سعدیہ فاطمہ عبدالخالق 
 ناندیڑ مہاراشٹر 
8485884176
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امن و امان سیرت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی روشنی میں 
       ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، انبیائے مرسلین کی آمد کو قوموں کی طرف روانہ کرنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ بھٹکی ہوئی انسانیت راہ راست پر آ جائے اور ہر طرح کی افراط وہ تفریط سے ان کی زندگیاں پاک ہو جائیں ، جسے صراط مستقیم اور سواء السبیل ( سیدھا راستہ اور اعتدال کی شاہراہ )کہا گیا ہے ، اسی سلسلے میں ارشاد ربانی یوں ہوا کہ ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعے سے سب کو خبردار کر دیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو (سورہ نحل آیات نمبر 36 ) گزشتہ امت میں جو انبیاء تشریف لائیں وہ ایک خاص خطہ اور علاقے کی حد تک ہی تھے لیکن حضرت آخر الزماں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ ایک عالمگیر حیثیت رکھتا ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی وہ رسول آنے والے نہیں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سارے انسانوں کی دنیا و آخرت کی کامیابی اور ان کی سرفرازی کے لئے حرف آخر کی حیثیت رکھتی ہیں ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت عالم انسانیت کی ہدایت وہ کامیابی اور دینی و دنیاوی ترقی کے لئے رحمت ہی رحمت ہے ، اسلام ایک نظام خداوندی ہے جو سارے عالم کو اپنی تنویر سے منور کرنا چاہتا ہے ، یہ اشاعت اور تبلیغ و ابلاغ سے ہی ممکن ہے لہذا اسلام سے زیادہ امن و امان کا نقیب اور کون ہو سکتا ہے ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم از روئے قران چونکہ آفاقی اور دائمی نبی اور رحمت اللعالمین بھی ہیں ، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو جو پیغام دیا حکومتی ، سیاسی ، سماجی ، معاشی اور معاشرتی نظام اس کا ایک بڑا مقصد دنیا بھر سے ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ ، انسانیت کی تعظیم و تکریم ، انسان کے بنیادی حقوق کی حفاظت ، تمام اسباب فتنے کا قلع قمع اور جرائم کی بیخ کنی کے ذریعے عالمی سطح پر امن و امان کا قیام اور ہر انسان کے جان و مال اور عزت و آبرو کے لئے تحفظ اور سلامتی کا سامان کرنا ہی تھا ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی اور اعلان نبوت سے پہلے اور بعد کا طرز عمل اقدامات امن پسندی کا منہ بولتا ثبوت ہے ، جنہیں ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حد درجے دور اندیشی زیرکی ، باطنی بصیرت انتہا درجے کے عقلمندی معاملہ فہمی اور صبر و برداشت جیسے اوصاف حمیدہ یا نور نبوت کا نتیجہ قرار دے سکتے ہیں یہاں تک کہ شیر خوارگی اور بالکل بچپن میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طور اطوار اور بعض عادات سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ امن پسندی اور صلح جوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سرشت اور جبلت اور فطرت میں داخل تھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خون اور دودھ سے ہی امن و عامہ کی گٹھی ملی ہوئی تھی کہ وہ محمود الافعال اور حمید الصفات کہلاتے اور تمام دنیا کی زبان سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہلائے ، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم آج کل کی بس بڑی طاقتوں اور سیاست دانوں کی طرح امن و سلامتی کی زبانی کلامی دعویدار نہیں تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امن و سلامتی کا ایک اعلی نمونہ بن کر دکھایا ، امن و سلامتی کی تعلیمات و ہدایات اور بد امنی کے تمام اسباب و محرکات کا قلع قمع کرنے کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے زندگی بھر اعلانِ نبوت سے پہلے اور بعد میں امن و سلامتی اور صلح و آشتی کے لئے حلف الفضول میں شرکت ، قریش کی ایذارسانی پر صبر ، ہجرت حبشہ ، حجرت مدینہ ، میثاقِ مدینہ اور اس جیسے متعدد اقدامات فرمائے ، اسلام دین رحمت اور مذہب امن و محبت ہے جب سے روئے زمین پر ہر طرف ظلم کا دور دورہ تھا ، انسانیت ناانصافی اور حقوق سے محرومی کی زندگی گزار رہی تھیں زبردست قسم کے لوگ زیردستوں پر ، کمزوروں اور مجبوروں پر ، عرصہ حیات تنگ کر رہے تھے ، قتل و خون ریزی ، فتنہ و فساد ، تشدد اور بد امنی ، انتقام اور جنگ و جدال کا خوفناک ماحول دنیا میں چھایا ہوا تھا ایسے پر خطر حالات میں اسلام ، انسانیت کے لئے امن و محبت کی پیاری تعلیمات لے کر آیا اور پیغمبر اسلام سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امن و محبت کے سائبان تلے انسانیت کو سکون و راحت کی بیش بہا دولت عطاء کی اور نفرتوں کے ماحول کو پسند کیا ، عداوتوں سے سینوں کو پاک کیا ، ظلم و ستم سے انسانوں کو باز رکھا ، ناانصافی اور زیادتی سے منع کیا محروموں کو حقوق دلائے ، ڈرے سہمے لوگوں کو اطمینان عطاء کیا ،آنے والی انسانیت کو امن و محبت کی نرالی پیاری اور انوکھی تعلیمات سے سرفراز کیا ، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پاکیزہ تعلیمات کے ذریعے ہر اس رویے کو حرام قرار دیا ، جس سے کسی بھی انسان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہو ، سورت الحجرات آیت نمبر گیارہ اور بارہ میں کسی کے مذاق اڑانے ، کسی کو طعنہ دینے ، برے القابات سے پکارنے ، خواہ مخواہ بدگمانی رکھنے ، کسی کے عیب تلاش کرنے کو سخت حرام اور نا جائز عمل قرار دیا گیا ہے ، آج ہمارے سماج میں جو بد امنی ، بے چینی ، فتنہ و فساد برپا نظر آتا ہے دراصل نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ سے دوری کا نتیجہ ہے ، ہر شخص اپنی جان و مال اور عزت کا تحفظ چاہتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ اسے مذہبی و فکری آزادی ہو ، اور ہر شخص اپنے وطن کی آزادی و خود مختاری چاہتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہ دوسروں کے لئے بھی وہی سوچ رکھے اور ان کے ساتھ اسی رویے سے پیش آئے جن کی دوسروں سے توقع رکھتا ہے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا کے لوگ حکمرانوں سے لے کر عوام تک اور عوام سے لے کر خواص تک ہر ایک خاتم الانبیاء صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت کو اپنے لئے نمونہ عمل سمجھے اور اس پر عمل کریں اس طریقے سے دنیا سے فتنہ وفساد ختم کیا جا سکتا ہے اور امن و سلامتی کی فضا پیدا کی جاسکتی ہے ، اللّٰہ ہم سب کو سنت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیروی عطاء کرنے کی توفیق دے ، اللّٰہ ہمارے علم و عمل کو قبول فرمائے اور اللّٰہ ہم سب سے راضی ہوجائے آمین