سعدیہ فاطمہ عبدالخالق 
ناندیڑ مہاراشٹر 
8485884176

*پرورش ایک اہم ذمہ داری*

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، اللّٰہ تعالیٰ نے ہمارے آخری نبی صلی اللّٰه علیہ وسلم کے ذریعے ہمیں علم کا تحفہ دے کر سیکھنے کی صلاحیت بھی دی ہے ، اسی علم سے زندگی کے ہر مقصد کو صحیح ڈھنگ سے مکمل کرنا ہے ، جس میں اولاد کی تربیت ایک اہم ذمہ داری ہے ، اولاد اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت، امانت اور آزمائش ہے ، والدین کی زندگی میں بچوں کی حیثیت صرف خوشی اور مسرت کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے ، جس طرح ایک مالی اپنے باغ کی ہر شاخ کی حفاظت کرتا ہے، اسی طرح والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کی جسمانی، ذہنی، اخلاقی، تعلیمی اور روحانی تربیت پر بھرپور توجہ دیں ، آج کے دور میں جہاں جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا، مادہ پرستی اور اخلاقی چیلنجز نے بچوں کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، وہاں والدین کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے ،
اسلام نے اولاد کی اچھی پرورش کو عبادت قرار دیا ہے ، قرآن کریم اور احادیثِ نبویؐ صلی اللّٰه علیہ وسلم میں والدین کو اولاد کی صحیح تعلیم و تربیت کی بار بار تلقین کی گئی ہے تاکہ وہ ایک صالح، باکردار اور معاشرے کے لیے مفید انسان بن سکیں ، بچوں کی پرورش کی اہمیت ہر دور میں ضروری ہے ، بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ، آج جن بچوں کی تربیت اچھی ہوگی، کل وہی معاشرے کی قیادت کریں گے ، اگر ان کی پرورش محبت، اخلاق، علم اور ایمان کی بنیاد پر ہوگی تو وہ ایک پرامن، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیں گے، لیکن اگر ان کی تربیت سے غفلت برتی گئی تو اس کے منفی اثرات صرف خاندان ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے پر مرتب ہوں گے ، ہمارے آخری نبی الزماں حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا" (صحیح بخاری، صحیح مسلم) یہ حدیث والدین کو یاد دلاتی ہے کہ اولاد کی صحیح تربیت ان کی بنیادی ذمہ داری ہے ، اولاد کی تربیت میں دینی تربیت لازمی ہے ، بچوں کی تربیت کا آغاز دینی تعلیم سے ہونا چاہیے ، بچپن ہی سے انہیں اللہ تعالیٰ کی محبت، رسول اکرم ﷺ کی سیرت، نماز، قرآنِ کریم کی تلاوت، سچائی، امانت داری اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دی جائے ،
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے " (سورۂ التحریم: 6)
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ والدین اپنے اہلِ خانہ کی دینی اصلاح کے بھی ذمہ دار ہیں ، بچوں کی تربیت میں اخلاقی تربیت ایک اہم موضوع ہے ، صرف اعلیٰ تعلیم کافی نہیں بلکہ بہترین اخلاق بھی ضروری ہیں ،بچوں میں سچ بولنے، وعدہ پورا کرنے، بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے محبت، صبر، شکر، برداشت، دیانت داری اور دوسروں کی مدد کرنے کی عادت پیدا کرنا والدین کی ذمہ داری ہے ،
بچے نصیحت سے زیادہ اپنے والدین کے کردار سے سیکھتے ہیں ، اگر والدین خود سچ بولیں، نماز کی پابندی کریں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کریں تو بچے بھی انہی خوبیوں کو اختیار کریں گے ، 
بچوں کو محبت اور توجہ کی ضرورت یوتی ہے ، ہر بچے کو والدین کی محبت، شفقت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ، مصروف زندگی میں اگر والدین بچوں کو وقت نہ دیں تو بچے جذباتی طور پر تنہائی کا شکار ہو سکتے ہیں ،
والدین کو چاہیے کہ روزانہ کچھ وقت صرف بچوں کے لئے مخصوص کریں، ان سے بات کریں، ان کے مسائل سنیں، ان کے ساتھ کھیلیں اور ان کی کامیابیوں کی حوصلہ افزائی کریں ،محبت کے ساتھ کی گئی تربیت ہمیشہ دیرپا اثر چھوڑتی ہے ، بچوں کی تربیت میں تعلیم کی اہمیت کو مدنظر رکھیں ، بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا والدین کی اہم ذمہ داری ہے ، تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ شخصیت سازی کا ذریعہ بھی ہے ، والدین کو چاہیے کہ بچوں میں مطالعے کی عادت پیدا کریں ،سوال پوچھنے پر حوصلہ افزائی کریں ، سرپرست حضرات ، بچوں کے 
اساتذہ کے ساتھ رابطہ رکھیں ،
تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی لیں ، صرف حاصل نمبرات کے بجائے علم اور کردار پر بھی توجہ دیں ،سوشل میڈیا اور موبائل کا استعمال پر توجہ دیں ، آج کا بچہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ماحول میں پروان چڑھ رہا ہے ، اگر ان کا استعمال بے احتیاطی سے ہو تو بچوں کی تعلیم، صحت، اخلاق اور ذہنی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے ، والدین کو چاہیے کہ:اسکرین ٹائم محدود کریں ،بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں ، مفید تعلیمی مواد کی طرف رہنمائی کریں ،
خود بھی موبائل کے غیر ضروری استعمال سے گریز کریں تاکہ بچوں کے لئے اچھا نمونہ بن سکیں ، بچوں کی تربیت میں اچھی صحبت کی بھی اہمیت ہے ، انسان کی شخصیت پر دوستوں کا گہرا اثر ہوتا ہے ، اس لئے والدین کو چاہیے کہ بچوں کے دوستوں اور ان کے ماحول پر نظر رکھیں ،نیک، بااخلاق اور تعلیم دوست ساتھی بچوں کو مثبت راستے پر رکھتے ہیں جبکہ بری صحبت ان کی شخصیت کو نقصان پہنچا سکتی ہے ،اسی لئے بچوں کو اچھے ماحول اور مثبت سرگرمیوں سے وابستہ رکھنا ضروری ہے ، تربیت میں ایک اور اہم پہلو جسمانی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے ، صحت مند جسم ہی صحت مند ذہن کی بنیاد ہوتا ہے ، بچوں کو متوازن غذا، مناسب نیند، ورزش اور صفائی کی عادت ڈالنی چاہیے ،
والدین کو چاہیے کہ ،جنک فوڈ کے بجائے صحت بخش غذا دیں ، کھیل کود کی حوصلہ افزائی کریں ، ہر وہ چھوٹے سے چھوٹے کام پر ان کے ساتھ خوشی کا اظہار کریں ، وقت پر سونے اور جاگنے کی عادت ڈالیں ،جسمانی صفائی اور صحت کے اصول سکھائیں ،
بچوں پر غیر ضروری دباؤ سے اجتناب کریں ، بعض والدین اپنی خواہشات بچوں پر مسلط کر دیتے ہیں ، ہر بچے کی صلاحیت، دلچسپی اور مزاج مختلف ہوتا ہے ، بچوں کا دوسروں سے موازنہ کرنا ان کی خود اعتمادی کو متاثر کرتا ہے ، والدین کو چاہیے کہ بچوں کی صلاحیتوں کو پہچانیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ناکامی کی صورت میں انہیں ڈانٹنے کے بجائے بہتر رہنمائی فراہم کریں ، والدین خود بچوں کے لئے عملی نمونہ بنیں ، بچے وہی سیکھتے ہیں جو اپنے گھر میں دیکھتے ہیں ، اگر گھر میں محبت، احترام، دیانت داری، نماز، تلاوت اور خوش اخلاقی کا ماحول ہوگا تو بچے بھی انہی صفات کو اپنائیں گے ، اسی لئے والدین کو اپنی عملی زندگی کو بچوں کے لئے بہترین نمونہ بنانا چاہیے، کیونکہ کردار کی تعلیم الفاظ سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے ، معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہر وہ بات پر دھیان رکھیں جو تربیت میں شامل ہو ، اگرچہ بچوں کی بنیادی تربیت والدین کی ذمہ داری ہے، لیکن اساتذہ، مدارس، اسکول، میڈیا اور پورا معاشرہ بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ، تعلیمی اداروں کو اخلاقی تعلیم پر زور دینا چاہیے، میڈیا کو مثبت مواد پیش کرنا چاہیے اور معاشرے کو بچوں کے لئے محفوظ اور تعمیری ماحول فراہم کرنا چاہیے ، بچوں کی اچھی پرورش ایک عظیم سرمایہ کاری ہے جس کے ثمرات پوری زندگی بلکہ نسلوں تک پہنچتے ہیں ، والدین اگر محبت، شفقت، دعا، تعلیم، اخلاق، دین اور بہترین کردار کے ذریعے اپنے بچوں کی تربیت کریں تو وہ نہ صرف کامیاب انسان بنیں گے بلکہ اپنے والدین، قوم اور ملک کا بھی نام روشن کریں گے ، 
آج کے دور میں سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ہم اپنی مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر اپنی اولاد کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں ، کیونکہ دولت، جائیداد اور آسائشیں وقتیہ ہیں، جبکہ نیک اور صالح اولاد دنیا اور آخرت دونوں میں نیکی کا سرمایہ بنتی ہے ، اللّٰہ ہمیں صحیح تربیت کے قابل بنائیں اللّٰہ ہمارے علم و عمل کو قبول فرمائے آمین