مفتی محمد ابراہیم غفاری
مہتمم مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ
abzghifariedu@gmail.com
انسان کے زوال کی ابتدا ہمیشہ کسی بڑے گناہ سے نہیں ہوتی؛ کبھی ایک نظر سے ہوتی ہے، ایک تصویر سے، ایک تنہائی کے لمحے سے، ایک ایسی چیز سے جسے انسان یہ سوچ کر دیکھ لیتا ہے کہ میں صرف دیکھ رہا ہوں، کر تو کچھ نہیں رہا۔
مگر انسان نہیں جانتا کہ آنکھ سے داخل ہونے والی ہر چیز دل میں اپنا کوئی نہ کوئی نقش چھوڑ جاتی ہے۔
آج فحش بینی محض ایک برائی نہیں رہی، بلکہ ایک ایسا خاموش طوفان بن چکی ہے جو گھروں کے پردوں کے اندر داخل ہو رہا ہے، نوجوانوں کے خیالات کو بدل رہا ہے، نگاہوں کی پاکیزگی چھین رہا ہے، شادی شدہ زندگی کے سکون کو متاثر کر رہا ہے اور انسان کے اندر گناہ کی وہ طلب پیدا کر رہا ہے جس سے نکلنا بسا اوقات مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔
اور سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ جس چیز کو کبھی انسان گناہ سمجھ کر چھپاتا تھا، آج اسی کو تفریح، آزادی اور معمول کی زندگی کا حصہ سمجھنے لگا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن ہمیں جھنجھوڑتا ہے:
يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ
اللہ آنکھوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے اور سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی۔
ذرا سوچئے!
وہ نظر جسے دنیا نہیں دیکھتی، اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
وہ تصویر جسے آپ نے تنہائی میں کھولا، اللہ اس سے باخبر ہے۔
وہ لمحہ جس میں آپ نے دروازہ بند کیا اور موبائل کی اسکرین کھولی، وہاں بھی اللہ موجود تھا۔
پھر انسان کس سے چھپ رہا ہے؟
فحش بینی کا پہلا زخم آنکھ پر نہیں، دل پر لگتا ہے
نگاہ صرف منظر نہیں دیکھتی، نگاہ دل تک راستہ بناتی ہے۔
اسی لیے اسلام نے برائی کے آخری مرحلے پر پابندی نہیں لگائی بلکہ ابتدا ہی میں راستہ روک دیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ
اے نبی! مؤمن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہی ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔
(النور: 30)
غور کیجیے، قرآن نے پہلے نگاہ کا ذکر کیا، پھر عفت کی حفاظت کا۔
کیونکہ بہت سے گناہوں کا دروازہ آنکھ سے کھلتا ہے۔
ایک نظر دوسری نظر کو دعوت دیتی ہے، دوسری نظر خیال کو، خیال خواہش کو، خواہش ارادے کو اور ارادہ انسان کو ایسے مقام تک پہنچا دیتا ہے جہاں وہ خود اپنے نفس کا قیدی بن جاتا ہے۔
اسی لیے نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا:
"اے علی! ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ کرو، پہلی نظر تمہارے لیے ہے اور دوسری تمہارے لیے نہیں۔"
(سنن ابی داؤد)
یہ تعلیم صرف آنکھ کی حفاظت نہیں؛ یہ انسان کو اس مقام پر روک دینا ہے جہاں گناہ ابھی گناہِ عظیم نہیں بنا۔
فحش بینی آزادی نہیں، نفس کی غلامی ہے
آج کے دور میں ایک عجیب فریب پھیلایا گیا ہے کہ انسان جو چاہے دیکھے، جو چاہے کرے، یہی آزادی ہے۔
لیکن قرآن انسان سے ایک بنیادی سوال کرتا ہے:
أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ
کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟
(الجاثیہ: 23)
انسان اگر اپنی ہر خواہش کے سامنے سر جھکا دے تو وہ آزاد نہیں رہتا؛ وہ اپنی خواہش کا غلام بن جاتا ہے۔
جس نوجوان سے موبائل چھین لیا جائے اور وہ بے چین ہو جائے، جس شخص کو تنہائی میں بار بار اسی گناہ کی طرف کھینچاؤ محسوس ہو، اسے اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے:
کیا میں موبائل استعمال کر رہا ہوں یا موبائل مجھے استعمال کر رہا ہے؟
یہ سوال معمولی نہیں۔
کیونکہ گناہ جب عادت بن جائے تو انسان اسے گناہ کہنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔
فحش مناظر دل کی حیا کو کھا جاتے ہیں
حیا ایمان کا حصہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
حیا صرف لباس کا نام نہیں۔
حیا آنکھ کی بھی ہوتی ہے، زبان کی بھی، خیال کی بھی، تنہائی کی بھی اور موبائل کی اسکرین کے سامنے بیٹھے ہوئے انسان کی بھی۔
جب انسان بار بار فحش چیزیں دیکھتا ہے تو اس کے دل کی حساسیت کم ہونے لگتی ہے۔
پہلے ایک منظر اسے پریشان کرتا ہے۔
پھر وہی منظر معمول بن جاتا ہے۔
پھر اس سے زیادہ کی تلاش شروع ہوتی ہے۔
پھر گناہ میں لذت محسوس ہونے لگتی ہے۔
اور پھر ایک خطرناک مرحلہ آتا ہے:
گناہ باقی رہتا ہے، مگر دل میں گناہ کا احساس مرنے لگتا ہے۔
یہی اصل تباہی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگا دیا جاتا ہے..."
پھر اگر وہ توبہ کرلے تو دل صاف کردیا جاتا ہے، اور اگر گناہ پر گناہ کرتا رہے تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے۔
(سنن ترمذی)
پس فحش بینی کا مسئلہ صرف چند منٹ کی تفریح نہیں؛ یہ دل کے آئینے پر گرد کی تہیں چڑھانے کا نام ہے۔
شیطان ہمیشہ بڑے گناہ سے ابتدا نہیں کرتا
شیطان جانتا ہے کہ ایک مؤمن اچانک زنا پر آمادہ نہیں ہوگا۔
اس لیے وہ راستہ بناتا ہے۔
پہلے ایک تصویر۔
پھر ایک ویڈیو۔
پھر ایک صفحہ۔
پھر تنہائی۔
پھر عادت۔
پھر خواہش۔
پھر بے حیائی۔
قرآن کہتا ہے:
وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ
اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔
(البقرۃ: 168)
اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف شیطان کی پیروی نہ کرو؛ فرمایا:
شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔
یعنی اس کے راستے کے ابتدائی قدموں سے بھی بچو۔
فحش بینی کا مؤثر علاج کیا ہے؟
اس بیماری کا علاج صرف یہ کہنا نہیں کہ "مت دیکھو۔"
دل کی بیماری کا علاج دل ہی سے شروع ہوگا۔
پہلا علاج: اللہ کی نگرانی کا یقین
اپنے دل میں یہ بات بٹھائیے:
میں اکیلا نہیں ہوں۔
کمرہ بند ہو سکتا ہے، دروازہ بند ہو سکتا ہے، موبائل کی اسکرین دوسروں سے چھپ سکتی ہے، مگر اللہ کی نظر سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی۔
اللہ فرماتا ہے:
أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَىٰ
کیا انسان نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے؟
(العلق: 14)
اگر یہ آیت دل میں اتر جائے تو بہت سے گناہوں کے دروازے خود بخود بند ہوجاتے ہیں۔
دوسرا علاج: نگاہ کی حفاظت
فحش بینی سے بچنے کے لیے صرف ارادہ کافی نہیں؛ نگاہ کے راستے بند کرنا ضروری ہیں۔
غیر ضروری صفحات چھوڑ دیں۔
ایسے اکاؤنٹس اَن فالو کریں جو دل کو گناہ کی طرف لے جاتے ہیں۔
غیر ضروری تنہائی میں موبائل استعمال نہ کریں۔
رات گئے بے مقصد اسکرولنگ سے بچیں۔
کیونکہ جس دروازے سے بار بار دشمن داخل ہو، وہاں پہرہ بڑھانا عقل مندی ہے۔
تیسرا علاج: تنہائی کا علاج
بہت سے گناہ مجمع میں نہیں، تنہائی میں جنم لیتے ہیں۔
اس لیے تنہائی کو خالی نہ چھوڑیں۔
اپنی تنہائی کو قرآن سے آباد کریں، ذکر سے آباد کریں، مطالعے سے آباد کریں، کسی مفید کام سے آباد کریں۔
جو دل مقصد سے خالی ہوتا ہے، خواہشیں اس میں اپنا گھر بنا لیتی ہیں۔
چوتھا علاج: نکاح اور پاکیزہ زندگی
اسلام خواہشات کو کچلنے کا دین نہیں؛ انہیں پاکیزہ راستہ دینے کا دین ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے نوجوانوں سے فرمایا:
"اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کرے، کیونکہ یہ نگاہ کو زیادہ جھکانے والا اور شرم گاہ کی زیادہ حفاظت کرنے والا ہے۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اسلام انسان کی فطرت کو سمجھتا ہے۔
اسی لیے حرام راستہ بند کرکے حلال راستہ کھولتا ہے۔
پانچواں علاج: روزہ
جس نوجوان کو نکاح کی استطاعت نہ ہو، نبی کریم ﷺ نے اسے روزے کی طرف رہنمائی فرمائی۔
کیونکہ روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں؛ یہ نفس کی تربیت ہے۔
یہ انسان کو سکھاتا ہے کہ:
میں ہر خواہش کا غلام نہیں ہوں۔
چھٹا علاج: گناہ کے بعد مایوس نہ ہونا
شیطان کی ایک چال یہ بھی ہے کہ پہلے گناہ کراتا ہے اور پھر کہتا ہے:
"اب تم بہت گناہ گار ہو چکے ہو، اب تمہاری توبہ کیسے قبول ہوگی؟"
یہ شیطان کا دھوکا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا
کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔
(الزمر: 53)
یہ آیت ان لوگوں کے لیے امید کا دروازہ ہے جو بار بار گر کر بھی اٹھنا چاہتے ہیں۔
اگر تم سے غلطی ہوگئی ہے تو واپس آؤ۔
اگر بار بار گر گئے ہو تو بار بار اٹھو۔
اگر آج بھی کمزوری ہے تو آج ہی توبہ کرو۔
اللہ سے دور ہونے کا نام گناہ نہیں؛ گناہ کے بعد اللہ سے دور رہتے چلے جانا اصل خسارہ ہے۔
نوجوانو! تمہاری آنکھیں بہت قیمتی ہیں
اے نوجوان!
تمہاری آنکھیں اللہ کی نعمت ہیں۔
انہیں ہر منظر دیکھنے کے لیے نہیں دیا گیا۔
تمہارے دل میں نور رکھا گیا ہے، اسے ایسی تصویروں سے کیوں بھر رہے ہو جنہیں دیکھ کر تم خود اپنے آپ سے نظریں نہیں ملا سکتے؟
تمہارے پاس جوانی ہے۔
یہ جوانی ہمیشہ نہیں رہے گی۔
ایک دن یہی آنکھیں کمزور ہوجائیں گی۔
ایک دن یہی جسم قبر میں اتر جائے گا۔
ایک دن موبائل ہاتھ سے چھوٹ جائے گا۔
ایک دن وہ تمام اسکرینیں بند ہوجائیں گی جنہیں تم نے دنیا سے چھپا کر دیکھا تھا۔
اور پھر صرف ایک حقیقت باقی رہ جائے گی:
اللہ کے سامنے کھڑے ہونا۔
قرآن کہتا ہے:
يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ
جس دن چھپی ہوئی باتوں کو جانچا جائے گا۔
(الطارق: 9)
اس دن کوئی Incognito Mode نہیں ہوگا۔
کوئی Delete History نہیں ہوگی۔
کوئی چھپی ہوئی فائل نہیں ہوگی۔
وہاں صرف اعمال ہوں گے۔
والدین! صرف موبائل نہ چھینیں، دل کو قرآن دیں
اولاد کو فحش بینی سے بچانے کے لیے صرف موبائل چھین لینا کافی نہیں۔
اگر بچے کے ہاتھ سے موبائل لے لیا مگر دل میں اللہ کی محبت پیدا نہ کی تو ممکن ہے وہ کسی اور راستے سے وہی چیز تلاش کرلے۔
بچوں کو صرف یہ نہ کہیں:
"یہ مت دیکھو!"
انہیں یہ بھی بتائیں:
"اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اور وہ تمہیں پاکیزہ دیکھنا چاہتا ہے۔"
انہیں قرآن سے جوڑیں۔
مسجد سے جوڑیں۔
صالح صحبت سے جوڑیں۔
کھیل، تعلیم اور مفید مشاغل دیں۔
ان کے سوالات سنیں۔
ان کے ساتھ دوستی کریں۔
کیونکہ جس گھر میں والدین اولاد کے دل تک پہنچ جاتے ہیں، وہاں بہت سے فتنوں کو دروازے تک پہنچنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔
اور اگر تم بار بار ہار رہے ہو؟
تو اپنے آپ سے نفرت نہ کرو۔
اپنے نفس سے جنگ کرو۔
آج توبہ کرو۔
کل پھر پھسل جاؤ تو دوبارہ توبہ کرو۔
لیکن گناہ کو معمول نہ بناؤ، اور توبہ کو چھوڑو نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے ویرانے میں اپنی گم شدہ سواری مل جائے۔
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ذرا سوچو!
تم اللہ کی طرف ایک قدم بڑھاؤ، وہ تمہیں اپنی رحمت سے محروم نہیں کرے گا۔
آخری بات
فحش بینی سے نجات صرف موبائل کی سیٹنگ بدلنے سے نہیں ملے گی؛
نگاہ بدلنی ہوگی،
تنہائی بدلنی ہوگی،
صحبت بدلنی ہوگی،
مصروفیت بدلنی ہوگی،
اور سب سے بڑھ کر دل کا تعلق اللہ سے مضبوط کرنا ہوگا۔
قرآن کہتا ہے:
إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ
بے شک نماز بے حیائی اور برے کام سے روکتی ہے۔
(العنکبوت: 45)
پس نماز کو صرف فرض سمجھ کر نہ پڑھو؛ اسے اپنی پناہ بناؤ۔
جب خواہش بھڑکے، وضو کرو۔
جب نگاہ پھسلے، فوراً ہٹا لو۔
جب تنہائی گناہ کی طرف بلائے، قرآن کھولو۔
جب شیطان مایوسی دلائے، الزمر: 53 پڑھو۔
اور جب دل کہے کہ اب بہت دیر ہوچکی ہے، تو یاد رکھو:
اللہ کے دروازے پر دیر ہوسکتی ہے، مگر دروازہ بند نہیں ہوتا۔
اے اللہ!
ہماری آنکھوں کو پاکیزگی عطا فرما۔
ہمارے دلوں کو حیا عطا فرما۔
ہماری تنہائیوں کو اپنی یاد سے آباد فرما۔
ہماری اولاد کو فتنۂ نظر اور فحاشی سے محفوظ فرما۔
جو نوجوان اس آزمائش میں مبتلا ہیں، انہیں اس گناہ سے نجات دے۔
ان کے دلوں میں قرآن کا نور، نماز کی لذت، حیا کی دولت اور اپنی محبت پیدا فرما۔
اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کے بارے میں فرمایا:
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ
یقیناً مؤمن کامیاب ہوگئے، جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
(المؤمنون: 1، 5)
آمین یا رب العالمین۔