سعدیہ فاطمہ عبدالخالق ناندیڑ مہاراشٹر
8485884176
*شاندار پٹیل نیشنل ایوارڈ*
شاندار پٹیل ،ایم جی پٹیل نیشنل ایوارڈ، جیسنگھ پور (کولہاپور) کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔۔۔۔۔
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو علم کی نعمت سے نوازا ہے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ذریعے اس علم کو زمین پر پھیلایا گیا ،
اور بہت سے قدر دانوں نے اس کی قدر و منزلت کو جانا ہے ، بعض نے اس علم کو کئی طریقوں میں سراہا ہے اور اپنی اپنی دانست میں محنت جاری وساری رکھی ہے، آج کے ڈیجیٹل دوڑ کی دور میں بھی لوگ علم کے لئے اپنی کوششوں سے علم والوں کی قابلِ قدر ستائش کرتے ہیں ، جس میں قابلِ ذکر جیسنگھ پور کولہاپور ہے ،مہاراشٹر کی سر زمین ہمیشہ سے علمی ، ادبی ، سماجی خدمات اور تعلیمی بیداری کا مرکز رہی ہے ،اس خطے کی کئی علمی و سماجی شخصیات نے اپنے اخلاص، محنت اور خدمات کے ذریعے معاشرے میں نمایاں مقام حاصل کیا ، انہی شخصیات میں شاندار پٹیل ایوارڈ کا نام احترام سے لیا جاتا ہے، جس کے بانی محترم محمد شفیع غوث صاحب پٹیل ، جنہوں نے تعلیمی ، سماجی خدمات اور ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ، ملک بھر کے لوگوں کی بھی انہی خدمات کے اعتراف میں جیسنگھ پور، ضلع کولہاپور میں ایم جی پٹیل نیشنل ایوارڈ کے ذریعے ملک بھر کی ممتاز شخصیات کو اعزاز سے نوازا جاتا ہے، ایم جی پٹیل نیشنل ایوارڈ جیسنگھ پور کولہاپور کے پروگرام کی نوجوان ٹیم ڈاکٹر اختر حسین محمد شفیع پٹیل اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر شکیلہ اختر حسین پٹیل ، ان دونوں کے ساتھ بڑے بھائی ڈاکٹر عتیق محمد شفیع پٹیل اور پٹیل فیملی شامل ہوکر اپنے والد محترم محمد شفیع پٹیل کی رہبری میں اپنی جیوری ٹیم سے دانشوران کا انتخاب کرکے ایم جی پٹیل نیشنل ایوارڈ سے نوازتے ہیں ، ایم جی پٹیل نیشنل ایوارڈ ایک ایسا قومی اعزاز ہے جس کا مقصد ان افراد کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے تعلیم، ادب، سماجی بہبود، تحقیق، صحافت، فنون یا عوامی خدمات کے میدان میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہو ، یہ ایوارڈ نہ صرف ایک اعزاز ہے بلکہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کا ایک مؤثر طریقہ بھی ہے ،شاندار پٹیل کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس نے تعلیم اور سماجی خدمات کو ہمیشہ اپنی ترجیح بنایا ، انہوں نے اپنی عملی زندگی میں مختلف تعلیمی، ادبی اور سماجی منصوبوں کی سرپرستی کی ، ان کا یقین تھا کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز معیاری تعلیم، اخلاقی تربیت اور خدمت خلق میں پوشیدہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نوجوان نسل کی رہنمائی اور علمی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے متعدد اقدامات کئے ،
ایم جی پٹیل نیشنل ایوارڈ کی تقریب ہر سال علمی اور ادبی ماحول میں منعقد کی جاتی ہے ،اس میں ملک کے مختلف حصوں سے ماہرینِ تعلیم، ادیب، شاعر، محققین، سماجی کارکنان ، صحافی اور دیگر ممتاز شخصیات شریک ہوتے ہیں ، تقریب کے دوران مقررین تعلیم، قومی یکجہتی، سماجی ذمہ داری اور نئی نسل کی کردار سازی جیسے اہم موضوعات پر اظہارِ خیال کرتے ہیں ، اس تقریب کی خاص خوبی یہ ہوتی ہے کہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے ایوارڈ یافتگان کے انتخاب کے ساتھ ساتھ ان کی تہذیب و طور طریقوں کو مد نظر رکھ کر ان کے ثقافتی تہذیب کی رنگا رنگی کو پیشِ کرتے ہیں ، قومی یکجہتی کا منہ بولتا ثبوت اس ایوارڈ تقریب میں دیکھنے ملتا ہے ، جن طلباء وطالبات نے اپنی سطح کا ریاستی انداز پیش کیا انھیں اسی لمحہ اعزاز و اکرام سے نوازا جاتا ہے ، یہ ایوارڈ صرف کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے ، اس کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ معاشرے کی تعمیر میں ہر مثبت خدمات قابلِ قدر ہیں ، خواہ وہ تعلیم ہو، ادب ہو، سائنس ہو، سماجی بہبود ہو یا انسانی خدمت، ہر شعبہ قومی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کرتا ہے ، شاندار پٹیل کی شخصیت کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کو صرف کامیابی کا نہیں بلکہ کردار، دیانت داری اور سماجی ذمہ داری کا درس دیتے ہیں ، ان کا ماننا ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد صرف ملازمت حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک ذمہ دار، باکردار اور مفید شہری بننا ہے ، یہی سوچ ایم جی پٹیل نیشنل ایوارڈ کی روح میں بھی نمایاں نظر آتی ہے ،اس ایوارڈ کی ایک اور نمایاں خوبی یہ ہے کہ یہ مختلف زبانوں، مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو یکساں احترام کے ساتھ سراہتا ہے ، اس سے قومی یکجہتی، باہمی احترام اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے ، جیسنگھ پور جیسے شہر میں اس نوعیت کی قومی تقریب کا انعقاد اس بات کی علامت ہے کہ علمی و ادبی سرگرمیاں صرف بڑے رقبے تک محدود نہیں بلکہ نیک ارادے علم کی شمع کہیں بھی روشن کرتے ہیں ، اس ایوارڈ تقریب کے لئے مدعو کئے گئے مہمانان کے لئے بہترین سہولیات کا انتظام ، طعام ، قیام کے لئے مکمل پیش کشی قابلِ تعریف ہے وہ بھی بغیر معاوضہ کے ہوتی ہے ، اس طرح کی خدمات کے لئے الفاظ سے بھرپائی نہیں ہے ، تقریب کے اختتام پر ظہرانے کا انتظام ایک ہی چھت کے نیچے ایک ساتھ بیٹھ کر گرما گرم ضیافت کا مزہ شاندار پٹیل کی ٹیم سے بہتر اور کہیں نہیں ، بھرپور ضیافت کا مزہ سمیٹے ہوٹے خلوص و نیت کی چاشنی سے بھرپور آئٹم اپنی مزہ آپ پھیلاتے ہیں ، اتنی اچھی دعوت کے ساتھ یہ ایوارڈ برسوں یاد رکھنے کے لائق ہے ، اس کے علاوہ بھی تعلیمی میدان میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ اور محققین کے لئے یہ اعزاز خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ان کی برسوں کی محنت اور علمی خدمات کو قومی سطح پر سراہا جاتا ہے ، اور ان کی کارکردگی کو ڈیجیٹل انداز میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ کوئی اس کارناموں سے بے بہرہ نہ رہے ، ایسے اعزازات نئی نسل میں تحقیق، مطالعہ، تخلیقی صلاحیت اور سماجی خدمات کا جذبہ پیدا کرتے ہیں ،آج کے دور میں جب مادہ پرستی اور ذاتی مفادات کا رجحان بڑھ رہا ہے، ایسے اعزازات معاشرے کو یہ سبق دیتے ہیں کہ اصل کامیابی دوسروں کی خدمات ، علم کی اشاعت اور اعلیٰ اخلاق میں ہے ،شاندار پٹیل اور ان کی ٹیم نے اسی فکر کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے ،اس ایوارڈ کی تقریبات میں مختلف علمی نشستیں، کتابوں کی رونمائی، ادبی مذاکرے اور ثقافتی پروگرام بھی منعقد کئے جاتے ہیں، جن سے شرکاء کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے اور باہمی روابط استوار کرنے کا موقع ملتا ہے ، اس طرح یہ ایوارڈ صرف ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک علمی و سماجی تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے ،آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شاندار پٹیل کی خدمات اور ایم جی پٹیل نیشنل ایوارڈ، جیسنگھ پور (کولہاپور) کا مقصد معاشرے میں علم، ادب، تعلیم، تحقیق اور انسانی خدمات کی قدروں کو فروغ دینا ہے ، ایسے اعزازات نہ صرف ممتاز شخصیات کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں بلکہ نئی نسل کو بھی یہ پیغام دیتے ہیں کہ محنت، دیانت، علم اور خدمتِ خلق ہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے ، اگر ہمارے معاشرے میں اس طرح کی علمی اور سماجی روایات کو مزید فروغ دیا جائے تو یقیناً ایک باشعور، باکردار اور ترقی یافتہ قوم کی تشکیل ممکن ہوگی ، ان شاءاللہ اللّٰہ ہمارے علم و عمل کو قبول فرمائے آمین