہ معاشرے کی علامت ہے ، نفرت، تعصب اور فرقہ واریت معاشرے کو کمزور کرتی ہے جبکہ اتحاد، رواداری اور بھائی چارہ اسے مضبوط بناتے ہیں ،ہمیں چاہیے کہ اختلافِ رائے کو دشمنی نہ بنائیں بلکہ باہمی احترام کے ساتھ ایک دوسرے کی بات سنیں اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیں ،ان شاءاللہ 
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیکھا جائے تو ۔۔۔۔۔۔۔ 
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ" (ترجمہ: بے شک اللہ انصاف اور بھلائی کا حکم دیتا ہے۔) (سورۂ النحل: 90)
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں بہترین شخص وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔"
یہ تعلیمات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ ایک مثالی معاشرے کی بنیاد انصاف، احسان اور خدمتِ خلق پر قائم ہوتی ہے ،مثالی معاشرہ
ہر فرد کی ذمہ داری ہے ، مثالی معاشرہ کردار اور شعور سے وجود میں آتا ہے ، اگر ہم دیانت داری، انصاف، محبت، رواداری، قانون کی پابندی، خدمتِ خلق اور اخلاقِ حسنہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہمارا معاشرہ امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکتا ہے ، ان شاءاللہ ہر فرد اپنے اپنے کردار کو بہترین بنائیں ، دوسروں کے حقوق کا احترام کریں ، وطن کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا معاشرہ چھوڑیں کہ جس پر ہر شخص فخر کر سکے ، یہی ایک مثالی معاشرے کی تعمیر کی حقیقی بنیاد ہے ،اللّٰہ ہمارے علم و عمل کو قبول فرمائے آمین